100 پھول کھلنے دیں … نثارکیانی

چین میں جدید چین کے بانی رہنما ما ؤزے تنگ نے اپنے تقریبا 30 سالہ ہنگامہ خیز دور میں سیاسی نعروں کو آرٹ میں تبدیل کیا اگرچہ ماؤکے جانشینوں نے ان کے بہت سے سخت رہنما اصولوں کو نظرانداز کر دیا ہے لیکن یہاں ذکر ہے ان کے11 نعروں میں سے ایک کا جس نے چین کی شکل تبدیل کر دی۔”100 پھول کھلنے دیں“چینی تقاریر میں یہ محاورہ اب بھی استعمال ہوتا ہے۔ما ؤزے تنگ بڑی تگ و دو کے بعد قدیم چینی ادب کھنگال کر ایسی ہم آہنگ کہاوتیں، ضرب الامثال اور اقوالِ زریں ڈھونڈ نکالتے تھے اور اپنی تقاریر میں استعمال کیا کرتے تھے۔سو پھول کھلنے دیں، سوچ کے سو دھارے کو ٹکرانے دیں۔ یہ محاورہ چینی تاریخ کے بین الریاستی جنگوں کے زمانے سے لیا گیا ہے جس کا اختتام 221 قبل از مسیح میں ہوا تھا۔اس محاورے کو پھیلانے کا مقصد یہ تھا کہ عوام پارٹی پر تنقید کر سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، تنقید شروع ہو گئی۔ حکام کے خلاف دیواروں پر پوسٹر آویزاں ہونے لگے اور طلبہ اور استاتذہ نے کھلے عام پارٹی کی پالیسیوں پر اعتراضات داغنا شروع کر دیے۔ماؤ زے تنگ یہ محاورہ آزادکشمیر پی ٹی آئی کی سیاسی کیفیت پر بالکل فٹ آتاہے۔ آزادکشمیر میں سیاسی جماعتیں چینی کمیونسٹ پارٹی کی طرح کا نہ تو نظم رکھتی ہیں اور نہ ہی اس کے تنظیمی ڈھانچے جمہوری ہیں یہاں پارٹی چیئر مین/ صدر کے انتخاب سے لیکر یو سی کے عہدیداران کی نامزدگیاں ہوتی ہیں۔ جو سیاسی جماعتوں میں شخصی آمریت کی عکاسی کرتی ہیں۔ آزادکشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت آج کل بہت سے سیاسی لوگوں کو مفلر پہنا کر اپنی پارٹی میں شامل کررہی ہے۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان سوشل میڈیا پرپارٹی کی پالیسیوں پر اعتراضات داغنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ عمل الیکشن سے ٹھیک 6 ماہ قبل ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی آزادکشمیر کی قیادت 2015ء میں سابق وزیر اعظم آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو سونپی گئی تھی۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزادکشمیر کی سیاسی دھارے میں کئی عشروں سے متحرک سیاسی رہنما ہیں جو سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتے آزادکشمیر کے کسی چھوٹے سے بھی موضع میں مختصر نوٹس پر بڑے سیاسی اجتماع کا انعقاد کرنا ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بیرسڑ سلطان محمود چوہدری کو بعض قوتوں نے اپنی مرضی کاتنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی موقع نہیں دیا۔ پارٹی کے انتہائی اہم سیاسی عہدیداران آج بھی ان کی مرضی کے برعکس ہیں یہی وجہ پارٹی کی مستحکم تعمیر میں مشکلات کا باعث بھی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کئی پھاڑ ہو کر سیاسی سرگرمیاں کر رہی ہے۔آزادکشمیر میں غیر اعلانیہ الیکشن مہم جاری رکھنے وا لی پی ٹی آئی کی صورت حال حیرت انگیر موڑ پر داخل ہوچکی ہے۔یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ وہ لوگ جو بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ 2015 میں شامل ہوئے تھے ان کو یکسر نظر انداز کر کے 2021 میں مفلر ڈال کر شامل ہونے والے الیکٹیبلز کو الیکشن لڑنے کے لئے ہری جھنڈی دیکھائی جائے گی۔ الیکٹیبلز کے بارے میں جب ایک دفعہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے پو چھا گیا کہ آپ ایسے افراد کو اپنی جماعت میں شامل کرتے ہی کیوں ہیں تو اس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ خود ہی ہماری جماعت میں آ جاتے ہیں، یعنی الیکٹیبلز یا اپنے حلقوں میں اثر روسوخ رکھنے والے سیاستدان خود ہی وقت کی نبض کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اس وقت کون سی جماعت میں جانے سے ان کو اقتدار ملے گا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں بھی ایسے مفاد پرست سیاستدانوں کا ماضی دیکھے بغیر ان کو اپنی جماعت میں شامل کر لیتی ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ ہماری سیاست میں یہ رویہ کیوں پایا جاتا ہے؟اگر ہم گلگت بلتستان کے حالیہ الیکشن کا جائزہ لیں تو تحریک انصاف نے پارٹی میں پہلے شامل ہونے والوں کو یکسر نظر انداز کر کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے الیکٹیبلز کو نہ صرف توڑا بلکہ ٹکٹ بھی جاری کردیئے۔ان ٹکٹ ہولڈرز کے مدمقابل تحریک انصاف کے پرانے کارکنوں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور جیت بھی گئے۔غور کریں تو نظر آتا ہے کہ وہ تمام الیکٹیبلز ہار گئے ہیں جنہیں مفلر پہنا کر تحریک انصاف نے پرانی پارٹیوں سے نکالا۔اپوزیشن جماعتیں واضح طور پر کمزور ہوگئیں لیکن حیرت ناک طور پر ٹکٹ سے محروم ہونے والے کسی بھی امیدوار نے پارٹی نہیں بدلی بلکہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔آزادکشمیر میں بھی یہی تاثر یہ مل ہے نظرانداز ہونے والے پی ٹی آئی کے کارکنان آزاد امیدوار تحریک انصاف کی مخالفت پر اتر یں گے۔جس کا ناتواں پی ٹی آئی کو مزید زیادہ نقصان ہوگا۔اس کیفیت میں پی ٹی آئی آزادکشمیر سمیت دیگر مین سٹریم جماعتوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی لیڈر شب کو ایسے اقدامات متعارف کروانے سے روکیں جس سے ان کا استحصال ہو تا ہو۔ قببیلائی علاقائی ازم کی بنیادوں پرپر ووٹ دینے اور لینے پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔سیاست دراصل سماجی رو یوں کی تابع ہوتی ہے۔ سماجی شعور نے سیاسی شعور کا تعین کرنا ہوتا ہے، نہ کہ سیاسی شعور نے سماجی شعور کا۔ سماجی شعور کو نظر انداز کرنے ہی کے باعث سیاسی جماعتیں بھی عملیت پسندی کے نام پر ایسے ایسے سمجھوتے کر لیتی ہیں کہ جس سے ‘اسٹیٹس کو’ برقرار رہتا ہے۔حالیہ عرصے میں کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے عوام کو یہ باور کروایا کہ ٹوٹی، کھمبے، تھانہ، کچہری، اور نوکریوں کی سیاست کا تعلق پارلیمانی نظام کے تحت منتخب ہونے والے نمائندوں سے ہوتا ہی نہیں بلکہ ان مسائل کے حل کے لیے عوام کو اپنے آپ کو بلدیاتی سطح پر حقوق دلوانے پڑتے ہیں؟ بدقسمتی سے اس وقت صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر فعال طبقات بھی سیاسیات کی اس اہم حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے کہ کسی معاشرے میں سیاسی تبدیلی سے پہلے سماجی شعور کی سطح بلند ہونا ضروری ہو تی ہے۔اس کیفیت میں آزاد کشمیر کے اندر اب روایتی سیاسی لیڈروں کے بجائے ریٹائرڈ بیورو کریٹس، اچھی شہرت کے حامل دیگر شعبوں سے بھی شخصیات کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں شاید اس طرح آزاد کشمیر کے سیاسی ایوانوں میں مزید بہتر لوگوں کی شکل میں نمائندگی سامنے آسکے۔پی ٹی آئی کو بھی الیکٹیلبز کے بجائے اپنے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے جنہوں نے 2016 کے الیکشن میں اچھی کارکردگی دیکھائی تھی۔ یہ لوگ آپ کے پھول ہیں۔ یہی ”100 پھول کھلیں گے تو آپکے گلستان کی رونق بنیں گے، اگر ان پھولوں نے آپ کی پارٹی کی پالیسیوں پر اعتراضات داغنا شروع کر دیے تو نا نو من تیل رہے گا نہ رادھا ناچے گی۔