سردار تنویر الیاس آزادکشمیر کی سیاست میں خوش آئند انٹری. سردار افتخار احمد

انسانوں کی کچھ خصوصیات انہیں جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں اور ان میں سے ایک انسانی معاشروں میں لیڈرشپ یعنی قیادت کا پیدا ہونا ہے۔ قیادت کا بنیادی کام یہ ہے کہ انسانوں کو درست رہنمائی فراہم کی جائے اور ان کے مسائل کا آسان حل دیا جائے۔ اگر قیادت باشعور، باصلاحیت اور دیانت دار ہو تو انسانی مسائل کے حل کے لیے کام کرتی ہے نیز انسانی معاشروں میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بنتی ہے۔ انسانی معاشرے کی قیادت کرنا بہت بڑی ذمہ داری کا منصب ہے کیوں کہ اس راستے کے بہت سے اندرونی و بیرونی چیلنجز ہوتے ہیں جن سے عہدہ برآ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیادت کا منصب اہل لوگوں کے پاس ہو۔ یہ اہلیت بہت سی ایسی خصوصیات کا تقاضا کرتی ہے جو کہ حقیقی قیادت میں موجود ہونی چاہئے۔ قیادت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ فردِ واحد کا نام قیادت نہیں بلکہ یہ ایک جماعت کا نام ہے۔ کسی معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک فردِ واحد نہیں کر سکتا۔ ایک فرد خواہ کتنی ہی اعلیٰ صلاحیت اور کردار کا مالک کیوں نہ ہو۔ وہ اکیلا قیادت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت عوام کو درکار رہنمائی اور ان کے مسائل کا حل ایک باشعور، باصلاحیت اور مخلص اجتماعیت ہی کر سکتی ہے اور وہی حقیقی لیڈرشپ کہلانے کی حقدار ہے۔ اس کے برعکس ازاد کشمیر میں ایک مغالطہ موجود ہے کہ قیادت سے مراد وہی افراد ہیں جو عوام کواپنے اپنے رجحانات کے مطابق قاہل کرکہ اپنے اپ کو واحد لیڈر مان لیتے ہیں اور عوام اسی کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ یہ “لیڈرز” اپنی ذات کو حقیقی لیڈرشپ کا درجہ دے کر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کی توجہ ان مفاد پرست گروہوں کی طرف نہیں رہتی جو مختلف شخصیات کے گرد جمع ہو جاتی ہیں۔ درحقیقت ایسی تمام شخصیات انہی گروہیتوں کی آلہ کار بن کر ان کے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے خاندان کے مفادات کو پورا کرتی ہیں۔ ایسے “لیڈرز” کی عوام میں مقبولیت کی بنیاد مختلف عوامل ہو سکتے ہیں جیسے کہ آزاد کشمیر کے مخصوص سیاسی ڈھانچے کے تناظر میں حکمران طبقات کی پسندیدگی، کرشمہ ساز شخصیت، مخصوص حکمران خاندانوں سے تعلق، زندگی کے کسی ایک شعبہ میں کامیاب کارکردگی، عوامی مسائل پر مبنی نعروں کا بے دریغ استعمال، فنِ تقریر میں مہارت وغیرہ وغیرہ۔ عوام کی سیاسی حوالے سے شعوری تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے “لیڈرز” آسانی سے عوام کی ایک بڑی تعداد کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان سے اندھی تقلید و غیر متزلزل یقین حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسے نعروں کی آواز سنائی دیتی ہے کہ “ہمیں منزل نہیں، رہنما چاہیے”
اور ایسے رہنماء کے لئے سردار تنویر الیاس خان کا نام ازاد کشمیر کے ایوانوں میں گونج رہا ہے اور شنید ہے کہ وہ ازاد کشمیر کے الیکشن میں بڑا کردار ادا کرنے والے ہیں جس کی وجہ سے مفاد پرست گرہو مشکلات کا شکار نظر ا رہا ہے
ہمارے ملک میں موجود بڑی سیاسی جماعتیں ایسے ہی مفاد پرست گروہ ہیں جو کسی نہ کسی ایک لیڈر کے گرد جمع ہو کر اپنے ذاتی و گروہی مفادات پورے کرتے ہیں
لیکن اب چونکہ لوگوں کے ذہین تبدیل ہو چکے ہیں اور عوام چاہتی ہے کہ کوئی ایسا لیڈر ملے جو عوام کو ریلیف مہیا کرے
اور کشمیر کاز کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی مہیا کرے یہ بات چند عناصر کو پسند ہے

