اپنی شناخت اپنا کلچر ….قیوم امام ساقی

راقم نے سب سے زیادہ اپنی تہذیب اور کلچر پر لکھا ۔کیونکہ ہمارے کلچر کو بہت سے چیلنجیز کا سامنا رہا ہے اور آج بھی ہے کلچر سے محروم معاشرے اپنی شناخت کھو دیتے ہیں اور پھر وہ اپنی شناخت کے لیے جتن کرتے ہیں مگر ان کو کوئی شناخت نہیں ملتی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا اس وقت ہم کر رہے ہیں لیکن ہمیں ہر حال میں اپنا کلچر اپنی نئی نسل کو منتقل کرنا ہے تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی کلچر میں اپنی شناخت کے ساتھ جگہ بنا سکیں۔ آج سے چالیس سال قبل جموں کشمیر کا کلچر قطحی طور پر مختلف تھا رہین سہن عادات رسمیں اور روایات’ لباس اور اخلاقی معیارات آج سے بلکل مختلف تھے اگر آج سے چالیس سال پہلے کے کشمیری معاشرے کی ثقافتی تعریف کی جائے۔ تو ہمیں ا ُ س وقت کے کشمیری معاشرے کو فطری اور قدرتی اشتراکی سماج کہنا پڑے گا اس دور میں ہر کام مل جل کر کرنے کا کلچر تھا گھر کی تعمیر سے لے کر شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات ‘مل جل کر انجام دینے کا رجحان کشمیر سماج کا لازمی جذ تھا۔ اس دور میں لوگوں کا معاشی انحصار کاشتکاری اور غلہ بانی تھا چناچہ زمینوں کی بوائی اور فیصلیں کاٹنے اور ان کو صاف کر کے اناج کی کوٹڑی تک پہنچانے کے لئے محلے کے افراد مل کر کام کرتے تھے۔ اس دور کے کشمیر میں زمین کی پیداوار کو کہیں حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا ۔ اس میں سے باربر’ یعنی نائی’ لوہار ۔ کمار یعنی برتن بنانے والے کے لئے سال بھر کی مزدوری الگ کر دی جاتی تھی ۔ عوام کی خوراک زیادہ تر مکئی اورچاول تھے۔ گندم کا استعمال بہت کم تھا ۔ پوری ریاست میں مکئی کا استعمال بہت زیادہ تھا اور پوری ریاست کے ہر گائوں میں پن چکیاں لگی ہوئی تھی جہاں یہ مکئی پسی جاتی تھی اس کے علاوہ ہر گھر میں ہاتھ سے گمائی جانے والی چکی بھی موجود ہوتی تھی۔ جس کو ایمر جنسی حالات میںاستعمال میں لا کر آٹا بنایا جاتا تھا اس دور کے جموں کشمیر کے ہر گھر میں آٹا پیسنے کی چکی اور ( اوکھلی) ضرور موجود ہوتی تھی اس دور کی خواتین چکی اور اوکھلی کے استعمال میں ایک خاص تجربہ رکھتی تھی اور وہ اس قدر صحت مند اور طاقتور ہوتی تھیں کہ جفا کشی میںاپنی مثال آپ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کی خواتین کی عمریں طویل ہوتی تھی کچھ خواتین ایک سو سال کی عمر کو پہنچ کر بھی گھر کے تمام کام خود کر لیا کرتی تھی۔ مرد بھی بے حد جفا کش تھے وہ سال کا زیادہ حصہ زمینوں کی بوائی اور فیصلوں کی کٹائی میں لگے رہتے تھے اور ستبر سے دسمبر تک سردیوں کے لئے وقت لکڑی جمع کرنے اور مکانات کی تعمیر کے لئے مختص تھا چونکہ اس دوران زمینوں کا پیداواری عمل رک جاتا تھا۔
