اسلام میں چار شادیوں کا تصور: ثناء آغا خان

اسلام ہر عہد کے انسانوں کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ معاشرہ تب ہی ٹھوکر کھاتا ہے جب وہ اپنا ضابطہ حیات بھول جائے ۔اپنے موضوع پر آنے سے پہلے قارئین سے میرا ایک سوال ہے ، ہمارے اسلامی معاشرے میں مرد حضرات کا ایک سے زائد نکاح کرنا اس قدر پیچیدہ اور دشوار کیوں ہے ؟ کیوں یہ معاشرہ شرعی معاملات سے ہٹ کے گناہ کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ؟ کیوں نکاح مشکل اور زنا آسان ہے؟ کیوں خواتین اپنے شوہروں کو دوسری شادی کی اجازت دینے کیلئے تیار نہیں ہیں جبکہ وہ بخوبی جانتی ہیں کہ مردوں کو چار شادیوں کی شرعی اجازت ہے؟
ان سوالات سے محسوس ہوا کہ سرسری تبصرہ سے بات نہیں بنے گی بلکہ ان میں سے ہر سوال کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جانا ازبس ضروری ہے، اور اس کے ساتھ ان سوالات اور شکوک و شبہات کے جدید تعلیم یافتہ حضرات کے اذہان میں جنم لینے کے اسباب کا تجزیہ بھی اس موضوع کی ایک اہم ضرورت ہے۔
یہ حکم سورۃ النساء کی آیت نمبر ۳ میں اس طرح سے ہے کہ
’’اگر تم خوف کھاؤ کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو، دو دو تین تین اور چار چار۔ اور اگر تم خوف کرو کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے ۔‘‘
خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور معاشرتی اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے مردوں کا نکاح سے کترانا اس معاشرے کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب اور معاشرتی المیہ ہے جو کہ ہم مسلمانوں کیلئے لازم ہے کیونکہ ممانعت تو قرآن کریم کا حکم ماننے والوں کے لیے ہے، نہ ماننے والوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے‘‘۔
ہم روز معاشرے میں ہونے والے غیر شرعی واقعات کا بڑھتا ہوا سیلاب دیکھتے ہیں ۔آئے دن آبروریزی کے واقعات نے معاشرے کو غیر محفوظ جبکہ خواتین کو نفسیاتی مریض بنادیا ہے ۔
مغربی فکر و فلسفہ کی یلغار اور بین الاقوامی میڈیا کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کے ماحول میں اسلام کے مختلف احکام و قوانین کی تفہیم کے بارے میں نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھنوں سے ہے۔
عورت کے حوالے سے اس لیے کہ معاشرے میں بسا اوقات ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ عورت کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا کہ وہ یا تو تنہائی کی زندگی گزارے اور یا کسی شادی شدہ مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بن کر اپنی زندگی کو بامقصد ، محفوظ اور سہل بنا لے۔ اس صورت میں اسلام نے جائز نکاح کا راستہ بند کرکے بہت سے ناجائز راستے کھولنے کے بجائے ایسی عورت کو زندگی بسر کرنے کا باوقار راستہ دیا ہے، اور ظاہر ہے کہ نکاح تو عورت کی اجازت اور مرضی سے ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی عورت اس کے لیے سوچ سمجھ کر تیار ہوتی ہے تو اس کی معاشرتی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مرد کے حوالے سے اس لیے کہ بسا اوقات ایک مرد اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ایک عورت پر قناعت نہیں کرتا تو اس کے لیے یہ راستہ رکھا گیا ہے کہ وہ ناجائز صورتیں اختیار کرنے کے بجائے باقاعدہ نکاح کرے تاکہ جس عورت کے ساتھ وہ یہ تعلق قائم کرے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی بھی مرد کو کسی بھی عورت کے ساتھ جنسی تعلق کی اس وقت تک اجازت نہیں دیتا جب تک وہ اس عورت کے مالی اخراجات اور جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی پرورش اور اخراجات کی ذمہ داری باقاعدہ طور پر قبول نہ کرے۔ اسلام مغرب کے موجودہ فلسفہ اور کلچر کی طرح جنسی تعلقات کو اس طرح آزاد نہیں چھوڑتا کہ مرد تو اپنا جنسی تقاضا پورا کرکے چلتا بنے اور عورت اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تنہا رہ جائے۔
دنیا میں مردوں کی آبادی عورتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ ایشیاء اور افریقہ کے چند ایک ممالک کے علاوہ پوری دنیا میں ہی عورتوں کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے۔ جن ممالک میں عورتوں کی آبادی کم ہے ان میں سے ایک اہم ملک ہندوستان ہے۔ اور ہندوستان میں عورتوں کی آبادی مردوں کے مقابلے میں کم ہونے کا بنیادی سبب ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں۔ یہاں ہر سال دس لاکھ سے زیادہ اسقاطِ حمل کیے جاتے ہیں اور یہ معلوم ہوتے ہی کہ پیدا ہونے والی بچی ہو گی اسقاط کرواد دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح بچیوں کو قتل کیے جانے کی وجہ سے ہی مردوں کی آبادی زیادہ ہے باقی پوری دنیا میں اس کے برعکس صورتحال ہے۔
ایک سے زائد شادیوں کا قرآنی فرمان حکم نہیں بلکہ اجازت ہے جو بعض حالات میں ناگزیر ہو جاتی ہیں جنگ، حادثات، طبعی حالات بعض اوقات ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں کہ معاشرے میں اگر ایک سے زائد شادیوں پر پابندی عائد ہو تو وہ سنگین سماجی مشکلات کا شکار ہو جائے جس کے اکثر نظائر ان معاشروں میں دیکھے جاسکتے ہیں جہاں ایک سے زائد شادیوں پر قانونی پابندی ہے تاہم یہ اسلام کا تصور عدل ہے کہ وہ معاشرہ جہاں ظہور اسلام سے قبل دس دس شادیاں کرنے کا رواج تھا اور ہر طرح کی جنسی بے اعتدالی عام تھی اسلام نے اسے حرام ٹھہرایا اور شادیوں کو صرف چار تک محدود کرکے عورت کے تقدس اور سماجی حقوق کو تحفظ عطا کر دیا۔
اس لیے اگر خاندان کو انسانی سوسائٹی کے بنیادی یونٹ کی حیثیت حاصل ہے اور اس کا تحفظ و بقاء ضروری ہے تو اس کے لیے نکاح و طلاق کے وہی قوانین فطری اور ناگزیر ہیں جو قرآن پاک پیش کرتا ہے اور سابقہ آسمانی تعلیمات بھی انہی کی تائید کرتی ہیں اس لیے کہ ان کی بنیاد فطرت پر ہے۔