کرپٹ عناصر نے قانون کو موم کی ناک سمجھ رکھا ہے ، ثناءآغاخان

اپواءکی مرکزی چیف آرگنائزاورسیاسی وسماجی شخصیت ثناءآغاخان نے کہا ہے کہ چوری روکنے کیلئے ریاستی نظام میں موجود ہرچورراستہ بندکرناہوگا۔پاکستان کے قومی وسائل کازیادہ ترحصہ چور ی ہوجاتا ہے اور ان عادی چوروں کے پاس چوری کاپیسہ انہیں احتساب سے بچانے کے کام آتا ہے ۔ پاکستان میں صرف احتساب کے پائیداراورخودکار نظام سے بدعنوانی کاباب بندہوگا۔پاکستان میں چوروں کی بجائے الٹانیب کاگھیراﺅکیا جارہا ہے۔نیب نے توپھربھی کچھ نہ کچھ رقم برآمد کی ،نیب کے ناقدین اورحاسدین عوام کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کریں۔اس ملک میں توچوربھی احتساب کے ڈر سے انتقام کاشورمچاتے اورعوام کی ہمدردیاں بٹورتے ہیں۔ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ثناءآغاخان نے مزید کہا کہ پاکستان میں بڑے چوربڑے عہدوں پربراجمان ہیں اوریہ طبقہ آئین وقانون کوموم کی ناک سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔پاکستان میں بڑے چورمحتسب سے زیادہ منظم ،بااثر،طاقتوراورآپس میں متحد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح دہشت گردی کیخلاف ناگزیر ضرورت کے تحت فوجی عدالتوں کاقیام ہوا تھا،اس طرح زیادہ بہتر نتائج کیلئے نیب کے ادارے کوبھی فوج کے ماتحت کیاجاسکتا ہے ۔اگر اشرافیہ نے احتساب کواپناراستہ نہ بنانے دیا توپھراس ملک میں خونیں انقلابی یقینی ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رائج نظام عام آدمی کواس کے بنیادی حقوق فراہم اوران کی حفاظت کرنے میں ناکام رہاہے ۔ سیاسی اشرافیہ کے بنائے ہوئے طبقاتی نظام نے عوام کوتقسیم اورمایوس کردیا ۔انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر سرمایہ دارسیاستدانوں کو کسی قیمت پرعوام کاآپس میں متحدہونااوراپنے حقوق کیلئے آوازاٹھانا برداشت نہیں ہورہا۔