عورت کا تحفظ… ازقلم زعفرین اسلم ٹائیں آزاد کشمیر

” عورت کا تحفظ ”
آج ہمارے ہاں بے روزگاری عام ہے. گھر کے ایک فرد کی آمدنی سے ضرور یات زندگی پوری کرنا نہ ممکن ہے. اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آج ہمارے معاشرے کی خواتین روزگار کمانے کی کوشش کر رہی ہیں. اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہمارے معاشرے میں ٩٠فیصد خواتین مردحضرات سے ذیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور باہمت ہیں لیکن یہ ہمت تب تک ہی قائم رہتی ہے جب تک اسی معاشرے کے مرد حضرات انھیں جنسی ہراساں نہیں کرتے.
میں اس معاشرے کے مردوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چا رہی کیونکہ یہاں بہت سے مرد ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے عورت کو ترقی کرنے کا موقع مل رہا ہے. لیکن جہاں اچھے مرد موجود ہیں وہاں برے بھی موجود ہیں. آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ عورتوں کو کیسے تزلیل، کیا جا رہا ہےکبھی آفس میں عورتوں کو عجیب غلاظت بھرے جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی عجیب وحشت بھری نظروں کا اور کبھی نوکری سے نکال دینے. کی دھمکی دے کر عورت کی عزت کو پامال کیا جاتا ہےاورایک طرف ہمارے معاشرے کا مرد اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ مرد اکیلا گھر کا خرچ نہیں اٹھا نے سے قاصر ہے اور جب عورت مرد کی مدد کرنے کی غرض سے روزگار کی تلاش میں گھر سے باہر قدم رکھتی ہے تو تب عورت کو انھی مردوں کی وجہ سےمشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے.
جیسے کہ حال ہی میں آزاد کشمیر تھوراڑسےتعلق رکھنے والی ایک طالبہ جس کا نام؛ کائنات؛ تھا اپنے گھر والوں کی مدد کے لیے ایک ادارے میں نوکری کرتی تھی. آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں. اس کے ساتھ کیا حادثہ ہوا؟ اسے قتل کر دیا گیا یا اس پر کیا ظلم ہوا یہ تو میں اور آپ کہنے سے قاصر ہیں. “کائنات” نامی طالبہ پاکستان میں “انجمن ہلال احمر” میں ملازمہ تھیں. ایک بات واضح ہے پڑھا ئ کی ساتھ ساتھ ملازمت مجبوری میں ہی کی جاتی ہے. اس طرح کی کتنی ضرورت مند طلبہ ہونگی جو جنسی ہراسمنٹ کا شکار ہونگی جن کو بلیک میل کیا جاتا ہو گا اور نہ جانے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا.
عورتوں کی آسانی کے لیے اور اس طرح کی برائیوں کے حاتمے کے لیے ٢٠١٠ میں ایک قانون بنایا گیا جو کہ اداروں کے اندر اپنا خود کا نظام کسی ادارے میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو ثقافتی طور پر حساس پلیٹ فارم مہیا کر ے گاجس کے ذریعے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایات دائر کی جا سکیں گی. اس نظام میں ایک ادارے کے اندر ایک ضابطہ اخلاق اور ایک تین رکنی کمیٹی موجود ہے جو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف شکایات کو موثر طور پر نمٹا سکے گی
آزاد کشمیر تھوراڑ نڑھ سے تعلق رکھنے والی طالبہ “کائنات” کے ساتھ جو کچھ ہوا ہم سب کو افسوس کے ساتھ ساتھ اس کی سخت مذمت کرنی چاہئے. کل آپ کی بہن، بیٹی, بیوی، بہو غرض کوئی بھی لڑکی اس طرح کے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے. لیکن عورت کا محافظ کو ن ہے؟ اس کے تحفظ کی ذمہ داری کس پے ہے؟ یہ ذمہ داری عورت کی خود پر ہے جی ہاں عورت کو خود اپنا خیال رکھنا ہوگا. خواتین سے میری گزارش ہے اس طرح کے حادثوں سے ڈر کر گھر میں سہم کے نہ بیٹھ جانا بلکہ اپنے حقوق کا صحیح استعمال کرنا
سیکھیں. ہم خواتین کے تحفظ کے لیے حکومت پاکستان نے
جنوری 2010 کو
تعزیرات پاکستان کے سیکشن ٥٠٩ میں ایک ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت نہ صرف کام کرنے کی جگہوں بلکہ ہر جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کو جرم قرار دیا گیا ہے. اس جرم کی سزا “٥لاکھ روپے تک جرمانہ اور تین سال کی قید یا بہ یک وقت دونوں ہو سکتی ہیں”.
یہاں اس بات کو زیر بحث میں اس لیے لا رہی ہوں کہ ھم عورتوں کے خفاظت کے لیے جب ہمارے ملک نے قانون بھی بنا دیا سزا بھی مقرر کر دی گئی تو کیوں ہم خواتین ظلم برداشت کر رہی ہیں. ملازمت کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن آپ اپنے اوپر ظلم برداشت کریں یہ غلط ہےجبکہ ہمارے پاس اس سب سے بچنے کے لیے وسائل بھی موجود ہیں. آج ہم جس معاشرے میں رہ رہی ہیں ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے. آج سوشل میڈیا جیسی سہولیات موجود ہیں اس دور میں کم از کم ہمیں کسی کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے ہمیں اپنی مدد آپ کرنی چاہیے. اگر ہم عورتیں اس طرح کے معاملات میں چپ رہیں گی تو ہمیں بچانے کے لیے یا ہماری مدد کے لیے کوئی کچھ نہیں کر سکے گا نہ کوئی تنظیم اور نہ کوئی قانون. انسان جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے آج جو مرد عورتوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں جنسی ہراساں یا کسی بھی طرح کی ظلم وذیادتی کرتے ہیں کل یہ سب انکو لٹایا جائے گا کل انکی بہنوں ، بیٹیوں کو سہنا پڑے گا. جس شخص کو اپنے گھر کی عورتوں کی فکر ہو گی وہ کبھی بھی دوسروں کےگھر کی عزت کو پامال نہیں کرے گا. مگر انسان فطرتاً ایک جانور ہے جب اسکی حوانیت جاگتی ہے تو “زینب قتل کیس، موٹر وے حادثہ، کائنات قتل کیس” جیسے حادثے سامنے آتے ہیں. بہتر یہی ہوگا کہ ہم خواتین ایسی حوانیت سے بچنے کے لیے اپنی حفاظت خود کرنا ہو گی. اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہو گی جب ایک عورت اپنی حفاظت کا ذمہ خود اٹھا لے گی تو یقیناً ایسے حادثے کم ہو نگے

! اے بنت آدم زرا سن
تجھے نام دیا گیا، مقام دیا گیا
شہر ت دی گئ، رتبہ دیا گیا
طاقت دی گئی، محافظ دیا گیا
تیری ہمت پر تجھے انعام دیا گیا
ذرا خود کو پہچان، ذرا قدم تو اٹھا
کیوں ہو سہمی سی؟ کیوں ہو ڈری سی؟
تیری نظر کا جھکا نا بجا ہے لیکن ذرا سر تو اٹھا
پر یا د رکھ پہلا حکم تو ابن آدم کو ہوا تھا
ذرا خود کو سنبھال، تجھے مقام دیا گیا
نہیں محروم توں، تجھے تو حق دیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں