آزادکشمیر کی خاتون ڈانسرمانسہرہ میں قتل سابق وزیر کیخلاف مقدمہ درج

سابق وزیر نے کرن کو مبینہ طور پر اس کے گھر میں اس وقت گولی مار کر قتل کردیا تھا جب مقتولہ نے ڈانس پرفارمنس کے دوران چھیڑ چھاڑ کرنے سے روکا

سابق وزیر نے اپنے دوستوں کیساتھ لاش کو اپنے گھر کے قریب کھڑی گاڑی میں چھوڑا، ڈانسر پر تین گولیاں چلائیں، دیگر ملزمان کی مدد سے لاش کو ٹھکانے لگایا

مانسہرہ( نیل فیری نیوز)مانسہرہ پولیس نے نوگوازی کے علاقے میں خاتون ڈانسر کو قتل کرنے کے الزام میں سابق وزیر ابرار حسین عرف اقبال کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سٹی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او صداقت نثار نے صحافیوں کو بتایا کہ ابرار حسین نے کرن کو مبینہ طور پر اس کے گھر میں اس وقت گولی مار کر قتل کردیا تھا جب مقتولہ نے ڈانس پرفارمنس کے دوران چھیڑ چھاڑ کرنے سے روکا۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اپنے دوستوں کے ساتھ لاش کو اس کے گھر کے قریب کھڑی گاڑی میں چھوڑ کر چلے گئے تھے

۔ایس ایچ او نے بتایا کہ کرن، آزاد کشمیر کی رہائشی تھی اور چڑیا کی ڈھکی کے علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ابرار حسین نے شریک ملزم محمد جمشید سے اس تقریب کے انعقاد کی درخواست کی تھی اور اپنے دوستوں اور دو خواتین کو، جن میں سے ایک ڈانسر تھی، کو مدعو کیا تھا

۔ایس ایچ او صداقت نثار نے کہا کہ مرکزی ملزم نے ڈانسر پر تین گولیاں چلائیں جبکہ راحیل تنولی اور میاں عامر سمیت دیگر ملزمان کی مدد سے لاش کو ٹھکانے لگایا۔انہوں نے کہا کہ پولیس محمد جمشید اور ایک خاتون کو گرفتار کر چکی ہے، جنہوں نے ڈانسر سے پرفارمنس کے لیے رابطہ کیا تھ

ا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘مجھے ایبٹ آباد روڈ پر گشت کرنے کے دوران ڈانسر کرن کی لاش کے بارے میں معلوم ہوا، جس کے بعد فوری طور پر لاش کو کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے رسمی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش اس کے بھائی کے حوالے کردی۔ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت قتل کی ایف آئی آر درج کر کے مرکزی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے۔