مرے اجداد کا حصّہ مری جاگیر کرو، اسرار احمد

مجھے پابندِ سلاسل یا کہ زنجیر کرو
مرے اجداد کا حصّہ مری جاگیر کرو

کہیں سے اُدھڑا ہوا ہوں، کہیں میں بکھرا پڑا
مری ہستی کو سنوارو مری تعمیر کرو

یہ کیا نیند سے بیدار ہوئے پھر سے نیند
تمھیں کرنا ہے جو ہنگامہ ہمہ گیر کرو

اے مؤرخ! مری تاریخ کے بخیے نہ اُدھیڑ
مرے چہرے پہ بنے نقش بھی تحریر کرو

نہ ادھر ہوں نہ ادھر کا نہ یہاں ہوں نہ وہاں
کبھی ہو جاؤں کہیں کا کوئی تدبیر کرو

کہیں میں پاک کہیں چین کہیں ہند میں ہوں
سبھی اک جا پہ سمیٹو مجھے کشمیر کرو

یہی ہے طرزِ مداواِئے ہنر تو اسرارؔ
زباں کو تیغِ سخن اور قلم تیر کرو

اسرار احمد