شعبہ تعلیم سے وابستہ سرکاری ملازمین پر لاٹھی چارج، تحریر: عبدالحکیم کشمیری

بدھ 6 جنوری 2021ء الحاق پاکستان کے بیس کیمپ کے دارالحکومت مظفرآباد میں شعبہ تعلیم سے وابستہ سرکاری ملازمین پر پولیس کا بے رحمانہ لاٹھی چارج ایک غیر مناسب عمل تھا۔ تعلیمی اداروں کو خیر آباد کہہ کر صرف حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے ان ملازمین سے مذاکرات کے بجائے اختیارات کے نامناسب اور غیر ضروری استعمال کویقیناً قابلِ تعریف عمل نہیں کہا جا سکتا۔ 6 جنوری 2021ء بعد از دوپہر سوشل میڈیا پر آزادکشمیر ن لیگ کی حکومت ہر اس شخص کے نشانے پر تھی جس کے پاس موبائل تھا اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال جانتا ہو۔

البتہ ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس کا یہ کہنا تھا کہ جو ہوا ٹھیک ہوا یہ حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر انہوں نے اپنے فرائض پر کبھی توجہ نہیں دی۔ یہ سیاست کرتے ہیں، اپنے قول و فعل سے طلبہ کو علاقائی اور قبیلائی تعصب سکھاتے ہیں، پریشر گروپ کی شکل اختیار کر چکے ہیں، ان کی تنخواہیں اور مراعات میں گزشتہ کچھ سال میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ کبھی یہ بلوچستان طرز (parity) پر مراعات لیتے ہیں، کبھی پنجاب طرز، کبھی کے پی کے طرز اور کبھی جی بی طر ز پر۔ انہیں جہاں مفاد نظر آتا ہے تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ انھوں نے تعلیم کو محض روزگار تک محدود کردیا ہے۔ ترقیابی کی بھوک، سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبروں پر آنے کے لئے رشوت، من پسند تبادلے کے لئے دفاتر کے چکر، مقدمات، اپنی جگہ ٹھیکے پر متبادل معلم رکھنا۔ کیا یہ پیشہ معلمی ہے؟ حقیقت یہ نئی نسل کی تربیت کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔

معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے اساتذہ کی حمایت یا مخالفت کی بحث اپنی جگہ تاہم میرے نزدیک ایک معلم اگر واقعی معلم ہو تو وہ ریاست کی سب سے قابل احترام شخصیت ہے، بالخصوص میں نے جن اساتذہ سے پڑھا وہ حقیقی معنوں میں معلم اور رہبرتھے لیکن ایک شخص اگر پیشہ معلمی کی آڑ میں سیاسی پارٹیوں کیلئے کام کرے، سیاستدانوں کے گھروں میں حاضری دے، سیاسی جلسوں میں شامل ہو، اخبارات کے دفاتر کے چکر لگائے، اپنے عمل اور قول سے علاقائی اور قبیلائی نفرتیں پھیلائے، اپنے تدریسی فرائض پورے نہ کرے وہ قابل محاسبہ ہے اسے معلم نہیں کہا جا سکتا۔ وہ سرکاری اہلکار ہے جو پیٹ کے لیے طلبہ کو اسناد اور ڈگریاں فراہم کرنے کے روزگار سے وابستہ ہے۔ لا ریب وقت موجود میں بھی انتہائی اچھے اساتذہ ہیں جن کے احترام میں ہر ذی شعور آدمی کھڑا ہو جاتا ہے، مگر ایک بڑی تعداد اپنے روپے کی وجہ سے محض سرکاری ملازمین کی شکل میں نظر آتی ہے۔

حکومت آزادکشمیر کا کل غیر ترقیاتی بجٹ 115 ارب روپے ہے جس میں سے 28 ارب 88 کروڑ روپے تعلیم پر خرچ ہو رہے ہیں۔5 ہزار 9 سو 74 تعلیمی اداروں میں 29 ہزار 563 اساتذہ 4 لاکھ 74 ہزار بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اس تعلیم کا معیار کیا ہے؟ گرچہ اس کا تعلق ارباب اختیار سے ہے لیکن کیا اساتذہ جو اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ پریشر گروپ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں کیا ان میں سے ایک بڑی تعداد نے کبھی اپنے فرائض پورے کیے؟ بچوں پر تشدد کرنا، خوف کی علامت بننے پر فخر محسوس کرنا، کیا ایسے رویے بچوں کی شخصیت مسخ نہیں کرتے؟ کیا کبھی ہمارے اساتذہ نے اس پر سوچا؟

جو اساتذہ شہری علاقوں میں پڑھاتے ہیں ان میں سے کتنے اساتذہ کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں؟ اب تو دیہی علاقوں کے اساتذہ اپنے بچوں کو شہر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں۔ جو معلم اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھائے اور خود سرکار سے بھاری تنخواہ لے، کیا وہ اس ریاست کے ساتھ انصاف کر رہا ہے؟ 28 ارب 28 کروڑ کا بجٹ 16 طلبہ پر ایک معلم (دنیا بھر میں 21 سے 25 طلبہ پر ایک معلم ہے)۔ محکم تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق کم و بیش 500 کے قریب پرائمری تعلیمی ادارے ایسے ہیں جہاں اساتذہ کی غفلت کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سکول سے ہٹانے پر مجبور ہوئے۔ آج بھی سینکڑوں ادارے ایسے ہیں جہاں طلبہ اور اساتذہ کی تعداد میں تھوڑا بہت فرق ہے۔ اس کا ذمہ دار کون؟

ایک معلم عظیم تر ہوتا ہے، وہ نئی نسل کی رہنمائی کرتا ہے مگر جب سے شعبہ تعلیم میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کا عمل شروع ہوا، کچھ سیاسی بے روزگار محض روزگار کے لیے جگہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے فرائض کو خیر آباد کہا، روایتی سیاست دانوں کی طرح حقوق کا نعرہ لگایا اور پھر ساری زندگی سکول کا منہ نہیں دیکھا۔ حکومت دباؤ میں آئے بغیر اساتذہ کے ضروری مطالبات تسلیم کرے مگر اس کے ساتھ حقوق و فرائض میں توازن پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔ محض مراعات کے لیے بلیک میل کرنے والے عناصر سے کارکردگی پوچھی جائے اور تمام اساتذہ کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائیں۔

ملک عبدالحکیم کشمیری ریاست کے نامور صحافی، کالم نگار اور مصنف ہیں۔ آپ حال ہی میں ریاستی صحافیوں کی تنظیم آزاد جموں وکشمیر سنٹرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر منتخب ہوئے ہیں۔