کشمیر کمیونٹی کا آٹے پر سبسڈی بحالی کیلئے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) کشمیری کمیونٹی راولپنڈی اسلام آباد کے زیر اہتمام آزاد کشمیر میں آٹے پر سبسڈی کی بحالی کے لئے جمعہ کے روزنیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت، آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف نعرے بازی ، مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آٹے پر سبسڈی بحال کرنے کے مطالبات درج تھے ۔احتجاجی مظاہرے سے کشمیر کمیونٹی راولپنڈی اسلام آباد کے رہنمائوں شاہد اعظم ، طاہر محمود ، سیدمظہر خورشید ،رضوان آزاد،جاوید حنیف ، سردار شوکت محمود ،ثاقب نسیم ،راشد رشید ،ماجد شریف ،صمد شکیل ،واجد حنیف ،احتشام رشید ،اعجازکشمیری، احسن علی گورو ،صمد محمود ، امان اللہ خان ، بلال الطاف راجہ عارف طاہر ، اسرار عباسی اور دیگر نے خطاب کیا ۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرنے والے مقررین کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے ایک عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور ہمارے پاس پرامن احتجاج کے علاوہ کو ئی چارہ نہیں۔ کورونا حالات کے پیشِ نظر جہاں پوری دنیا کی حکومتیں عوام کو سہولیات دے رہی ہیں جبکہ ہماری حکومت مہنگا ئی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں جبکہ عوام کو مزید مہنگا ئی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت یہ کہتی ہے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں جس کی وجہ سے مہنگاء کرنا پڑ رہی ہے جبکہ دوسری جانب لینٹ افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی عوام دشمن پالیساں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں۔ مظاہرین نے آزاد پتن میں مظاہرین پر کئے جانے والے تشدد کی بھرپور انداز میں مذمت کی اور کہا کہ آٹے کی سبسڈی کی بحالی یا مہنگا ئی صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ پولیس ملازمین کا بھی مسئلہ ہے۔ حکمران اپنی شاہ خرچیاں اور عیاشیاں چھپانے کے لئے عوام اور پولیس کو آپس میں لڑا رہے ہیں مگر ہم یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کہ اول تو پولیس و باقی ادارے عوامی خدمتگار ہیں اور اسی کی تنخواہ لیتے ہیں پھر عوام اور پولیس کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ آٹے کی قیمت 5 نومبر سے پہلے کی سطح لائے ۔سبسڈی بحال کرے ورنہ منظم عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔آٹے کہ قیمت کم کرنے کے لیے سبسڈی دی جائے اور قیمتیں بڑھائے جانے کی تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک سیکریٹری خوراک کو زمہ داریوں سے الگ کیا جائے۔ مظاہرین نے کہا کہ سبسڈی مالی یا غیر مالی مد میں دی جانے والی وہ رعایت ہوتی ہے جس کا مقصد معاشی شعبے، اداروں، تجارت اور شہریوں کی معاشی اور سماجی پالسیوں کو استحکام دینا ہوتا ہے۔یہ سبسڈی پیداواری اداروں اور صارفین دونوں کو ہی دی جاتی ہیں۔ اگر مہنگائی بہت بڑھ چکی ہو اور اس سے نچلا طبقہ متاثر ہو رہا ہو تو اس صورتحال میں حکومتیں سبسڈی دے کر عوام کی مشکلات میں کمی لاتی ہیں تاکہ محروم طبقے کو ریلیف دیا جا سکے۔حکومت پاکستان نے تنازعہ کشمیر کے حل تک کشمیر ی عوام کواشیاء خورونوش پر سبسڈی دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔سبسبڈی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی دی جاتی ہے۔ یورپ میں اس کا فلسفہ یہ تھا کہ زراعت کی قیمتوں میں اتار چڑھا آتا ہے اس کے استحکام کے لیے ابھی تک سبسڈی دی جاتی ہے۔ ہاوسنگ اور دیگر شعبوں میں مہنگائی ہوتی ہے لیکن خوراک کی قیمت مستحکم رہتی ہے۔