حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، محمدضیاء الرحمن (خرقہ پوش)

عبداللہ صومعی خود متقی و صاحب کرامت ولی تھے لیکن وہ بھی اس نے نوجوان کے تقوی و پرہیزگاری سے متاثر اس کو مسلسل دیکھتے جا رہے تھے. ابو صالح موسی نامی یہ نوجوان ندی میں تیرتے ہوئے اس سیب کی معافی و تلافی کا طلبگار تھا جو اس نے بھوک کی شدت سے نڈھالی کی صورت میں مالک کی اجازت کے بغیر حالت اضطراب میں کھا لیا تھا. عبداللہ صومعی نے کچھ سوچتے ہوئے دو شرطیں نوجوان درویش کے سامنے رکھیں. ایک یہ کہ کچھ عرصہ تک وہ باغ کی نگہداشت کرے گا اور دوسری شرط مقررہ وقت ختم ہونے پر بتائی جاؤ گی. خلوص دل اور جانفشانی سے باغ کی دیکھ بھال کرتے ہوئے نوجوان نے وقت مقررہ گزارہ ہی تھا کہ بزرگ نے اپنی اندھی،بہری،لنگڑی بیٹی سے شادی کرنے کے بدلے ایک معمولی سیب کھانا معاف کرنے کی شرط رکھی. آخرت میں سزا سے بچنے اور اللہ پاک کی پوشیدہ حکمتوں پر ایمان رکھتے ہوئے نوجوان نے نکاح کر لیا. بعد از نکاح اپنی زوجہ کو بزرگ کے بتائے ہوئے حلیے کے برعکس انتہائی حسین و جمیل پایا. جب ابو صالح نے بزرگ سے دلہن کے مختلف ہونے کا بتایا تو عبداللہ دلنواز تبسم چہرے پہ سجائے فرمایا کہ ان کی بیٹی فاطمہ نے آج تک کسی نا محرم کو نہیں دیکھا, حق کے سوا کچھ نہیں سنا اور اس کے پاؤں برائی کی طرف کبھی نہیں گئے اس لیے یہ اندھی بہری اور لنگڑی ہی ہے۔ نوجوان نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا اور نوبیاہتا جوڑا ہنسی خوشی رہنے لگا. اخیر عمری میں اللہ تعالی نے ان کو ایک بیٹے سے نوازا جسے دنیا والے آج حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتے ہیں۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ 470ہجری جیلان میں پیدا ہوئے۔ آپ حسنی حسینی سید ہیں. والد محترم کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور والدہ محترمہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جس دن آپ پیدا ہوئے اس دن قرب و جوار میں سبھی لڑکے تولد ہوئے اور سبھی نیک و پرہیزگار بنے. آپ مادر زاد ولی تھے. شیر خواری میں ہی آپ کے ولی ہونے کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں جیسا کہ آپ ماہ رمضان میں دودھ نہیں پیا کرتے تھے. لڑکپن میں جب کبھی آپ دوسرے بچوں کیساتھ کھیلنے کے لیے جاتے تو الی مبارک (اے برکت دیے ہوئے میری طرف آ) کی آواز غیب سے آتی اور آپ ڈر کیمارے والدہ ماجدہ کی گود میں چلے جاتے. کم سنی میں ہی آغوش پدری سے محروم ہو گئے تو آپ کے نانا نے اپنے کنار عاطفت میں لے لیا۔

آپ کی والدہ ام الخیر فاطمہ اور نانا عبداللہ صومعی نے آپ کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی. لیکن علم کی تشنگی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی. آخر والدہ محترمہ سے اجازت لے کر علم و فضل اور تہذیب و تمدن کے مرکز بغداد کی طرف ایک قافلہ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔والدہ نے آپ کے والد کے ترکہ میں چھوڑے ہوئے اسی دینار میں سے بیس آپ کی گدڑی میں بغل کے نیچے سی دئیے. جب قافلہ ہمدان سے تھوڑا آگے بڑھا تو ڈاکو حملہ آور ہوئے اور مال اسباب لوٹنا شروع کر دیا. کچھ ڈاکو آپ کے پاس بھی پوچھنے آ? تو آپ نے ان کو بتایا کہ میرے چالیس دینار ہیں. ڈاکو بات کو جھوٹ اور مذاق سمجھتے ہو? سردار کے پاس لے گئے. قصہ مختصر آپ نے دیناروں کی موجودگی کی نشاندہی کی تو سردار جس کا نام احمد بردی تھا بہت حیران ہوا اور حضرت کے سچ سے متاثر ہو کر اس نے اور باقی سب ڈاکوؤں نے توبہ کی, ڈکیتی چھوڑی اور سچے مسلمان بن کر بقیہ زندگی گزاری۔
چار سو میل سے زیادہ پیادہ پا سفر, راستے کی مشکلیں و مصیبتیں صبر کے دامن سے لپٹے ہوئے۔برداشت کیں اور بغداد پہنچے۔قحط،تنگدستی اور فاقوں میں جس طرح حصول علم کی خاطر آپ نے توکل الی اللہ اور فقر کی چادر اوڑھے اس شہر میں وقت گزارا اس کے بارے آپ فرماتے ہیں کہ اتنی سختیاں اگر پہاڑ پر پڑتیں تو وہ بھی پھٹ جاتا. جب مصیبتیں ہر طرف سے گھیر لیتیں تو آپ زمین پر لیٹ کر ”ان مع العسر یسرا” بار بار پڑھتے اور جب اٹھتے تب سکون محسوس کرتے. غوث پاک کی جگہ اگر کوئی اورشخص ہوتا تو اپنا ذہنی توازن کھو دیتا. لیکن آپ نے صبر کا دامن کبھی نہ چھوڑا اور آخر لمبا عرصہ قیام کے بعد آپ نے نہ صرف فقہ بلکہ علوم قرأت, تفسیر, حدیث, انساب, کلام, تاریخ, لغت, ادب و نحو, عروض اور فراست پر بھی دسترس حاصل کر لی. اس کے بعد علوم طریقت کیلیے آپ حماد بن مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے پاس حاضر ہوئے۔آپ نے شیخ ابو سعید مخزومی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کی. کامل 25 سال ریاضات و مجاہدات میں گزارے. بالآخر آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا جس کے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اس کا حکم فرمایا۔

آپ کی حیات مبارکہ میں لوگ دنیا طلبی میں مستغرق تھے, امراء حکومت کے نشے میں بدمست و سرشار, علماء جاہ پسندی میں مشغول اور صوفیا طریقت کو شریعت سے الگ کرنے میں مشغول تھے. خلفاء وقت کی عیش آرائیوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا جذبہ ایمانی دن بدن کمزور ہوتا جا رہا تھا. ان حالات میں غوث اعظم نے مسلمانوں کی راہبری و دینی رہنمائی کا بیڑا اٹھاتے ہوئے وعظ و نصیحت,اشاعت اسلام اور تجدید دین کے لیے کمر کس لی. جمعہ, یکشنبہ اور سہ شنبہ کو آپ کا درس ہوا کرتا تھا جس میں عام و خاص, علماء, فقہاء, فقراء, فصحاء اور بڑے بڑے نامور مشائخ غوث پاک کے یزدانی الہامات اور سبحانی ارشادات سے دلوں کو منور کرنے کے لیے حاضر ہوتے. کئی افراد کا دوران وعظ شمشیر محبت سے جگر شق ہو جاتا اور موت کی آغوش میں جا پہنچتے. یہ مجمع ستر ہزار تک پہنچ جایا کرتا تھا. یہ آپ کی کرامت تھی کہ مجلس کے آخر میں بیٹھا ہوا شخص بھی اتنا ہی واضح سنتا جتنا کہ منبر کے ساتھ بیٹھا شخص. آپ کے دروس گمراہی اور فسق و فجور میں لتھڑے ہوئے سیاہ دلوں کو ضیا? ایمانی سے روشن کرتے رہے. آپ نے تجدید و احیائے دین کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی. اسی لیے آپ کو محی الدین کے لقب سے نوازا گیا. آپ کے خطبات سے آج بھی لوگ اپنے زخموں کا مرہم, مغالطوں کا ازالہ اور سوالات و شبہات کا جواب پاتے ہیں۔

حضرت شیخ انتہائی نفیس اور مہنگا کپڑا دور دراز کے علاقوں سے منگوا کر زیب تن کیا کرتے تھے. عموما ہر صبح لباس تبدیل کرتے اور پرانا لباس اسی وقت خیرات کر دیتے. آپ کی غذا بہت سادہ ہوا کرتی. دن میں عام طور پر صرف ایک دفعہ کھانا کھاتے. اکثر روزے سے ہوتے. شب بیداری آپ کے معمولات میں سے تھی. بہت مہمان نواز اور سخی طبیعت کے مالک تھے. اوصاف حسنہ کا مجسمہ تھے. محاسن اخلاق سے متاثر ہو کر سینکڑوں غیر مسلم اسلام کی حقانیت کے قائل ہو کر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔دنیا میں آپ کی شہرت کا ڈنکا بجتا تھا لیکن آپ اتنے منکسرالمزاج تھے کہ گھر کے کام کاج خود ہی کر لیا کرتے. دوران سفر جہاں قافلے کا پڑاؤ ہوتا خود آٹا گوندھتے اور روٹیاں پکا کر لوگوں کو پیش کرتے۔
آپ کا ایک مشہور قول ہے کہ میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے. اس کو بہت سے آپ کے ہمعصر اولیاء نے نقل کیا ہے. مفسرین اس قول میں قدم سے مراد طریقہ لیتے ہیں, یعنی آپ کا طریقہ اور فتوحات اپنے ہم عصر اولیاء سے اعلی ہیں. اور یہ کہ اس کے مخاطب صرف اولیاء وقت ہیں. اولیاء متقدمین و متاخرین اس حکم سے خارج ہیں. جہاں تک آپ کی کرامات کا تعلق ھے ان کا احاطہ کرنا مشکل ہے. حتی کہ خلیل بلخی, شیخ المشائخ ابو عبداللہ, ابو بکر حرار, شیخ ابو بکر بطاحی اور شیخ ابو عبداللہ بن احمد بن موسی جیسے ناور بزرگوں نے آپ کی پیدائش سے قبل آپ کے صاحب کمال ہونے کی گواہی دی. آپ کی کرامات جس تسلسل و تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا. یہ آفتاب غوثیت 561 ہجری, 11 ربیع لثانی بروز سوموار 91 سال کی عمر میں غروب ہوا. لیکن فتوح الغیب اور غنیتہ الطالبین اور آپ کے خطبات کی شکل میں آپ کی تعلیمات, کردار کی لازوال مثالوں, دین کی بھلائی اور جو نئی روح اس میں پھونکی اس سے لوگوں کیدلوں میں گھر کر جانے والا آپ سے محبت و عقیدت کا سورج کبھی غروب نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں