روس یوکرائین جنگ پر اقوامِ عالم کا دوہرا معیار، پاکستان کی کشمیر پالیسی معنی خیز۔ طارق بشیر

چک سواری (تحصیل رپورٹر) برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کشمیری راہ نماطارق بشیرنے کہاکہ دنیاکے ترقی یافتہ ممالک دوہرامعیارترک کرتے ہوئے یوکرائین کی طرح مقبوضہ کشمیرکی آزادی کے لیے بھی آوازبلندکریں۔گذشتہ سات دہائیوں سے کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں بالخصوص 5اگست 2019ء کے بعدبھارت نے اپنے زیرتسلط کشمیرکوانسانی جیل میں تبدیل کردیاہے لیکن اقوام عالم کی طرف سے جس طرح یوکرائین سے اظہارہمدردی کیاجارہاہے افسوس کہ آج تک ایسی ہمدردی کااظہارکشمیریوں کے ساتھ نہیں کیاگیا۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے آزادپریس کلب چک سواری کے صحافیوں سے ٹیلی فونک بات چیت کرتے ہوئے کیا۔طارق بشیرنے مزیدکہاکہ پاکستانی حکمرانوں کواگراپنے ذاتی مسائل سے فرصت ملے تووہ کشمیری قیادت کواعتمادمیں لے کریورپی یونین کے حکمرانوں سے ملاقاتیں کریں اورماضی کے مقابلے میں بہتراندازمیں مسئلہ کشمیرکواُجاگرکیاجائے۔مجبورومقہورکشمیری بہنیں،بوڑھے اوربچے پاکستان کی طرف اُمیدکی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ پاکستان بطورمسلمان ملک،بطورایٹمی طاقت اوربطورپڑوسی اُن کی دادرسی کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتاہے کہ لیکن افسوس صدافسوس کہ پاکستانی حکمرانوں نے آج تک کشمیری کی آزادی کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

طارق بشیرنے کہاکہ بیس کیمپ کہلائے جانے والے آزادکشمیرکے وظیفہ خور سیاست دانوں کومختلف سرکاری سکیموں کی مدمیں کمیشن لینے سے فرصت ملے توایک نظربھارتی مقبوضہ کشمیرکی طرف بھی اٹھائیں کہ جس تحریک آزادی کشمیرکی خاطراُن کی نسلیں گذشتہ سات دہائیوں سے سرکاری وظیفہ حاصل کررہی ہیں اُس بارے میں قدرت کاقانونی کبھی بھی حرکت میں آسکتاہے اور مکافات کے قانون کے تحت وہ ضرورنشانِ عبرت بنیں گے۔اس لیے آزادکشمیرسمیت پاکستانی حکمران ہوش کے ناخن لیں اورمسئلہ کشمیرکے حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔#