آہ!ساجد صادق موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس.. نثاراحمد کیانی

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ اپنی ایک متعینہ مدت ساتھ لاتا ہے پھر وہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو کر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور موت ایک سچی اور اٹل حقیقت ہے، جس سے کسی کو مفر نہیں، تقدیر کا لکھا ہر فیصلہ اسی کے عین مطابق ہوتا ہے اسکی کی مرضی کے آگے کس کا بس چل سکتا ہے؟ تقدیر میں لکھا کون مٹا سکتا ہے؟ موت کے وقت کو کون ٹال سکتا ہے؟ دنیا میں کسی نعمت کے چھن جانے سے انسان کو غم کاہونا فطری تقاضا ہے،

مورخہ 17 مئی 2022بروز منگل کا سورج طلوع ہو نے کے بعد ہمیں یہ افسوسناک خبر دے گیا کہ دھرتی کشمیر کا عظیم سپوت، ضلع پونچھ کا ایک چمکتا آفتاب معروف قوم پرست سیاست دان جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماجموںکشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق سنیئر نائب صدر ساجد صادق ٹریفک حادثہ میںاپنی روشنی بکھیر کر دو ساتھیوں سردار الطاف اور سردار عفیل رزاق کے ہمراہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر طرف سے انا للہ اور مغفرت کی دعائیں دیں جانے لگی ہر چھوٹا بڑا غم کا اظہار کرنے لگا گھر والے رشتے دار ہر ایک غمزدہ و ماتم کدہ تھا لوگوں پر ایک طرح کا سکوت سا طاری تھا۔۔اور کیوں نہ ہو؟ ایک طرف وہ جو ایک طویل عرصے تک خلوص دل سے طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کے لئے عملی میدان میں جدوجہد کی ہو۔اس کیلئے قیدو بند کی صعوبیتں بھی برداشت کیں ہوں ۔ ساجد صادق کی ذات کے اندر و فلاحی کاموں کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا قوم کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے تھے۔ ساجد صادق دھرتی کشمیر کے وہ فرزند تھے، جو سیاسی و سماجی مسائل کی آگاہی اور تاریخ کا شعور رکھتے تھے اور انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں اپنی دھاگ بٹھائی۔زمانہ طالب علمی سے لیکر عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھنے تک معاشرے کے محروم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد میں حصہ لیا۔ انہوں نے بطور طالب علم مفت و لازمی تعلیم کے بنیادی حق کے حصول، طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے، تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرانے اور طلبا کے دیگر مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے جموں کشمیرنیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا اور جموںکشمیرنیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی سنیئر نائب صدر منتخب ہو گئے۔ فروہ تعلیم مکمل ہونے کے فورا بعد وہ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہو گئے اور پوری تندی سے سیاسی میدان میں متحرک رہے۔

ساجد صادق اس مکتبہ فکر سے جڑے ہوئے تھے جن کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے لیے طویل اور کٹھن جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے۔ سماجی تبدیلی اچانک نہیں آتی بلکہ سماج میں تبدیلی کے عناصر آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہیں۔ سماج چونکہ طبقاتی، سیاسی، مذہبی، نفسیاتی تقسیم اور جبر کا شکار ہوتا ہے، لہذا اس میں بعض لوگ اس جبر کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ان باغی عناصر کو انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ مجرم اور باغی بھی گردانے جاتے ہیں، لیکن جوں جوں سماج میں ان کی جدوجہد کے نتیجے میں شعور بڑھتا ہے، معاشرہ تبدیلی کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔سیاسی جدوجہد کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں اور ان کی سیاست کا حتمی ہدف معاشرے میں ایک ایسے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کا قیام اور نفاذ ہے، جو انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ کر دے۔ جو ریاست میں بسنے والے تمام باشندوں کے لیے رنگ، نسل، جنس، مذہب، مسلک اور قومیت کی تفریق کے بغیر معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی میں یکساں مواقع کی ضمانت ہو گا اور یہاں کسی ایک فرد کی دوسرے فرد پر حاکمیت کی گنجائش نہ رہے گی۔ وہ نظام مختلف زبانوں اور ثقافتوں کو پھلنے پھولنے کے یکساں مواقع کی ضمانت فراہم کرے گا۔جنس کی بنیاد پر تفریق کو مٹا دے گا، سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید ترین اوزاروں اور تحقیق کی مدد سے ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنایا جائے گا۔

اللہ تعالی نے ساجد صادق مرحوم کو چند ایسی خوبیوں اورصلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جو باقی لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ آپ کے اندر حکمت عملی اور دوراندیشی تھی، آپ صاحب الرائے تھے،مشکل ترین اور ہنگامی حالات میں بھی بڑی باریکی سے جائزہ لے کر اطمنان سے فیصلہ لینے کا ہنر آپ میں موجود تھا، حاضر جوابی اور پیچیدہ اور الجھے ہوئے مسائل کو آزادکشمیر کی تہذیبی روایات کے تحت قابِل قبول حل منٹوں میں سلجھانے کا فن آپ میں موجود تھا۔معاشرے کی الجھی گتھیاں سلجھانے کیلئے لوگ ان کی ذات پراندھا اعتماد کرتے تھے۔حتی کے گھریلو الجھنوں کے حل کیلئے بھی علاقے کے لوگ اس نوجوان سے مکمل اعتماد کرتے تھے ۔ جس دن انہیں حادثہ پیش آیا اس روز بھی وہ ایک سماجی مسئلہ یکسو کرنے کیلئے جار ہے تھے ۔

