سیاست گندا کھیل ہے….. نثار کیانی

تاریخ میں جتنے بڑے نام ہیں انہیں شہرت اپنے ہی کسی نظریے سے ملی، اصل میں وہ کسی سوچ کا نام ہیں۔سقراط کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ زہر کا پیالہ پیتا اور مسکرا کر کہتا میں تو مر رہا ہوں لیکن میری سوچ کبھی نہیں مر سکتی۔ اسی طرح جس کویہ یقین ہوجائے کہ میری سوچ نہیں مر سکتی ،وہ شخص زندہ ہو جاتاہے۔ سوچ ایک سے دوسرے تک اور بالآخر نسلوں میں منتقل ہوجاتی ہے اورافکارِ تازہ سے نمو پاتی ہے۔ اگر افکارِ تازہ نہ ہوں تو زندگی ایسے تالاب کی مانند ہو جاتی ہے۔ جہاں پانی عرصہ دراز تک رکا رہنے سے بدبو دار ہوجاتا ہے۔

پراثرشخصیات کو اپنی ذات پر اعتماد ہوتا ہے۔خود پر اعتماد ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں بدھا نے کہا تھا کہ”جس نے خود پر اعتماد کیا، زمانہ اس کے سامنے سرنگوں ہوجاتا ہے”پر اثر شخصیت کا اپنی ذات پر پختہ یقین ہوتا ہے اور جو شخص یقین کے ساتھ قدم اٹھاتا ہے ،منزلیں اس کا استقبال کرتی ہیں۔ ہماری زندگی میں یقین کا بہت زیادہ کردار ہے کیونکہ یقین سے نتائج بنتے ہیں۔

آزادکشمیر کی تحصیل راولاکوٹ کی یونین کونسل بنگوئیں سے تعلق رکھنے والے سردار تنویر الیاس خان کا آزادکشمیر کی سیاست میں حال ہی میں ظہور ہوا ہے جو ایسی ہی پر اثر شخصیت کے مالک ہیں ۔اب میں جو بات کرنے لگا ہوں ، وہ ذرا احتیاط سے کہنے کی ہے۔ تنویر الیاس خان کا ظہور ایک ایسا واقعہ ہے جسے غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آزادکشمیر کی سیاست میں سردار تنویر الیاس خان کی انٹری پر ہمارے ہاں لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ دیکھو ان کا پیٹرن وہی ہے جو ہمارے ہاں ماضی کے سیاست دانوں کا ہے۔ یعنی وہ برادری ازم کی بنیاد پر الیکشن لڑکر اقتدار پر براجمان ہونا چاہتے ہیں ۔معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار تنویر الیاس خان کے متعلقبھلا اس بات پر کیسے یقین کیا جائے کہ تنویر الیاس خان جو بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ڈگری ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل بی سمیت جرنلزم میں بھی ڈگری ہولڈر۔آزادکشمیر نہیں بلکہ پاکستان کی معروف کاروباری شخصیات کی فہرست میں شامل۔دی سینٹورس، تاج ریزیڈینشیا جیسے سٹیٹ آف دی آرٹ کامیاب منصوبوں کے پلانر۔جن کے ذاتی تعلقات اور دوستیاں ملک بھر کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماوں سے ہوں وہ بھلا ایسا کام کر سکتا ہے ۔سب سے اہم بات تنویر الیاس نے جو ترقی کی ہے اس میں ان کے قبیلے کا رتی بھر بھی کردار نہیں انہوں نے اب تک جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بھی برادری کے مرہون منت نہیں چاہے وہ پنجاب حکومت میں ذمہ داری ہے یا پھر بزنس میں کامیابی،جبکہ سیاست میں بھی ان کی طرف سے برادری کی بنیاد پر کوئی بات سامنے نہیں آئی ۔جبکہ جس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں وہ آبادی کے اعتبار سے آزادکشمیر کے چند حلقوں کے علاوہ ریاست بھر میں اقلیت میں ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ آزادکشمیر میں کئی عشروں سے طلبہ یونینز پر پابندی اوربلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے نیا سیاسی کیڈر تیار نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے آزادکشمیر کی فی زمانہ سیاست میں نظریاتی کارکن خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں شخصی آمریت کی وجہ سے آزاد کشمیر کے اندر اب روایتی سیاسی لیڈروں کے بجائے ریٹائرڈ بیورو کریٹس، اچھی شہرت کے حامل دیگر شعبوں سے بھی شخصیات کی دلچسپی شروع ہو گئی ہے ۔سیاسی کارکنوں کی اکثریت شخصیت پرستی میں غرق دکھائی دیتی ہے۔ ماضی میں سیاسی کارکنان کو نظریاتی بنیادوںپر پرکھا جا تا تھا ۔ موجودہ عہد میں پیپلز پارٹی یا قوم پرست جماعتوں کے سیاسی کارکنان کو نظریاتی کہا جا سکتا ہے اس کے علاوہ چراغوں میں روشنی نہیں رہی۔ وہ سیاسی وژن جو سیاسی کارکنان کی تربیت کرتا ہے،سیاسی شعور عطا کرتا ہے وہ آزادکشمیر کے سیاسی افق پر کمیاب ہوچکا ہے۔ سیاست کے لئے ایک برادری کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ برادری کون لوگ ہیں ہم سارے ،اگرہم خود برادری کے گرداب میں نہ گریں تو برادری ازم بھی ختم ہو جائے گی اور برادری کی سیاست کرنے والے بھی۔ ثابت ہوا کہ اصل مسئلہ ہم عوام الناس خود ہی ہیں ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برادری ازم آزاد کشمیر میں حقیقی تبدیلی کے رستے میں ہمیشہ بڑی رکاوٹ رہی،علاقائی تعصبات کی بنیاد پر پڑنے والے ووٹوں سے تعمیر و ترقی نہیں ہوسکی۔اہل اور عوام کا دکھ درد سمجھنے والے نمائندے ہی علاقوں اور قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔آزاد کشمیر میں بعض لوگوں نے سیاست کے اندر مفادات اور برادری ازم کو مذہب کی طرح مقدس بنا رکھا ہے اور اس کی بنیاد پر لوگ منقسم ہیں ۔

ہماری سماجی نفسیات یہ ہے کہ کچھ لوگ اورخاندان دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں ان کی کوئی خامی خامی نہیں ہوتی ہے وہ صرف حکمرانی کے لیے ہوتے ہیں۔معاشرہ کسی بھی نوعیت کا ہو اسے حکمرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں چھوٹی سطح پرحکمرانی گائوں کے بڑے کھڑ پینچ جو ایک طرح سے غیر سرکاری حکمران ہوتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔اور اگر کوئی نیا شخص میدان سیاست میں اترے تو اس کو بھونڈے الزامات کی بھینٹ چڑھا کر اس کی شخصیت کو متنازعہ بنایا جاتا ہے ۔سردار تنویر الیاس کی آزادکشمیر کی سیاست میں انٹری کوئی سیاسی حادثہ نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کا نتیجے میں ہوئی ۔ سیاسی جماعتوں کی بقا ء اگر ایک طرف وقت کے ساتھ ہم آہنگ پالیسیاںہیں تو دوسری طرف تنظیمی اعتبار سے مضبوط سیاسی جماعتیں ہی عوام میں اپنی جڑیں قائم رکھ پاتی ہیںوگرنہ سیاسی جماعتوں کا تارو پود خش و خاشاک کی طرح ہوا میں اڑ جاتا ہے،بند مٹھی میں ریت کی مانند سرکتے سرکتے بس خالی مٹھی رہ جاتی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آزادکشمیر میں اپنی پارٹی کی کمزور پوزیشن کو دیکھتے ہوئے پارٹی کی نظریاتی اساس سے وابستگی کو ترجیح دیتے ہوئے سردار تنویر الیاس کو ٹاسک دیا ۔ سردار تنویر الیاس خان جو واقعتا دلیل کے ہتھیار سے لیس ہیں،اور مخالفین سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ا س ہتھیار کا صحیح استعمال کرنے کے ہنر سے بہرہ مند بھی ہیں۔اس سب سے بڑھ کر وفاداری ان کا خاصہ ہے۔ سردار تنویر الیاس خا ن نے اپنی خدادادصلاحیتیوں،بہترین کاروباری سرگرمیوںکی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان کو بھی اپنا گرویدہ بنائے رکھا ہے ۔نئی ذمہ داریوں کے بعد سردار تنویر الیاس خان کا نیا امتحان شروع ہو چکا ہے ،جس میں سب سے اہم نئے لوگوں کو پارٹی افکار سے روشناس کروا کر انہیں پارٹی میں شامل کرنا ہے۔تنویر الیاس خان کو اللہ تعالی نے مال و دولت سے مالا مال کر رکھا ہے اور اس کے پیچھے ان کی ذاتی محنت ہے ،یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آزادکشمیر کی سیاست میں ان کی دلچسپی پیسے کمانے کے لئے نہیں بلکہ دل سے لوگوں کی خدمت کاجذبہ ہے

۔ہمارے ہاں سات دہائیوں سے سیاسی تماشا لگا ہوا ہے جسے دیکھنے والے غریب عوام ہیں جو مسائل کی حوالات میں مقید ہیں انہیں دن کو آرام ہے نہ رات کو چین، ان کے بچوں کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہے۔ انہیں بھوک ننگ زندگی سے بیزار کرتی چلی جا رہی ہے۔ آزادکشمیر میں کوئی حکومت مہنگائی ، غربت اور جہالت کا خاتمہ نہیں کر سکی ۔ جو ہوا اقتدار کے حصول کے لیے ہوا ۔ اس کیفیت میں کسی مدبر شخصیت کا امتحان اور اصل شان یہ ہے کہ وہ کیسے ان مسائل سے نپٹنے کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ اسے گیم سے باہر نہیں ہونا۔ یہ تو اس کی شکست ہوئی۔ اسے گیم میں رہنا ہے تاکہ وہ ملک کی خدمت کر سکے اور اپنے ارادوں کو عملی شکل پہنا سکے۔ کاروبار کے برعکس سیاست اور ریاست کے معاملات چلانا بڑا مشکل کام ہے ۔ سردار تنویر الیاس خان ایک کامیاب بزنس مین ضرور ہیں لیکن کتنے کامیاب سیاستدان ثابت ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ لیکن سردار تنویر الیاس خان کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ سیاست اور اقتدار کوئی پھولوں کی مالا نہیں، بلکہ کانٹوں کی سیج ہے جہاں ہر فعل احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے ۔اس لئے تو بعض لوگ کہتے ہیں، سیاست ہے ہی گندا کھیل۔بہرحال پھر بھی میدان کھلا ہے اور اب سردار تنویر الیاس خان کو مخلص محنتی، دیانتدار اور با صلاحیت ٹیم تشکیل دیکر اپنی صلاحیتیں آزمانی ہوں گی،جو اللہ تعالی نے انہیں ودیعت کی ہیں ۔اگر حقیقی معنوں میں وہ خود پر اعتماد کر کے میدان سیاست میں نکلے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ زمانہ ان کے سامنے سرنگوں ہوگا اور ایوان اقتدار کی منزلیں ان کا ضرور استقبال کریں گی۔