بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے ر وزگاری…. نعیم حیات

پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت اس نعرے پر قائم ہوئی تھے کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری کو کم کرے گی اور معاشی نمو میں اضافہ ہوگا ۔معاشی نمو کی تعریف سے مراد مصنوعات اور خدمات کی پیداوار میں مجموعی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی پیمائش حقیقی یا برائے نام ہی کی جاتی ہے۔ روایتی طور پر ، مجموعی معاشی نمو کو جی ڈی پی کے لحاظ سے ماپا جاتا ہے (مجموعی ملکی پیداوار) یا GNP (مجموعی قومی مصنوع)۔ تاہم ، کچھ متبادل میٹرک بھی ہیں جن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ معاشی نمو کی وضاحت؟ اس کی آسان ترین اصطلاحات میں ، معاشی نمو کو دی گئی معیشت میں مجموعی پیداوار میں اضافے کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں ، مکمل طور پر نہیں ، پیداوار میں مجموعی طور پر اضافہ مجموعی طور پر بڑھتی اوسط معمولی پیداواری صلاحیت سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس سے متعلقہ آمدنی میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ، صارفین زیادہ تر معیار زندگی اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے زیادہ خرچ کرنے اور خریدنے کے بارے میں آزاد ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ایک جانب اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری طرف پی ڈی ایم کے بیانیے کو وہ پذیرا ئی نہیں ملی جو وہ امید کر رہے تھے۔ تیسری طرف عام عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہی ہے۔ نہ جانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن عام عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف کوروناکی وبا نے لوگوں کے روزگار اور آمدنی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی کو کنٹرل کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ گویا ملک کا المیہ ہے کہ ملکی معیشت چند مافیاز کے ہاتھ میں جکڑی ہوئی ہے۔ جن کی اس پورے نظام میں ایک قسم کی اجارہ داری ہے۔ جب وہ چاہیں پیداوار کی مصنوئی قلت پیدا کر کے چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیں یا پھر ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ سے ناجائز منافع خوری کریں۔ بد قسمتی سے ان مافیاز کو ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر بجائے ان کو کنٹرول کرنے کے ان کو مضبوط کیا اور نہ صرف مضبوط کیا بلکہ اپنے سیاسی سیٹ اپ کا حصہ بنایا تاکہ وہ ان کے کندھوں پر سوار ہو کر بآسانی اپنا اقتدار حاصل کر سکیں۔ پھر جب یہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان مافیاز کو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے اور عام عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کو اپنے نعرے اور منشور کی روشنی میں ان مافیاز کنٹرول کرنا چاہئے تھا۔ جس میں بظاہر کوئی خاطرخواہ پیشرفت یا کامیابی نہیں ہو سکی۔یہاں اگر دیکھا جائے تو اس وقت جہاں عمران خان تبدیلی کا اور اصلاحات کا نعرہ لے کے آئے تھے۔ لوگوں کو بے شمار امیدیں دلوائیں۔ اور کوئی شک بھی ن نہیں لوگ جو دوسری روایتی پارٹیوں سے بے زار تھے بلخصوص نوجوانوں نے پی ٹی آئی کی بھرپور سپورٹ بھی کی اور ووٹ بھی دیے۔ یہ لوگ اس وقت بھی ایک طرف آس اور امید سے ہیں اور ہونا بھی چاہئے کہ خان صا حب اور ان کی ٹیم اپنے کیے ہوے وعدوں کو ضرور عملی جامہ پہناہیں گے۔ لیکن دوسری طرف مایوسی کا پہلو بھی موجود ہے۔ وہ اس لئے کہ اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کو خاطر خواہ مقام حاصل کرنے کے بجائے مہنگائی, بے روزگاری اور بے شمار دوسرے مسائل کی زد میں ہے۔ جن کو عموما ترقی پذیر ممالک کو سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حال ہی میں ایک انکشاف کیا تھا جس میں ان کا دعوی تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں نو لاکھ سے زائد افراد سطح غربت سے نیچے آچکے ۔ واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پہلے ہی چھ کروڑ سے زائد افراد سطح غربت سے نیچے رہے ہیں ہیں۔معیشت دانوں کی بحث ومباحث سے دور عوام صرف اس بات کا جواب چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنے وعدے کے مطابق لوگوں کو نوکریاں کب دے گی اور مہنگائی و بے ورزگاری کو کب کم کرے گی۔کئی ناقدین کا خیال ہے کہ یہ صرف غریب افراد ہی نہیں ہیں جو حکومت کی معاشی پالیسیوں سے تنگ ہیں بلکہ متوسط طبقے کے افراد بھی معاشی بد حالی سے مسائل میں گھر گئے ہیںتاہم پی ٹی آئی کے حمایتی ان سارے مسائل کا ذمہ دار ن لیگ کی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سماجی سطح پر اس سے نہ صرف سیاست دانوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے ورزگاری اور غربت سے پی ٹی آئی کے لیے مشکلات بڑھیں گی اور عوامی حلقوں میں اس کی مقبولیت تیزی سے کم ہوگی۔ جب کہ معاشی نمو میں کمی سے بھی عوام کے مسائل میں اضافہ ہوگا، جس کا نزلہ کسی وقت بھی پی ٹی آئی پر گر سکتا ہے۔گزشتہ چالیس برسوں کی معاشی پالیسیوں اور چلنے والی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو ہم کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ یہ سٹے بازوں کی معیشت ہے اور اسی طرز پر چلائی جا رہی ہے۔ اسٹاک اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد کیلئے پالیسی استوار کی جاتی ہے۔ ان کے کاروبار کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ وہ مال بنانیمیں آزاد ہیں جبکہ کارخانے بند، نوکریاں ختم ہو رہی ہیں۔ کارخانے لگیں گے تو روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے لیکن یہاں تو کارخانوں کے لئے صنعت شکن پالیسی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ اس نظام کے سبب ہی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک معاشی مسائل کی دلدل میں مزید سے مزید دھنستا جا رہا ہے۔ہماری معیشتوں کو اسی ڈگر پر ڈال دیا گیا ہیکہ بنائو نہیں امپورٹ کر لو۔ پیسے نہیں ہیں تو قرض لے لو۔ یہ تباہی کا راستہ ہے۔ جس میں نجی شعبہ بحران میں سپورٹ مانگتا ہے۔ بیل آئوٹ پیکیج دیا جاتا ہے۔ منافع میں ریاست کو شامل نہیں کرتا لیکن نقصان میں ریاست سے مانگتا ہے۔ یہ درست نہیں ریاست نجی شعبہ کو کنٹرول کرے، روزگار، تعلیم، صحت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
۔ بہر حال حالات جیسے بھی ہوں تحریک انصاف کی حکومت کو ہر صورت ڈیلیور کرنا ہو گا اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔اور فوری طور پر عام عوام کو ریلیف دینا ہو گا۔ ورنہ پی ڈی ایم جس کے پاس ذاتی کوئی عوام دوست ایجنڈا نہیں ہے لیکن اپکی کی انہیں کمزوریوں کو کیش کروا سکتی ہے اور کروا بھی رہی ہے۔۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو