استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو! تحریر : عتیق الرحمن

گزشتہ دنوں ایک آرٹیکل میری نظر سے گزرا موضوع استاد ۔ قوم کا معمار ۔۔ تھا ۔۔ اس آرٹیکل کی یہ ایک لائن اشکِ ندامت میں ڈوب کر پڑھنی پڑی ۔ لکھا تھا “ہمارے ملک میں استاد کی مجموعی صورتحال ، معاشرے اور ارباب اختیار کے رویے پر نظر ڈالی جائے تو اساتذہ سب سے مظلوم اور پسماندہ طبقہ معلوم ہوتے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم اور شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں”۔
عمومی کیفیت میں جملہ سمجھ نہ آیا کیونکہ ہمارے ہاں اساتذہ کے بارے میں آراء کا اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو استاد ایک ہونق معلوم ہوتا ہے جو ذہنی طور پر ہوس پیشہ اور اخلاقی طور پرہوس ناک کوئی چیز ہو ۔ بلاوجہ کی تنخواہ لے کر لوگوں کا حق مارتا ہے یعنی بچوں پر وہ توجہ اور محنت نہیں کرتا جو ایک بچے کی ذہنی اور فکری تربیت کے لئے لازم ہوتی ہے ۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہو جو کہ یقینا نہیں ہے تو بھی ہم استاد کےفن کی عظمت اورقدر و منزلت کی نفی نہیں کر سکتے ۔ یقینی طور پر استاد ہی قوم کا معمار اور اس کے مستقبل کا اخلاقی ڈھانچہ تیار کرتا ہے جس کا احترام نہ صرف انفرادی طور پر لازم ہے بلکہ اجتماعی طور پر اور قومی سطح پر اس کے احترام کی پابندی کرنا لازم ہے ۔انفرادی طور پر احترام اس کی ذات پر کردار کشی نہ ہونا ، اچھے الفاظ سے یاد رکھنا ، ان کی باتوں پر عمل پیرا ہو کر معاشرے کا ایک فعال انسان بننا ہے لیکن جب بات اجتماعیت اور قومی سطح پر احترام کی آتی ہے تو یہاں بات چار قدم آگے چلی جاتی ہے یہاں نہ صرف پوری قوم بلکہ پوری ریاست پراجتماعی طور پر استاد کا احترام لازم ہو جاتا ہے ۔ ریاست استاد کا احترام اس کے تمام جائز حقوق اور مطالبات پورے کر کے ادا کرتی ہے اور جب ریاست اس میں ناکام ہو جائے تو پھر ساری قوم استاد کے جائز حقوق اور مطالبات کے حصول کے لئے اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اسے احترام کی بلندیوں پر بٹھاتی ہے ۔ یہ قوم کا فرض ہے کیونکہ یہی استاد ہے جس نے ہمیں زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھایا۔ ہماری ، سوچ، فکر اور اعتماد کو بلندیاں عطا کرنے والا یہی استاد ہے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر کے ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم دو لفظ لکھنے کے قابل ہوئے۔

آزادکشمیر کے صدر مقام مظفر آباد میں اپنے حقوق اور مطالبات منوانے کے لئے اساتذہ کا دھرنا 6 جنوری کو ہوا جس میں اساتذہ پر بدترین لاٹھی چارج ہوا۔ اس بدترین لاٹھی چارج میں ,اسد نذیر اعوان,چوہدری سیماب,تاسف شاہین,قاضی آفاق,شیخ اقبال اور کئی اساتذہ شدید زخمی ہوئے انہی اساتذہ سے پڑھ کر افسر بن کر جب ان افسروں نے استادوں کو مارنےے کا حکم دیا ہو گا تو ان کا ضمیر کچھ وقت کے لئے ضرور مر گیا ہو گا کیونکہ زندہ ضمیر والے اپنے محسنوں کا احسان توصدیوں یاد رکھتے ہیں جبکہ مردہ ضمیربے اولاد ہوتے ہیں احساس کے لمس سے عاری۔

میرا سوال ارباب اختیار سے ہے جنہوں نے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اساتذہ کو ان کے حق سے محروم رکھا ہوا ہے 2009 کی تعلیمی پالیسی کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کے اساتذہ کے سکیل اپ گریڈ ہونا تھے اور پرائمری کو 7 سے 14، جونیئر کو 9 سے 16 اور سینئر کو 16 سے 17واں سکیل دینا تھا ۔ آزاد کشمیر کی حد تک دیکھا جائے تو پچھلی حکومت میں بھی باوجود اساتذہ تنظیم کی کوششوں کے نوٹیفکیشن نہ ہوا 2016 میں نئی حکومت قائم ہوئی لیکن دو سال تک اس نے بھی اس مسئلہ میں ڈھنگ ٹپاؤ کی پالیسی اختیار کئے رکھی تو اساتذہ کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا مظفرآباد میں ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ احتجاج کے لئے جمع ہوئے لیکن حکومت نے مذاکرات پر راضی کر کے چند دنوں میں مطالبات پوری کرنے کی یقین دہانی کرائی جو بعد میں ایفا نہ ہو سکی ، تقریبا ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جب مطالبات پورا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی تو نومبر 2019 میں دوبارہ احتجاج کی کال دی گئی لیکن ایک بار پھر مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا جس میں حلفاً ایک ہفتے کے اندر اندر اپ گریڈیشن کا وعدہ ہوا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو کے مصداق یہ وعدہ بھی لولی پاپ ثابت ہوا اب 6 جنوری 2021سے احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے ۔

6 جنوری کے احتجاج میں لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرنے والے وزیراعظم آزادکشمیر جناب راجہ فاروق حیدر خان صاحب کے مزاج عالی کو اگر گراں نہ گزرے تو میری التماس ہے کہ وہ اساتذہ کی عظمت کو ترازو میں نہ تولیں اور 2009 کی تعلیمی پالیسی کے مطابق اساتذہ کو ان کا حق دےدیں ۔”نہ انکارمی کنم نہ ایں کارمی کنم” والی پالیسی بدلائیں اور کل ہونے والے احتجاج میں معاملہ لاٹھی چارج تک پہنچنے سے پہلے بات چیت کے ذریعے نہ صرف حل بلکہ ایسا حل کریں کہ اساتذہ کو دوبارہ احتجاج کی راہ اختیار ہی نہ کرنی پڑے ۔ یہی استاد کا احترام اور اس کی عظمت کا اعتراف ہوگا اسی میں آپ کی بھی عزت ہے ۔ آگے بڑھ کر اس معاملہ کو سلجھائیں ہاتھوں سے کھلے کو دانت نہ لگائیں اعلی ظرفی کا مظاہرہ کریں تاکہ آج کا ڈوبتا سورج کل پھر اس طرح کا منظر نہ دیکھ پائے بلکہ کل نکلنے والی کرنیں اساتذہ کے چہروں پر بہار سجی دیکھیں ۔
فہم و دانائی و ہنر کا آسماں اُستاد ہے
علم و حکمت کی یقینا کہکشاں اُستاد ہے
غور کر ناداں تو بھی عزتِ اُستاد پر
جہل کی تاریکیوں میں ضوفشاں اُستاد ہے