سردار تنویر الیاس صاحب صوبہ پنجاب انوسٹ بورڈ کے چئرمین بھی ہیں ور وزیر اعلی کے معاون خصوصی بھی جو ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے ، اب اگر کچھ صاحبان کو یہ اچھا نہیں لگتا تو اس کا کیا حل ہے ، ، ام الیاس اسپتال سمیت دیگر بے شمار منصوبہ جات تنویر صاحب کی ذاتی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ،،،
سینٹوریوس کی منیجمنٹ سے لیکر سیکورٹی تک کشمیر کے لوگ ہیں ، جو انکے بس میں ہے وہ کر رہے ہیں ،،
مجھے یہ کہنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ ازاد کشمیر میں اج جو خوشحالی یا بہتری ائی ہے اس میں اس گھرانے کا بڑا حصہ ہے ورنہ سیاسی طور پر ہمیں پسماندہ رکھنے میں ہمارے بڑے بھائیوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی
تمام لوگوں کو بلا تفریق باہر نکل کر سردار تنویر الیاس کو خوش امدید کہنا چائیے کیونکہ یہ ان حق ہے اور ہمارا فرض
کچھ احباب ان کے ازاد کشمیر الیکشن کی وجہ سے اتنے پریشان ہیں کہ ان کو خیال وہ ان کے کسی حلقہ سے الیکشن لڑیں گے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں دستور کے مطابق سردار تنویر الیاس ازاد کشمیر کے کسی بھی حلقہ سے الیکش میں حصہ لے سکتے ہیں جسطرح ممتاز حسین راٹھور مرحوم اور سردار عبدالقیوم مرحوم نے مظفر اباد سے اور شاہ غلام قادر نے نیلم سے الیکشن میں حصہ لیا جہاں عوام کی پزیرائی حاصل ہو وہاں سے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ازاد کشمیر کے عوام کی خواہش کہ سردار تنویر الیاس الیکشن میں حصہ لیکر عوام اور ازاد کشمیر کے عوام کی بھرپور نمائیدگی کریں
قائد سے مراد ایک ایساشخص ہوتا ہے جب اسے کوئی ذمہ داری یا عہدہ عطا کیا جائے تووہ اسے اپنے منصب کے شایان شان انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قیادت کوئی آسان اور معمولی کام نہیں ہے کہ جس کی انجام دہی کی ہر کس و ناکس سے توقع کی جائے۔قیادت کاہردم اندرونی و بیرونی چیلنجز سے سامنا ہوتا رہتا ہے ۔ ان چیلنجز سے عہدہ براں ہوکر ہی قیادت اعتماد ،استحکام اور قبولیت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔گوناں گوں مسائل اور چیلنجز کے باعث قیادت کی باگ ڈور ہمیشہ اہل افراد کے ہاتھوں میں ہونا بے حد ضروری ہے۔ سردار تنویر الیاس سے بہتر قیادت کی صلاحیت کسی دوسرے میں نہیں اٹھ وزارتوں کے پنجاب اسمبلی کے صوبائی وزیر رہے ان کے تجربات اور سیاست سے ازادکشمیر کے عوام کو مستفید ہونا چاہئے تاکہ خطہ میں تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھل سکیں اگر سردار تنویر الیاس کے تعلقات حکومت پاکستان سے ہیں تو وہ ازاد کشمیر حکومت اور وقاق کے درمیان پل کا کرار اد کریں گے وہ اگر پاکستان کے سب سے زیادہ گنجان اباد صوبہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں تو ازاد کشمیر کی تعمیر وترقی بہتری اور حکومت سازی میں کلیدی کردار اد کر سکتے ہیں کچھ غیر سیاسی سابقہ نوکری پیشہ اپنی خفگی کا اظہار پتہ نہیں کیوں کر رہا ہے حالانکہ پاکستان کے اندر جب دشت گردی تھی اس وقت بزنس مین اپنا کاروبار دوسرے ملکوں میں شفٹ کر رہے تھے ان نامساعد حالات میں بھی سینوریس جسے پراجکٹ کو لانچ کر کہ پاکستانی معشیت کو دوام بخشی ایسے سیاسی قائدین کو اگر وہ ازاد کشمیر میں اپنا کوئی رول پلے کرنا چاہتے ہیں تو سب کو چاہئے ان کو خوش امدید کہے تاکہ کشمیر میں تعمیر وترقی کے ساتھ سا تھ صنعت کو بھی فروغ دیا جاسکے ائیدہ انے والے انتخابات میں ایسی لیڈر شیپ کا انتخاب کریں جو کرپشن سے پاک ہو جو عوام کی بہتر رہنمائی و خدمت کر سکے اور واحد شخصیت سردار تنویر الیاس ہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں