کائنات طارق ، وہ جو تاریک راہ میں ماری گئی.. مہوش سردار

گذستہ دنوں انٹرنیٹ سکرولنگ کرتے ہوئے اچانک ایک گروپ میں ایک جواں سال انتہائی خوبصورت لڑکی کی لاش کی تصویر دیکھی اور ساتھ ہی جو تفصیل معلوم ہوئی کے ہلال احمر کے سیکرٹری خالد بن مجید کا اپنے ہی ادارے کی ملازمہ کائنات طارق سکنہ تھوراڑ پونچھ آزادکشمیر کیساتھ مراسم تھے ،اور لڑکی شادی کرنا چاہتی تھی ،لیکن گزشتہ روز طارق بن مجید کی طرف سے شادی سے انکار پہ دوشیزہ کائنات نے زہریلی گولیاں کھالیں، انکو فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا ،پولیس کو بیان ریکارڈ کرانے کے بعد کائنات چل بسی،پولیس نے خالد بن مجید کو گرفتارکرکے انکا موبائل قبضہ میں لے لیا،خبر کیمطابق خالد بن مجید صلح کی کوششیں کررہے ہیں اور کچھ تفصیلات کے مطابق خاتون نے خفیہ شادی کی ہوئی تھی لیکن وہ انتہائی ذہنی کرب اور اذیت کا شکار تھی۔ والدین کے مطابق وہ حاملہ ہو چکی تھی جسکی وجہ سے وہ خا د مجید سے شاہد اس تعلق کو لیگل کرنے یا پھر اسے اوپن کرنے کے لئیے زور دے رہی تھی۔۔اور جب خالد مجید کیطرف سے اسے کوئی پازیٹو رسپانس نہ ملا تو اسکے بعد اس نے اسی میں غنیمت سمجھا کے وہ زہر کھا کر خود کو ختم کر لے۔۔۔ یہ تو اجکل سوشل میڈیا کا دور ہے کوئی بات چھپتی نہیں اور ہمیں فورا سے پہلے ملزم تک پہنچنے میں بھی آسانی ہو جاتی ہے۔۔لیکن ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جنکی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔۔ ویسے تو یہ سارا ہی واقعہ انتہائی افسردہ کر دینے والا تھا لیکن آزاد کشمیر کا نام پڑھ کر مجھے یہ تکلیف اس لئیے ہوئی کے ہمارے ازاد کشمیر کی بیشتر بچیاں اور خواتین راولپنڈی اسلام آبادمیں اعلی تعلیم اور کچھ بننے کے خواب لیکر آتی ہیں کچھ تو خیر کامیاب ہو جاتی ہیں لیکن اکثریت یہاں ان بھیڑیوں کا شکار ہو جاتیں ہیں جو تمام اداروں میں ہائی لیول پر بیٹھے ہوتے ہیں۔۔ ایسی صورتحال میں ایک لڑکی مجموعی طور پر کیا محسوس کرتی ہے وہ کسی کو بھی بیان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔ کائنات طارق جیسی نہ جانے کتنی ہی بیٹیاں ہیں جو اعلی مقام تک پہنچنے کے خواب دیکھتی قبر میں اتر جاتیں ہیں۔۔ میں نے اپنے زندگی کے سات سال ہاسٹل میں گزارے۔۔ماسٹرز سے لیکر ایم فل اور جاب کے دورانئیے کے دوران میں نے اپنی انکھوں سے نا صرف کئی واقعات دیکھے بلکہ خود بھی بہت کچھ فیس کیا۔۔اس لئیے کہانی کے پس پردہ عوامل کے اوپر اگر بات کی جائے تو جہاں کائنات طارق اور اسکے گھر والے اس چیز میں برابر کے قصوروار تھے وہاں پر ہر ادارے اور کام کرنے والی جگہ کا ہر وہ فرد اس سب میں برابر کا شریک ہوتا ہے جو جہاں کسی کو زرا سی گنجائش فراہم کر دیتا ہے۔۔ اب اس سارے معاملے کا اختتام اسی بات پر ہو گا کے کائنات نے ایسا تعلق بنایا ہی کیوں۔۔؟؟؟ قطع نظر اس بات سے کے کائنات قتل ہوئی یا اس نے خود کشی کی یہاں عورت ہی قصوروار ٹھہرائی جائے گی۔۔ اور ایسا ہر اس جگہ ہو گا جہاں اس مرد کی چشم پوشی کرنے والے چار مرد ،عورتوں سمیت موجود ہوں گے۔کائنات طارق جب گھر سے نکلی تو نمل جیسی یونیورسٹی میں یقینا وہ اپنے بابا کے لئیے ایک نام بنانے کا خواب لیکر ساتھ آئی ہو گی۔۔ ہم جس معاشرے اور علاقے یا خطے مین اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں وہ ہماری اپنی خواہش کے مطابق کم جبکہ دوسروں کے خواہشات اور رسم و رواج کے مطابق زیادہ ہوتی ہیں۔۔ اسی وجہ سے اکثریت اپنے بچوں بچیوں کو اعلی تعلیم کے لئیے بہتر سے بہترین کی دوڑ میں شامل کر دیتے ہیں۔۔اب راولپنڈی اور اسلام اباد کے تمام پرائیوٹ ہاسٹلز ایک طرح سے تمام پاکستان کے کونے کونے سے آئے مرد و خواتین کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔۔ اکثر لڑکیاں گھروں سے انتہائی اعلی خواب لیکر ہاسٹلز میں مقیم ہوتی ہیں اگر تو کسی اچھی کمپنی میں آ جائیں اور والدین کی سرپرستی موجود رہے تو وہ باعزت طریقے سے اعلی تعلیم مکمل کر کے گھروں کو واپس چلی جاتیں ہیں۔۔ لیکن اکثریت آزاد کشمیر کے ماحول سے اسلام اباد میں آ کر یہاں کی ایلیٹ کلاس کی چکا چوند سے متاثر ہو کر گھر بار سمیت اپنی عزت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔۔ والدین اگر ضروریات پوری کر سکیں تو ٹھیک نہیں تو بڑے شہروں میں ایسے بے انتہا لوگ بیٹھے ہیں جو کسی کی بھی مجبوری سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔۔ ایک تو ہم بدقسمت ریاست آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں جہاں ہماری خواتین مردوں کے مقابلے میں انتہائی تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں لیکن 45 لاکھ ابادی والی ریاست اپنے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خواتین کو باعزت روزگار میسر کرنے سے قاصر ہے۔۔ نتجہ اکثریت تعلیم یافتہ خواتین اپنے گھریلو حالات اور کچھ نام بنانے کا شوق لیکر وہ بڑے شہروں میں مقدر اور رزق تلاش کرنے نکلتی ہیں تو اس معاشرے کے گدوں کے ہاتھوں مالی اور جذباتی دونوں طرح سے شکار ہو جاتی ہیں۔۔ میں نے ابتدائی کرئیر میں این جی او کی جاب کی تھی جس میں ایک دفعہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کے ایک بچی جو کے صرف ابھی بی ایس سی کی طالبہ تھی گھر چھوڑ آ گئی تھی کے اسے گھر کی پابندی پسند نہیں تھی۔۔ اب 2015 میں گھر سے بھاگ کر انے والی طالبہ نہ تو موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی نہ ہی اسے کسی اور قسم کا ایسا ٹول میسر تھا جسکی وجہ سے وہ مختلف چیزوں سے اگاہ ہوتی ہے۔۔ اسے صرف ماڈل بننے کا شوق تھا۔۔اور وجہ جس نے اسے ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کیا وہ اسکے گھر کی سختی تھی۔۔ اب خواہشات ہو یا کسی بھی قسم کی اپنی زاتی خواہشات یہ انسان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور تو کرتی ہی ہیں لیکن یہ اس ناقابل تلافی نقصان کیطرف لے جاتی یے جو کے کسی بھی خاندان کو انتہائی بدنامی سے دوچار کر دیتا ہے۔۔ لیکن مرد اس معاشرے میں حاکم ہونے کے باوجود عورت کا استحصال کرتا ہے اور دھڑلے سے کر کے ہمیشہ خود کو بچا لیتا ہے۔۔اخر کب تک۔۔ ؟؟ ہم نے اپنے مردوں کو آج دن تک یہ نہیں کہتے سنا کے یار کسی کی بیٹی کو ناجائز تعلق میں نہ باندھو۔۔ نکاح والے خفیہ تعلق قائم نہ کرو۔۔۔ اور کسی کی بیٹی سے اسکے خواب مت چھینو۔۔جس کو بھی دو عزت دو ہاں ہم نے ایسے معاشرے کو ضرور فروغ دیا ہے جس میں اگر مرد کسی عورت پر ٹھڑک جھاڑے تو دس افراد اسکی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں۔۔ کوئی جاب کے چکر میں کوئی بزنس کی آڑ میں اور کوئی اپنی بیوی یا معشوقہ بنا کر ہمشہ ایک عورت کو جذباتی طور پر یرغمال بنا لیتا ہے۔۔اور ہوتا کیا ہے۔۔ مرد اسی عورت کی سیڑھی بنا کر استعمال کرتا ہے اسی پر قدم رکھ کر اپنے غرور کو لیکر اوپر چڑھتا ہے اور معاشرے سے داد وصول کر کے اسی عورت کو بدنامی کی کھائی میں دھکیل کر خود مزید نئی راہیں دیکھینا شروع کر دیتا ہے۔۔ اور کائنات طارق جیسی لڑکیاں اپنے جذبات اور خواہش کے منہ زور تھپیڑے برداشت کرنے کی سکت جب کھو دیتی ہیں تو چند زہر کے نوالے کھا کر اس دنیا میں بیٹیوں کو سبق دے جاتیں ہیں کے مرد اپنی ہوس کا بھوکا ہوتا ہے۔۔اسے کسی کی زندگی کی خوشیاں اور خوابوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔۔ کشمیر سے انے والی بے شمار خواتین ،جن میں اب نوعمر بچیاں بھی شامل ہیں اسلام اباد اور راولپنڈی میں صرف دھکے ہی کھا سکتی ہیں براہ کرم والدین سے میری التجا ہے۔۔ اپنی بیٹی کو کسی بھی غیر کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔۔ اسے انڈپینڈنٹ ہونا گھر میں سکھائیں۔۔ اپنی بیٹیوں کو جاب کی ترغیب نہیں بلکہ بزنس کی طرف راغب کریں۔۔ ازاد کشمیر میں بہترین تعلیمی ادارے اب موجود ہیں کوشش کریں کے گھر یا شہر کے قریب اپنے ہی کسی ادارے کو ترجیع دیں انھیں اس دور میں کسی کے بھروسے ہاسٹل میں مت بھجیں اور اگر ایسا کرنا ضروری ہی ہو تو ان کو اپنی توجہ اور مکمل نگرانی میں ضرور رکھیں۔۔ انھیں یہ بتائیں کے وہ کسی مرد کے ہاتھوں کسطرح جذباتی شکار ہو سکتی ہیں اگر اپ اج یہ کام نہیں کریں گے تو نہ جانے کتنی ہی کائناتیں یہاں انھی تاریک راتوں میں مردہ ملیں گی۔۔

for feedback mehvishsardar28@gmail.com