تنویر الیاس کا سرپرائز ڈے جلسہ بھارتی ایوانوں میں لرزہ طاری کرے گا، سردار افتخار

الریاض( نمائندہ خصوصی) سعودی عرب میں مقیم آزادکشمیر کی سیاسی و سماجی شخصیت سردار افتخار احمد نے کہا ہے کہ 27 فروری کو سردار تنویر الیاس خان کا راولاکوٹ سرپرائز ڈے جلسہ بھارتی ایوانوں میں لرزہ طاری کردے گا ۔جلسے میں اس عزم کا اعادہ کیا جائیگا کہ پاکستان امن پسند ریاست ہے تاہم جب بھی جارحیت مسلط کی گئی تو دشمن کو جواب میں سرپرائز ہی ملے گا۔ 27 فروری کو سردار تنویر الیاس خان کی قیادت میں پونچھ کی دھرتی پرپاکستانی شاہینوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں سردار افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے27 فروری کو بھارت کے لیے شرمندگی اور ندامت کا دن ہے ۔بھارت کو اپنی فضائی جارحیت انتہائی مہنگی پڑی تھی ،27فروری کو ناپاک عزائم لیکرپاک فضائی حدود میں داخل ہونے والے بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کوگرفتارکرکے بھارت کوپیغام دیاکہ پاک فضائیہ سمیت افواج پاکستان ہرقسم کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، اس دن کو یادگار بنانے کے لئے سردار تنویر الیاس خان نے 27 فروری کو آزادکشمیر میںبھی سرپرائز ڈے کے طورپرمنانے کا فیصلہ کیا ہے۔انشاء اللہ عوام کا جم غفیر راولاکوٹ میں جمع ہو کر یہ ثابت کرے گا کہ افواج پاکستان اور آزادکشمیر کے غیور عوام ہندوستان کی درگت بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ۔سرپرائز ڈے کی گونج ہندوستانی ایوانوں کو ہلا کر دے گی

انہوں نے کہا کہ 27فروری کو سردار تنویر الیاس خان کی قیادت میں پونچھ کے عوام اس عزم کا اعادہ کریں گے کہ کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ وابستگی لازوال ہے

کشمیریوں نے سری نگر میں 19 جولائی1947 کو غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے گھر میں قرارداد الحاق پاکستان کی منظوری دیکر قیام پاکستان سے 21 دن قبل اپنی منزل کا تعین کر دیا تھا۔ 27فروری کا راولاکوٹ سرپرائز ڈے جلسہ اس قرارداد کا تسلسل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ لازوال وابستگی کو مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے اپنی عملی جدوجہد سے دوام بخشا ۔آج بھی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی درندگی اور سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ہے اور کشمیری آج بھی مقبوضہ کشمیر کے کونے کونے میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں اور اپنے شہدا کو سبز ہلالی پرچم میں سپرد خاک کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ لازوال رشتوں میں مضبوطی آئی ہے اور آج کشمیریوں کی تیسری نسل اپنے حق خوداردیت کے حصول کے لیے اپنے آباو اجداد کی طرح پرعزم ہے۔آزادکشمیر کے عوام کو اس سرپرائز ڈے کو بھرپور انداز میںمنا ئیں تاکہ ہندوستان کو واضح پیغام جائے کہ آج بھی کشمیر ی عوام کے ولولے میں کوئی لغزش نہیں آئی اور آج بھی وہ پاکستان کے لئے مر مٹنے کو تیار ہیں ۔

سردار افتخار احمد نے کہا کہ یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیامگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا۔ لیکن بھارتی پائلٹ کی وردی آج بھی کراچی میں بھارت کی ذلت کا اشتہار بن کر پاک فضائیہ کے میوزیم میں موجودہے اور وہ کپ بھی جس میں ابھی نندن نے چائے پی کر کہا تھا۔ چائے فنٹاسٹک۔انشااللہ پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا۔