مکئی کی روٹی بھی کہیں طرح سے پکائی جاتی تھی۔ کچھ علاقوں میں یہ روٹی بھی باعقدہ تندور پر پکائی جاتی تھی اس کے پرا ٹھے بھی پکائے جاتے تھے اور اس کی روٹیاں چپاتی کی طرح بھی ہوتی تھی ۔ یہ ایسا دور تھا جب ہر گھر میں وافر مقدار میں دودھ موجود ہوتا تھا چناچہ عام طور پر مکئی کی روٹی ساگ لیسی اور گھی اور دہی کے ساتھ کھائی جاتی تھی۔ پاکستان اور بھار ت سے خوراک درآمد کرنے کا کوئی رواج نہیں تھا اور نہ ہی ضرورت تھی اگر کسی علاقے میں گندم اور چاول کی فیصل نا کافی ہوتی تھی تو جموں کشمیر کے زیادہ زرخیز علاقوں سے یہ کمی پوری کر لی جاتی تھی اگرچہ اس وقت روپے پیسے کی کمی تھی لیکن اس کے باوجود لوگ اپنی زمینوں کی خالص اور طاقتور خوراک کھانے کی وجہ سے صحت مند اور طاقتور تھے۔ اور انتہائی اطمنان بخش زندگی گزارتے تھے اور آج سے چالیس سال پرانا کلچر مکمل زمیدار اور کیسان معاشرے کا کلچر تھا عوامی اخلاقیات بھی فیصل کی طرح زمینوں سے منسلک تھی تمام لوگ مل کر گھر بناتے تھے مل کر فصلیں کا شت کرتے تھے ۔ اور مل کر فصلیں کاٹتے تھے۔ زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی قدریں موجود تھی اس دور میں خواتین کے مشاغل انتہائی محنت طلب اور کھٹن تھے مثلاََ خواتین چکی پستی چرخہ ۔کاتتی مال موشیوں کے لئے گھاس کاٹتی اور بہت دور دراز مقامات سے پانی لاتی تھی عام طور پانی لانے کا وقت صبح اور شام کو مختص ہوتا۔ مگر شامیں خواتین کی تفریح کا باعث بھی بنتی تھی کیونکہ محلے کے پانی پراپنے اپنے گھڑے اٹھائے یہ خواتین جمع ہوتی اور زندگی کے ہر معاملے پر گفتگو کرتی تھی۔ اس طرح ہر گھر کے حالات سے پورا محلہ بلکہ پورا گائو ں آگاہ ہوتا تھا۔ اس طرح پانی کے چشمے خواتین کے غم بانٹنے کے لئے کا زریعہ بھی بن گئے تھے۔ آج سے چالیس سال پہلے کی شادیاں بھی آج کی شادیوں سے بہت مختلف تھی۔ یہ انتہائی پر وقار شادیاں ہوتی تھی ۔ ان شادیوں کی خاص بات یہ تھی کہ شادیاں ایک سے دو ماہ تک جاری رہتی تھی۔ ان شادیوں میں بھی اشتراکیت کا بھر پور مظاہرہ ہوتا تھا۔ شادی چاہے کسی کی بھی ہو تمام رشتہ دار اور محلے والے اور برادری والے اس میں( نیادرے) پانجی کی صورت میں اپنا کنٹری بیوشن دیتے تھے۔ جموں کشمیر کے تمام علاقوں میں شادی کے تین سے چار فنگشن ہوتے تھے پہلا فنگشن منگنی کافنگشن ہوتا تھا۔ دوسرا فنگشن منیائی کا فنگشن ہوتا تھا اور تیسرا اور چھوتا فنگشن مہندی اور بارات ڈولی کا ہوتا تھا منگنی اور منیائی بارات ڈولی سے تقریباََ ایک ماہ پہلے ہو جایا کرتی تھی درمیانی عرصے میں دولہا ور دولہن تمام قریبی رشتہ داروں کے ہاں داعوتیں کھاتے رہتے تھے کھانے کی دعوت بھی آج کل کی شادی سے کم نہیں ہوتی تھی دولہا اور دولہن باجے اور شنائی کی دھن پر چلتے ہوئے اپنے میزبانوں کے گھر پہنچتے تھے یاد رہے کہ دولہا اپنے رشتہ داروں کے ہاں دعوتیں کھانے میں مصروف ہوتا تھا اور دولہن اپنے خاندان اور ناطے رشتے میں دعوتیں کھاتی تھی۔ ایک سے دو ماہ تک باجے ۔ ڈول اور سرنائی دولہے اور دولہن کے ساتھ رہتے تھے۔ خود میری شادی بھی 1980کی دھائی میں اسی کلچر کے مطابق ہوئی تھی۔ اس دوران میں نے ایسے رشتہ داروں کے ہاں بھی داعوتیں کھائی تھی۔ بعد میں جن کے رشتے یاد تک نہیں۔ کتنا اچھا وقت تھا کتنی محبتیں اور خلوص تھا ۔ ایک دوسرے کے لئے قربانی بے مثال جذبے تھے۔آہ کتنا اچھا کبھی نہ بھولنے والا وقت تھا ۔ وہ سب کے ساتھ مل بیٹھ کر صبح سے شام تک محفلیں سجائے رکھنا ۔ وہ شام کی رنگنیوں کا دل آویز منظر جب پانی کے چشموں پر خواتین کی رنگین محفلیں لگتی تھی۔ ہائے وہ ایسی شامیںجب عندلیب اور کوئل کی مترنم آوازیںآمدِ بہار کا اعلان کرتی تھی۔ ہو سکتا ہے عندلیب اور کوئل اب بھی نغمہ سرا ہوں لیکن آج کو ئی سننے والا نہیں۔ کیونکہ آج ہر شخص ناطے رشتے ہونے کے باوجود تنہا ہے بہت تنہا۔ آج ہماری سماعتیں فطرت کی نغمہ سرائی سے نا آشنا ہیں۔ شادی کے موقع پر پورے جموں کشمیر کی خواتین گیت اور سنگیت کی محفلیں سجایا کرتی تھی۔ خواتین کے یہ گیت دولہا اور دلہن کی تحسین اور خوشی کے دعائیہ کلمات ہوتے تھے اور کچھ گیتوں میں جموں کشمیر کا تہذیبی پس منظر بیان کیا جاتا تھا ۔ کبھی کبھی اکیلی عورت بھی گاتی تھی اور اکثر دو تین خواتین مل کر ان گیتوں کو سنگیت کی صورت میں ڈھالتی تھی۔ ڈھولکی اور ہرمونیم کی جگہ مٹی کا گھڑا درمیان میں رکھا جاتا اس سے ڈھولکی اور ہرمونیم کا کام لیا جاتا ۔ یہ گیت کسی شاعر کے لکھے ہوئے نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ گیت جموں کشمیر کے تاریخی اور ثقافری حالات نے خود پیدا کر دئیے تھے۔ بلکہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ گیت دھرتی کی اپنی آواز اور اپنی تخلیق تھے۔ اس وقت کی ہر خاتون کام کے دوران کوئی نہ کوئی گیت ضرور گھنگناتی رہتی تھی
اس دور میں اکثر گھر کچے ہوتے تھے۔ شادی والے گھر میں دو تین ہفتے پہلے ہی دیواروں کی لیپائی اور چونے جیسی سفید مٹی لگانے کا کام مل کرتی تھی اور اس موقع پر بھی گیت سنگیت کی محفلیں سجتی تھی۔ مجھے 1947کے بعد جموں شہر اور جموں کے دہی علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والی خواتین کے گیت اور سنگیت بھی سننے کا موقع ملتا رہا خاص طور پر گجرنوالہ اور حافظ آباد میں مجھے ایسے گیتوں سے لطف اندوزہونے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملتا رہا۔ ان گیتوں میں انہوں نے جموں شہر ۔ اکھنور، مینڈر پونچھ سری نگر ، بارہ مولولہ اور دیگر بہت سے علاقوں کا حوالہ دے کر ان گیتوں کو لا زوال بنا دیا ہے۔ ان گیتوں میں یادِ وطن کے کے حوالے سے وہ لفظ استعمال ہوئے ہیں جو عام طور پر محبت کرنے والے ہجر و فراق کی کفیت بیان کرتے وقت کرتے ہیں ہر گیت جموں کشمیر کے کسی شہر کسی دریا اور کسی علاقے سے منسلک ہے ان گیتوں میں کشمیر کے موسموں اور پھولوں پھلوں کا ذکر اس مہارت سے کیا گیا ہے۔ یہ گیت سنتے وقت آدمی ان وادیوں میں پہنچ جاتا ہے ان گیتوں میں اپنی ہجرتوں اور پرائے دیس میں رہنے کی داستان بیان کی گئی ہے۔ ان گیتوں میں درد ہے محبت ہے اور جموں کشمیر کی تاریخ اور تہذیب کا حسن ہے جموں کشمیر کے ہندو گھرانوں کی شادیاں بھی یہاں کے مقامی مسلمانوں جیسی ہی تھی ڈولی اور کڑولی کا رواج ہندووں سے مسلمانوں میں آیا تھا بلکہ مہندی اور گانا باندھنے کی رسم یکساں طور پر ایک جیسی تھی