پاکستان میں ریپ کیسز کے مجرمان کے خلاف مفصل قانون بن گیا

اسلام آباد( نیل فیری نیوز)وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات کی ایک لہر اٹھی ہے اور وفاقی کابینہ نے ریپ کے واقعات کی روک تھام پر غور کیا ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران شبلی فراز نے کہا کہ ریپ اور گینگ ریپ کے ملزمان کو اکثر رہائی مل جاتی ہے تاہم وزیر اعظم نے سخت سے سخت قانون کے اطلاق کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ریپ کے ملزمان کے خلاف سخت سزاؤں کے آرڈیننس کی منظوری دے دی۔

شبلی فراز نے کہا کہ امید ہے ریپ کے ملزمان کے خلاف قانون کا مسودہ جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو 5 دن کے لیے پیرول پر رہائی سے متعلق کچھ دیر میں تصدیق ہوجائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین اور سمدھی اسحٰق ڈار کے پاکستان آنے اور بیگم شمیم اختر کے نماز جنازے میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

شبلی فراز نے ملک میں کورونا وائرس سے بڑھتے ہوئے کیسز سے متعلق کہا کہ جب ہم نے کورونا سے متعلق خبردار کیا تو اپوزیشن نے ایسے سیاسی حربہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کورونا وائرس کی دوسری لہر خوفناک ہوسکتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر سے نکل گئے تھے لیکن وبا کی دوسری لہر کے بارے میں بہت زیادہ سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان حالات میں جلسے کرنا ایک سنگین جرم ہوگا’۔

شبلی فراز نے اپوزیشن کو مخاطب کرکے زور دیا کہ ‘وہ بھی سن لیں اسلام آباد کے کچھ ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی’۔

چینی کے ملز اور ہول سیل ریٹ میں 10 سے 12 روپے کلو کی کمی آئی ہے، حماد اظہر
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ چینی مافیا کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی جائے گی جس میں پچاس ہزار کے بجائے 50 لاکھ روپے یومیہ جرمانہ رکھا جائےگا۔

حماد اظہر نے کہا کہ سوا لاکھ ٹن چینی درآمد کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ زراعت ایک بہت برا شعبہ جس میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس وقت ‘شوگر ریفارم کمیٹی’ بھی اپنا کام کررہی ہے۔

حماد اظہر نے چینی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق دعویٰ کیا کہ ایکس مل ریٹ اور ہول سیل ریٹ میں گزشتہ 10 روز کے دوران 10 سے 12 روپے فی کلو کی کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 68 روپے کلو دستیاب ہے۔

وزیر صنعت و پیداوار نے مارکیٹ ماہرین کا حوالہ دے کر امید ظاہر کی کہ آئند دنوں میں چینی کی قیمتوں میں مزید کمی آئےگی۔

انہوں نے کہا کہ اگلے چند ہفتوں تک درآمدی چینی کی سپلائی جاری رکھیں گے۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ملک بھر کے کسانوں کو گنے کی پوری قیمت ملے اور اس ضمن میں صوبائی حکومتوں نے بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی شوگر ملز مکمل گنجائش کے قریب آگئی ہیں جبکہ پنجاب میں 10 نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع ہوگی۔

22 لاکھ ٹن گندم کی کمی کو درآمد کے ذریعے پوری کی جائے گی، خسرو بختیار
علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائےغذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے کہا ہے کہ 22 لاکھ ٹن گندم کی کمی کو درآمد کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے اور اسی بنیاد پر قیمیں کم ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نومبر کے آخری ہفتے میں 2 لاکھ 95 ہزار میٹرک ٹن گندم سے درآمد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں 4 لاکھ 45 ہزار میٹرک ٹن، جنوری میں 4 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن اور فروری میں 3 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن اور مارچ میں ایک لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی سپلائی کا عمل متاثر ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم حکومتی اقدامات سے چند دنوں میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہوجائے گا۔

خسرو بختیار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں گندم کی امدادی قیمت 13 سو رہی جبکہ موجودہ حکومت امدادی قیمت کو 16 سو 50 روپے پر لائی تاکہ زمیندار اور کسان دونوں کو فائدہ پہنچے۔