علاقے کی بڑی قد آورسیاسی و سماجی شخصیات کی موت کے بعد ساجد صادق نے اپنے علاقے میں لوگوں کو ان کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا ۔ یہ ساجد صادق کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ نیلیاں لاگڑیاٹ کے 3 درجن سے زائد گھرانوں کو واٹر سپلائی سکیم ملی ،ایک موقع یہ بھی آیا تھا کہ پانی کی کمی کے باعث اس علاقے کے مکین اپنے مال مویشی بیچ کر گھروں کو تالے لگا کر دوسری جگہ کرائے کے مکان میں ر ہنے کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن ساجد صادق کی کاوشوں کی سے ناصر ف اس علاقے کے بہنوں کے سروں سے گھڑے(گاگر) اترے ،بلکہ ہر گھر میں پانی نلکوں میں آتا ہے ،آج یہاں کی مکین تمام خواتین کے ہاتھ اس نوجوان کی مغفرت کے لئے اٹھے ہوئے ہیں ۔اس علاقے میں2005 کے زلزلے کے بعد ایر ا سیرا کے تحت زیر تکمیل کئی سکولوں کی عمارات ساجد صادق کی احتجاجی تحریک کی بنیاد پر مکمل ہوئے

۔ویمن ویلفئیر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن محترمہ نجمہ شکور مرحومہ کے ہمراہ بطور سوشل ویلفیئرآرگنائزر ضلع پونچھ میں سڑکوں کی تعمیر سے لے کر کلینکس، اسکول، مائیکروکریڈٹ، واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن اسکیمز، روزگار اور نہ جانے کتنے ہی پیچیدہ پروجیکٹس چلا ئے ۔جس سڑک پر انہیں جان لیوا حادثہ پیش آیا اس کی پختگی کے لئے بھی ہر فورم ہر آواز اٹھائی ۔آزادکشمیر میں آٹے کی سبسڈی کی بحالی کیلئے کئی ہفتے پانیولہ دھرنے میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ راولاکوٹ میں آٹے کی سبسڈی کی بحالی ، مہنگائی اور سٹیٹ سبجکیٹ رول کی خلاف ورزی کے پر اپنی پارٹی کی کال پرمکمل متحرک رہے ۔

ساجد صادق نے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بطور امیدوار حصہ لیا اور حلقہ ایل اے 22 پونچھ 5 میں پاکستان پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے امیدوار سے زیادہ جبکہ آزادکشمیر بھر میں اپنی پارٹی کے جملہ امیدواران سے زیادہ ووٹ سمیٹے ،الیکشن میں وہ اپنے حلقہ کے اندر نوجوان کی ایک بہترین ٹیم منظم کرنے میں کامیاب ہو گئے ،ساجد صادق ایک شخص نہیں بلکہ ایک منفرد فکر پر مبنی دنیا کا نام تھا جس کی دنیا میں نفرت کی کوئی جگہ نہ تھی جہاں علم کے چراغ ہر طرف روشن تھے جن کی روشنی محدود نہیں تھی۔ اس دنیا کی خوشبو ہر باذوق انسان محسوس کر کے خود کو معطر کر سکتا تھا۔اس دنیامیں کچھ روح ایسی جنم لیتی ہیں جو ہر ذی روح کی روح بن جاتی ہے جو کبھی بھولایا نہیں جا سکتا انہیں میں سے ایک ساجد صادق کی شخصیت تھی جن کی خدمات اور قربانیوں کو قوم کبھی بھلا نہیں پائے گی۔

ساجد صادق میں بہت سارے اوصاف اور خوبیاں تھیں جو نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے، اور ان کے والدین اولاد،بھائیوں بہنوں، بیوی اور ان کے جملہ تمام خویش و اقارب پارٹی کے رفقاء کار کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔ہمارا معاشرتی المیہ ہے اور افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم ہر بڑی شخصیت کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کے قصیدے بیان کیے جا سکیں جبکہ ان کی زندگی میں ہم نہ ہی ان کی قدر کی اور نہ ہی ان کو وہ عزت و مرتبہ دیا جس کے وہ اہل تھے۔ جس روڈ پر ساجد صادق کو حادثہ پیش آیا اسے ساجد صادق مرحوم کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے اور اس کی پختگی کے لئے حکومت فوری اقدامات کرے ،ساجد صادق آج دنیا میں نہیں ہیں لیکن انکے کر دار ان کے بہترین اوصاف اور ان کے عمل کی غماز ہیں تاریخ میں روشن رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لئے رہبری و رہنمائی کا سامان رہیں گی۔

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس ۔
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے ۔۔۔