نالہ ماہل میں آلودگی اور آزادکشمیر کے ماحولیاتی چیلنجز …. نثار کیانی

انسان کے مختلف افعال کے نتیجے میں بے کار مادے پیدا ہوتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں انسان کئی اشیا استعمال کرتا ہے۔ یہ اشیا کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ بے کار ہوتی ہیں اور کچھ دوبارہ استعمال کے قابل ہوتی ہیں۔ بے کار اشیا یا مادوں کی نکاسی کرنی پڑتی ہے۔ اگر نکاسی مناسب طریقے سے نہیں کی گئی تو بیکار چیزیں یا مادے پانی، زمین اور ہوا میں گھل مل کر فضائی آلودگی پیدا کرتے ہیں۔ یہ بات معاشی ترقی، خوشگوار ماحول اور حفظانِ صحت کے نقطہ نظر سے سنگین مسئلہ ہی نہیں، فطرتی (Natural) اور انسانی مسکن کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔ اس لیے فطرتی خوشگوار اور صحت مند زندگی کا تقاضا ہے کہ تازہ اور صاف ہوا کا ہمیشہ خیال رکھا جائے۔ خراب ہوا یعنی فضائی آلودگی سے ماحول کو پاک رکھنا ہم سب کی ذمے داری بھی ہے۔صاف اور شفاف ماحول زندگی کی علامت سمجھاجاتا ہے ، لیکن آلودگی (ماحولیاتی تباہی کاری )کی یہ اضافی آفت دنیا بھر کے عوام الناس کے دکھوں میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے۔آلودگی سے مراد قدرتی ماحول میں ایسے اجزا شامل کرنا ہے جس کی وجہ سے ماحول میں منفی اور ناخوشگوار تبدیلیاں واقع ہوں۔ آلودگی کی بنیادی وجہ انسانی مداخلت ہوتی ہے۔ آلودگی عام طور پر صنعتی کیمیائی مادوں کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن یہ توانائی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے شور حرارت یا روشنی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ آلودگی کی اقسام میں صوتی آلودگی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی، برقی آلودگی، غذائی آلودگی، زمینی آلودگی اور بحری آلودگی اہم ہیں۔ یہ بہت جان لیوا ہے۔۔اسٹیٹ آف گلوبل ایئر 2020 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک میں صاف ہوا کا معیار سب سے کم ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔تشویش ناک صورتحال یہ بھی سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے خواتین بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، کم وزن اور قبل ازوقت بچوں کی پیدائش اور اموات کی تعداد میں اضافے کے معاملات میں فضائی آلودگی کو مضر وجوہ قرار دی گئی ہیں۔ دی لانسیٹ نامی میڈیکل جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں سے پہلے ہی انسانوں کی صحت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں جبکہ بیماریوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ فضائی آلودگی سے انسانوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے کے لیے اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پوری نسل کو بیماریوں کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ بچوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اس اقسام میں سے دو طرح کی آلودگی، آ بی اور فضائی آلودگیسے ضلع پونچھ اور ضلع باغ کی بڑی آبادی کافی عرصے سے بری طرح متاثر ہور ہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ آزادکشمیر کے دو خوبصورت اضلاع کے قدرتی حسن کو چار چاند لگانے والا نالہ ماہل اس آبی آلودگی کا بڑا منبع بن چکا ہے ، ضلع باغ میں دامن تولی پیر ،اور گنگا چوٹی کے دامن سے قدرتی چشموں سے نکل کر نالہ کی شکل اختیار کرنے والے نالہ کو نالہ ماہل کے نام سے جانا جاتا ہے ، جس کا پانی دونوں اضلاع کے درمیان مستیاںکرتا دریا جہلم میںگرتا ہے ،بعض جگہوں پر ماہل کی چورائی کلومیٹر تک بھی ہے اور بعض مقامات پر یہ انتہائی تنگ جگہوں سے بہتا ہے ،۔قدرتی چشموں کے علاوہ یہ نالہ بارش کے پانی سے ریچارج ہوتا ہے اور شدید بارش میں اپنی طغیانی کی وجہ سے یہ کسی بپھرے ہوئے دریا کی مانند ہوتا ہے ۔ نالہ ماہل پچھلے کئی برسوں سے لودگی کا باعث بن رہا ہے ،جس کی وجہ اس نالہ سے ملحقہ آبادی کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ آلودہ پانی استعمال کرنے والے نعمان پورہ ، ہاڑی گہل ، منگ بجری ، ارجہ ،یونین کونسل ٹائیں ، بنگوئیں اور غربی باغ کی آبادی اور پالتو مویشی بیمار ہونے لگے ، مچھیلیاں ہلا ک ہونے لگیں ہیں جبکہ افزائش نہ ہونے کے برابر ہو کر رہ گئی ہے۔باغ شہر کے ذبح خانہ سے لیکر ، ہسپتالوں اور گھروں سے نکلی ہوئی گندگی کو نالہ ماہل میں ڈمپ کیا جا تاہے ، رہ سہی کسر ارجہ میں لگی کرشنگ مشینوں نے خراب کر دی ہے ،جس کے باعث ماحول آلودہ اور لوگ بیمار ہونے لگے ہیں۔ نالہ ماہل میں گندگی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلدیہ باغ ملی بھگت سے نالہ ماہل کا پانی آلودہ کرتا ہے ۔ گنگا چوٹی کے دامن سے آنے والا پانی جونہی باغ کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو بلدیہ باغ کی طرف سے بنایا گیا ذبح خانہ جہاں پر روزانہ چھوٹے بڑے جانور ذبح کیا جاتے ہیں کی تمام آلاشیں، گند بہتے پانی میں پھینک دی جاتی ہیں،۔ ذبح خانے کے دائیں بائیں اور جہاں سے نالہ گزرتا ہے تعفن پھیلا ہوا ہے۔ ذبح خانہ جس جگہ پر بنایا گیا ہے وہ باغ کے شہریوں سے اوجھل ہے۔ نالہ ماہل کے پانی سے باغ سے آگے نعمان پورہ، ہاڑی گہل، ارجہ ، غربی باغ ، یونین کونسل ٹائیں،اور بنگوئیں کے مختلف دیہات کے ہزاروں افراد مختلف جگہوں پر وضو کر تے ہیں اور کپڑے دھوتے ہیں اور نالے کے اوپر بڑی بڑی موٹریں لگا کر اسی پانی کو اپنے گھروںمیں استعمال کر تے ہیں۔ شہری یہ پانی صاف سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح نالہ ماہل کے نزدیکی آبادی کے مال مویشی بھی یہی پانی پیتے ہیں جہاں پر انسانوں کے اندر مختلف جلدی بیماریاں پھیل رہی ہیں وہاں پر حیوانوں کے اندر بھی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ پانی آلودہ ہونے کی وجہ سء مچھلیاں نالہ ماہل کے کنارے مردہ پڑی پائی جاتی ہیں ، نالہ ماہل کی گندگی میں اضافے کا بڑا سبب پلاسٹک کے تھیلے ہیں ۔ پلاسٹک ہمارے ماحولیاتی آلودگی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے کیوں کہ باقی کوڑاکرکٹ قدرتی کیمیائی عمل سے ماحول کا حصہ بن جاتا ہے مگر پلاسٹک ہزاروں سال تک ماحول میں موجود رہتا ہے جو کے ہمارے قدرتی ماحولیاتی سائیکل کو متاثر کرتا ہے ۔آزادکشمیر کے ضلعی ہیڈکوراٹرز میں دیہی علاقوں کی بڑی تعداد بچوں کی تعلیم و صحت کی سہولیات کی وجہ سے دیہات سے ان شہروں میں رہائش اختیار کر چکی ہے ،جہاں اس شہروں کی صفائی و ستھرائی کا انتظام برائے نام ہی ہے ،کچرے کی ری سائیکلنگ کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی اس کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا سرکاری سطح پر کوئی معقول انتظام ہے ، آخر کار جملہ گندگی نالہ ماہل کا مقدر بنتی ہے جو بعدازاں اس کی ماحولیاتی تباہ کاری کا سبب بن رہی ہے۔ہمارے صاف و شفاف آبی ذخائر پر عمارتیں تعمیر کرا کے کارخانوں اور گھروں سے نکلی ہوئی گندگی کو ان ہی آبی ذخائر میں ڈمپ کیا جاتا ہے۔دنیا بھر میں سرکاری و پرائیوٹ ادارے اور حکومتیں مل کر ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، جبکہ ہم لوگ خود ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن ر ہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو اس جانب توجہ دلائی جائے کہ شہر بھر سے کوڑا کرکٹ جمع کرکے نالہ ماہل میں پھینک کر آگ نہ لگا ئی جائے ،کیوں کے دھوئیں سے پورا شہر متاثر ہوتا ہے ، گاڑیوں کی ورکشاپس والوں کو بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ آئل فلٹر اور پرانے ٹائرز کو آگ لگا کر اس کی باقیات نالہ ماہل میں نہ پھینکیں ، ٹائر جلانے یا آئل جلانے اور جنریٹر سے نکلنے والے دھواں سے سانس کی بیماریاں جنم لیتی ہیں، کینسر جیسے موذی امراض کی وجہ بن رہے ہیں، جب تک ہم خود اپنے ماحول کے تحفظ کے لئے کام نہیں کرینگے تب تک ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔مزید براں نالہ ماہل سے ملحقہ آبادیاں جہاں کے برساتی نالوں کا پانی نالہ ماہل میں شامل ہوتا ہے وہ بھی زائد المعیاد ادویات اور دیگر پلاسٹک کے شاپر وغیرہ ان برساتی نالوں میں پھیکنے سے احتیاط برتیں ،ارجہ ، ہاڑی گہل میں نالہ ماہل کے قریب کریش پلانٹ کی فعالیت سے مختلف علاقے گرد وغبار اور آلودہ ہوا چلنے سے ماحول کی خرابی کا باعث بن رہے ہیں ،آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ اور ہائیڈرل منصوبہ جات کی وجہ سے ماحولیاتی مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اس شعبہ جات کی جانب خصوصی توجہ دنیا ہوگی۔ ہمارا مستقبل ماحولیات کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قدرتی ریسورسز کی یوٹیلائزیشن کے دوران ماحولیات کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرے۔ ماحولیاتی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے سو ل سوسائٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔ محکمہ ماحولیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرے۔۔کورونا وبا کی وجہ سے پاکستان سمیت ترقی پزیر ممالک کو کئی سنگین چیلنجز درپیش ہیں، ان دیرینہ مسائل میں ماحولیات ایک ایسا معاملہ ہے،جسے ترجیحات پر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ صاف ستھرا ماحول کئی بیماریوں پر اٹھنے والے بھاری اخراجات سے نجات دینے کے علاوہ قوی و توانا نوجوان نسل کی آبیاری کا باعث بنتا ہے۔ شہری و دیہی علاقوں میں ماحولیات کے حوالے سے آگاہی ضروری ہے کیونکہ شہری و دیہی ماحول میں پلنے والے نسل کی فلاح و بہبود کے لئے صحت مند ماحول ناگزیر ہے،اگر فضائی آلودگی کے خاتمے کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ، اپنی مدد آپ کے تحت موثرعملی اقدامات نہیں کریں تو موسمیاتی تبدیلیوں کا نقصان سب کو اجتماعی طور پر اٹھانا ہوگا۔ عوام میں آلودگی کے سلسلے میں بیداری ناگزیر ہو چکی ہے۔ عوام نہیں جانتے کہآلودگی انسان کی صحت پر کس قدر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر یہ معلوم ہوجائے تو عوام ضرور آلودگی کے بارے میں پیش بندی سے کام لیں گے۔ اس لیے ہم تلقین کرتے ہیں کہ لوگ آلودگی سے نہ صرف حفاظتی تدابیر اختیار کریں، بلکہ اسے پیدا بھی نہ کریں کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

.