آزاد کشمیر کی عدلیہ میں کسی نئے تجربے کی اجازت نہیں دینگے ، جے کے پی پی

راولپنڈی( نیل فیری نیوز) جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے صدرممبر قانون ساز اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان نے کہا ہے کہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی ہے اور اگر آزاد کشمیر کی عدلیہ میں کسی نئے تجربے کی کوشش کی گئی تو جموں کشمیر پیپلز پارٹی آئینی ماضی کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی اور وہ سردار خالد ابراہیم خان کا کر دار جس کے تحت5ججز کی غیر آئینی تعیناتی کالعدم قرار پائی وہ اس کر دار کو دہرائے گی اور اس کیلئے آزاد کشمیر کے تمام وکلاء برادری کو ساتھ لیکر تحریک چلائیں گے جموںکشمیر پیپلز پارٹی شخصیات کی بجائے اداروں کے استحکام و بقاء پر یقین رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کے بعد راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیکرٹری جنرل جے کے پی پی ابرار احمد یاد، ایس اے محمود ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان سردار طارق ایڈوکیٹ ،نشاط کاظمی، ناسوب علی خان،ایس کے سدوزئی اور دیگر بھی موجود تھے۔سردار حسن ابراہیم خان نے کہا کہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ آزاد کشمیر عدلیہ بحران کے ذمہ دار موجودہ صدر ریاست سردار مسعود خان و سابق سیاسی چیف جسٹس ابراہیم ضیاء ہیں ستم یہ ہے کہ ریاستی وزیر اعظم جن کا ججز تقرری میںکوئی آئینی کر دار نہیں ہے ان کی مسلسل مداخلت سے موجودہ عدالتی بحران شدت اختیار کر چکا ہے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر سیاسی دبائو ڈال رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سابق چیف سیاسی جسٹس نے اپنی آئینی ذمہ دار بر وقت ادا نہ کی اور بد نیتی کی وجہ سے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل مستقل چیف جسٹس کی سمری بر وقت ارسال نہ کی اور پانچ ججز کی غیر آئینی تقرری بھی اسی ضمن کا حصہ تھی، لہذا جموں کشمیر پیپلز پارٹی چیئرمین کشمیر کونسل وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کرتی ہے عوامی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ مستقل بنیادوں پر چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہائی کورٹ آئین اور قانون کے مطابق تقرری عمل میں لائیں جس کی نظیر الجہاد ٹرسٹ کیس میں واضح طور پر موجود ہے تاکہ انصاف کی فراہمی کیلئے راہ ہموار ہو سکے گی با وجود اس کے کہ عدالت عظمیٰ نے سردار خالد ابراہیم خان کو غیر آئینی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا چونکہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی شخصیات کی بجائے اداروں کے استحکام و بقاء پر یقین رکھتی ہے۔