چکسواری، انٹرمیڈیٹ و ثانوی تعلیمی بورڈ میرپور کی تعلیم کش پالیسیاں، بورڈ انتظامیہ طلبہ کے ساتھ ہاتھ کرگئی۔

چک سواری (شہزاد عظیم سے) آزادکشمیرکے واحد انٹرمیڈیٹ وثانوی تعلیمی بورڈ میرپورکی لوٹ مار دھڑلے سے جاری، جماعت نہم کے داخلہ جات آن لائن لیکن بورڈکی طرف سے 540روپے پروسیسنگ فیس بھی وصول کی جانے لگی، 11جنوری کے نوٹیفکیشن برائے پرائیویٹ طلبہ آرٹس میں داخلہ فیس950روپے، پروسیسنگ فیس 320روپے اور رجسٹریشن فیس1200روپے مقررکی گئی جب کہ 14جنوری کوجاری شدہ ترمیمی نوٹیفکیشن میں رجسٹریشن فیس1200روپے میں دوسری مرتبہ پروسیسنگ فیس220روپے کااضافہ کردیاگیا، یعنی پروسینگ فیس540روپے فی طالب علم وصول کی جارہی ہے، تعلیمی بورڈمیرپورکی تعلیم کش پالیسیوں کے خلاف اہل چک سواری نے صدائے احتجاج بلندکرنے کاعندیہ دے دیا، حکومتِ آزادکشمیرکے اربابِ اختیارسے اس لوٹ ماراورتعلیم کش پالیسیوں کانوٹس لیتے ہوئے اصلاح احوال کامطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق آزادکشمیرکے واحدانٹرمیڈیٹ وثانوی تعلیمی بورڈمیرپورکی تعلیم کش پالیسیاں نقطہ عروج پرپہنچ چکی ہیں جس کی واضح مثال حالیہ جماعت نہم کے آن لائن داخلہ جات ہیں۔ گیارہ جنوری2021ء کوتعلیمی بورڈمیرپورکے کنٹرولرامتحانات سکولزنعیم شاہدچوہدری کے دستخطوں سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پرائیویٹ اُمیدواران آرٹس950روپے داخلہ فیس کے ساتھ320روپے پروسیسنگ فیس (کل1270روپے) داخل خزانہ بورڈکروائیں گے جب کہ پہلی مرتبہ امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ مبلغ 1200روپے (1000برائے رجسٹریشن اور200برائے سند) بھی جمع کروائیں گے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت نہم آرٹس میں پہلی مرتبہ داخلہ لینے والے طلبہ کل2470روپے جمع کروائیں گے۔

جب کہ 14جنوری2021ء کوایک ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کیاگیاجس کے مطابق 1270روپے داخلہ و پروسیسنگ فیس کے ساتھ رجسٹریشن مع سندفیس میں بھی 220روپے برائے پروسینگ کااضافہ کرتے ہوئے کل فیس2690روپے کردی گئی۔ یعنی جماعت نہم برائے آرٹس گروپ میں پہلی مرتبہ داخل ہونے والاطالب علم داخلہ فیس میں 320روپے اوررجسٹریشن فیس میں 220روپے پروسینگ فیس (کل440روپے) اداکرے گا حالانکہ امسال جماعت نہم کے داخلے آن لائن ہورہے ہیں اورپرائیویٹ طالب علم اپنے طورپریاکسی کمپیوٹرکی دُکان سے خودتمام فارم پُرکرواکراُس کاپرنٹ لے رہاہے۔

دیگربے شمارمدات میں اضافی فیس کے ساتھ ساتھ ایک ہی جماعت کے لیے دومرتبہ پروسینگ فیس لاگوکرنابورڈانتظامیہ کی تعلیم کش پالیسی اورلوٹ مارکی واضح مثال ہے جس پراہل چک سواری نے احتجاج کاعندیہ دیتے ہوئے حکومتِ آزادکشمیرکے اربابِ اختیارسے پرزورمطالبہ کیاہے کہ انٹرمیڈیٹ وثانوی تعلیمی بورڈ میرپورکی لوٹ ماراورتعلیم کش پالیسیوں کاسختی سے نوٹس لیتے ہوئے اصلاح کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ بورڈانتظامیہ کوظالمانہ پروسینگ فیس کانوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے وصول شدہ فیس طلبہ کوواپس کرنے کاپابندکیاجائے بصورتِ دیگربورڈکی تعلیم کش پالیسیوں سے تعلیمی گراف تنزلی کاشکار ہوکر عوامی محرومیوں میں اضافے کاسبب بنے گا۔چک سواری کے سماجی وتعلیم دوست حلقے اس لوٹ مارکے خلاف صدائے احتجاج بلندکرنے سمیت انتہائی اقدام سے بھی گریزنہیں کریں گے۔