مرنے والےگیارہ کان کن نہیں گیارہ سائے ہیں، وسعت اللہ خان

چونکہ مچھ میں گیارہ کان کن دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے لہذا وزیرِ اعظم سے لے کر صوبائی چیف سیکرٹری تک ہر ایک نے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے سائیکلو سٹائل بیانات جاری کر دیے۔

اگر یہ کان کن دہشت گردوں کی گولیوں کے بجائے کان میں زہریلی گیس یا پانی بھرنے یا کان بیٹھ جانے کے سبب مر جاتے تو وزیرِ اعظم سے لے کر صوبائی چیف سیکرٹری تک کسی کا یہ بیان بھی جاری نہ ہوتا کہ ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

چونکہ یہ کان کن دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں لہذا جیسا کہ رواج ہے اب ان کے پس منظر کے پارچے بن رہے ہیں۔ کسی کو اس میں دلچسپی ہے کہ مرنے والے شیعہ ہزارہ ہیں، کسی کو اس واردات میں اندرونی کینسر سے زیادہ غیر ملکی ہاتھ دیکھنے سے مطلب ہے۔ کسی نے اس واردات کی بریکنگ نیوز سنتے ہی اسے مذہبی دہشت گردی پر منڈھ دیا اور کسی نے خبر کی تفصیل میں جائے بغیر اس واردات کا رشتہ مسلح بلوچ شورش سے جوڑ دیا۔

صوبائی کلرک معاوضے کا اعلان کرنے سے پہلے یہ جانچ رہے ہیں کہ مرنے والے پاکستانی ہیں کہ غیر پاکستانی۔ غیر پاکستانی ہیں تو وہ قانونی طور پے یہاں رہ رہے تھے یا چھپ چھپا کے روزگار کما رہے تھے۔ کسی لال بھجکڑ کو اس میں سرکار کی نااہلی نظر آ رہی ہے اور کوئی اسے امن و امان کی مجموعی ابتر ہوتی صورتِ حال کا ایک اور ثبوت سمجھ کر اپنی پسند کا مصالحہ لگا رہا ہے۔

ان پارچہ سازوں میں سے اوپر سے نیچے تک شائد ہی کوئی ہو جس نے کبھی کان کن کو ہزاروں فٹ زیرِ زمین کام کرتے دیکھا ہو، ان کا نیم انسانی رہن سہن ملاحظہ کیا ہو، ان کو جان کی حفاظت کے لیے حفاظتی آلات نہ ملنے کے لالچی اسباب پر دھیان دیا ہو، ان کے معاوضوں اور ان معاوضوں میں بات بات پر کٹوتی کی جانب رمق برابر توجہ دی ہو۔ ان کی غریب الوطنی و سماجی یتیمی پر زندگی کے کسی بھی ایک لمحے میں سوچا ہو۔

سرکاری کاغذوں میں ان کان کنوں کے لیے طبی سہولتیں بھی موجود ہیں مگر میں نے دکی کے کوئلہ زخائر میں ان کے نام پر بننے والے ایک مرکزِ صحت کے دو کمرے بھی دیکھے ہیں جن کے دروازے اور کھڑکیاں چور لے گئے اور فرش پر کتے لوٹتے ہیں۔

کاغذوں میں کان مزدوروں کو سوشل سکیورٹی کا تحفظ بھی حاصل ہے۔ زرا سا سروے بھی کر لیجیے کہ 99 فیصد کان کن سوشل سکیورٹی کی سین سے بھی واقف نہیں۔ اس مد میں جو رقم جمع ہوتی ہے وہ سرکاری ڈریکولاؤں اور کان مالکان کے درمیان کہیں فائلوں کی دلدل میں غتربود ہو جاتی ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے کان کن پاکستانی نہیں افغان شیعہ ہزارہ ہیں۔ چنانچہ ان کے لواحقین کو معاوضہ ملنے کی امید کم ہی ہے۔ داد رسی اور اشک شوئی کی امید تب ہونی چاہیے جب مرنے والے کو پہلے انسان اور پھر کچھ اور سمجھا جائے مگر ہمارے قانون اور اس قانون کو موم کی ناک بنانے والی ریاکارانہ اخلاقیات میں شہریت کی تشریح تو ہے انسان کی کوئی تشریح نہیں۔

ہم میں سے کتنے لوگ واقف ہیں کہ کان کنی ویسے تو دنیا بھر میں خطرناک پیشوں میں شمار ہوتی ہے مگر پاکستان میں کان کنی کا مطلب لگ بھگ سزائے موت ہے۔ پاکستانی کانوں میں زیادہ تر مالاکنڈ ڈویژن کے پختون اور افغان مہاجرین کام کرتے ہیں۔ یہ جواں سال محنت کش جب گھر سے سینکڑوں میل دور جانے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کو الوداع کہتے ہیں تو ان کے بارے میں تصور کر لیا جاتا ہے کہ اب پیسے آتے رہیں گے مگر پیسے بھیجنے والا شاید تابوت میں ہی گھر لوٹے۔

اگر ان دس کان کنوں کی موت ان جیسے دیگر ہزاروں کی زندگی کو زرا سا بھی باوقار، انسانی و قانونی بنا سکے تو یہ قربانی بہت زیادہ نہیں۔ لیکن آنے والے دنوں کا بھی سچ یہی ہے کہ شہروں اور قصبوں سے دور پہاڑوں میں سینکڑوں ہزاروں فٹ نیچے کام کرنے والی اس مخلوق کا مرنا کیا اور جینا کیا۔

ہمارے لیے یہ کان کن انسان نہیں سائے ہیں۔ کسی سائے کی موت پر آخر کتنی دیر افسردہ رہا جا سکتا ہے۔ ٹی وی پر چلنے والی خبری پٹی ختم تو خود احستابی کا دکھ بھی ختم۔