چکسواری، محکمہ برقیات صارفین کیلئے سفید ہاتھی، شہریوں نے احتجاج کا عندیہ دے دیا۔

چک سواری (نمائندہ خصوصی) تنخواہوں اورمراعات میں اضافے کے لیے احتجاج کرنے والے برقیات ملازمین صارفین کے لیے ڈراؤناخواب بن گئے، صارفین سے جبراًجرمانہ وصول کرنے کے لیے آخری تاریخ سے چندروزقبل بل تقسیم کرنامعمول بنا لیا، اوسط بلات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اضافی یونٹس کابل درست کروانے کے لیے برقیات دفاترکے چکرلگاناصارفین کامقدر بن گیا، حکومتِ آزادکشمیرکے اربابِ اختیارسے نوٹس لے کراصلاح احوال کامطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق تنخواہوں اورالاؤنسزمیں اضافے کے لیے قلم وکام چھوڑہڑتال کرنے والے محکمہ برقیات آزادکشمیرکے ملازمین فرائض منصبی کی ادائیگی بھول چکے ہیں اورحالت یہ ہوچکی ہے کہ محکمہ برقیات شریف ومعززصارفین کے لیے ڈراؤناخواب بن چکاہے۔ ہرماہ صارفین کودھڑکالگارہتاہے کہ اس ماہ برقیات ملازمین بل کی مدمیں کیاگل کھلائیں گے۔ حکومت کی طرف سے آئے روزبجلی یونٹس کے نرخوں میں اضافے سے شہری الگ پریشان ہیں کہ برقیات ملازمین نے بھی اپنے حصے کاظلم ڈھاناشروع کررکھاہے۔ نئے میٹرکے لیے جمع شدہ درخواستوں کوالتواء میں رکھ کرہرماہ اوسط بلات میں اضافہ کردیاجاتاہے اوراضافی یونٹس کابل اداکرنابرقیات صارفین پرفرض ہوچکاہے۔ہرماہ کی توتکراراوربحث مباحثہ کے باوجودبرقیات ملازمین کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔

مزیدیہ کہ صارفین سے جبراًجرمانہ وصول کرنے کے لیے آخری تاریخ ادائیگی سے چندروزقبل بل تقسیم کیے جاتے ہیں۔ایک یادوروزمیں بل جمع نہ کراسکنے والے صارفین کومجبوراًجرمانہ بھی اداکرناپڑتاہے۔ مہنگائی،بے روزگاری اورکروناوائرس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے متاثرہ شہری زندگی سے مایوس ہوکرسوچنے پرمجبورہیں کہ انہیں کس ناکردہ جرم کی سزادی جارہی ہے۔

چک سواری کے سماجی حلقوں نے برقیات ملازمین کی مجرمانہ روش اورصارفین کش پالیسیوں پرشدیداحتجاج کرتے ہوئے حکومتِ آزادکشمیرکے اربابِ اختیار وزیراعظم،وزیربرقیات،چیف سیکرٹری سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ برقیات ملازمین کاقبلہ درست کرتے ہوئے صارفین کش پالیسیوں پرعمل پیراملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے اورچک سواری میں اضافی اوسط بلات واضافی یونٹس کابل بھیجنے والے اہلکاران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ برقیات صارفین سکھ کاسانس لے سکیں بصورتِ دیگرصارفین کی محرومیاں احتجاجی تحریک کاروپ دھارسکتی ہیں جس کے نتائج کی تمام ترذمہ داری حکومتِ آزادکشمیراورمحکمہ کے اربابِ اختیارپرعائدہوگی۔