بے قصور ”بابا جان”سمیت تمام اسیران علی آباد ہنزہ رہا

گاہکوچ گلگت (نیل فیری رپورٹ )گاہکوچ جیل سے بابا جان اور افتخار کربلائی، غلام عباس کی رہائی کے بعد گلگت بلتستان میں اسیران علی آباد ہنزہ کی مرحلہ وار رہائی کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے ۔ جمعہ کو تینوں سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے .جبکہ قبل ازیں منگل کے روز پانچ سیاسی اسیران کی رہا ئی ہوئی تھی، بابا جان اور افتخار کربلائی اور غلام عباس کی رہائی کے بعد مجموعی طور پر رہا ہونے والے سیاسی رہنماؤں کی تعداد 14 ہو گئی ہے .
منگل کے روزرہائی پانے والے سیاسی اسیران میں عرفان کریم، عامر علی، احمد خان، سرفراز احمد اور شیر خان شامل تھے۔ چند روز قبل 21 نومبر کو چار اسیران کو رہا کیا گیا تھا جن میں عرفان علی، علیم اللہ، موسیٰ بیگ اور شکور اللہ بیگ شامل تھے جبکہ دو نوجوانوں سلمان کریم اور راشد منہاس کو گزشتہ ماہ 22 اکتوبر کو رہا کیا گیا تھا۔

ان سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی، قتل اور دیگر دفعات کے تحت چالیس سے ستر سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ ان سزاؤں کے خلاف گزشتہ لمبے عرصہ سے اندرون و بیرون ملک احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔ گزشتہ ماہ اکتوبر میں علی آباد ہنزہ کے عوام نے شدید سرد موسم میں سات روز کا طویل ترین احتجاجی دھرنا دیا تھا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین، بچوں، بزرگوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکام نے مذاکرات کے بعد سیاسی اسیران کو مرحلہ وار رہا کرنیکی یقین دہانی کروائی تھی۔ سیاسی رہنمائوں کی رہائی ہنزہ کے گذشتہ ماہ ہونے والے تاریخ ساز جدوجہد کے نتیجے میں ہوئی ہے ، سیاسی اسیران کی رہائی کے بعد گلگت بلتستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے .

واضح رہے کہ اگست 2011ء میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کو معاوضہ جات اور رہائش کی جگہ فراہم کرنے کے مطالبہ پر بابا جان اور افتخار کربلائی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں شریک مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کی زد میں آکر دو مظاہرین کی موت ہو گئی تھی۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ مظاہرین کے خلاف درج کرتے ہوئے چودہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ چار سال قبل چودہ افراد کو دہشت گردی، قتل اور دیگردفعات کے تحت چالیس سال سے ستر سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

نو سال تک قید بامشقت کاٹنے والے بابا جان اور ان کے ساتھیوں نے سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی لیکن گزشتہ چار سال سے اپیل پر سماعت نہیں ہو رہی تھی۔ دنیا بھر میں بابا جان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے مطالبات کئے جا رہے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں