آزادکشمیر کے ملازمین کی ہڑتال رنگ لے آئی،تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

ملازمین کو بجٹ میں اعلان کردہ 15فیصد تنخواہوں میں اضافے اور ڈسپیریٹی الائونس کا نوٹیفکیشن جاری

ملازمین میں خوشی کی لہر،تمام ہڑتالی کیمپ ختم کردیے گئے

مظفرآباد(نیل فیری نیوز)آزادکشمیر کے ملازمین کی ہڑتال رنگ لے آئی،حکومت آزادکشمیر نے ملازمین کو بجٹ میں اعلان کردہ 15فیصد تنخواہوں میں اضافے اور ڈسپیریٹی الائونس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ملازمین میں خوشی کی لہر،تمام ہڑتالی کیمپ ختم کردیے گئے۔وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے ایپکا کے ہڑتالی کیمپ میں خود جاکر محکمہ مالیات سے جاری کردہ نوٹیفکیشن پیش کیا جسے وہاں ملازمین کی قیادت نے پڑھ کر سنایا تو ملازمین نے وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور وزیر خزانہ عبدالماجد خان کے حق میں نعرے لگائے اور خوشی سے رقص کیا۔اس موقع پر وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے کہا کہ ڈسپیریٹی الا?نس ملازمین کا حق تھا ہم نے اسے نہیں روکا ہوا تھا وفاق کے ساتھ ہمارے اصولی معاملات چل رہے تھے اور فنڈز کی قلت کے باعث یہ نوٹیفکیشن رکا ہوا تھا تاہم اب تک معاملات حل نہیں ہوئے، ملازمین خلوص نیت اور دیانتداری کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں، ملازمین کے حقوق کے لیے ہم ہر کردار ادا کریں گے۔ہم نے اپنی حد تک وعدہ پورا کردیا ہے ،وفاق نے کے ہمارے ساتھ معاملات درست نہیں ہیں،پورے پاکستان کے نقشے کو دیکھا جائے تو آزادکشمیر ایک تنکے جتنی جگہ ہے،ہمارے معاملات اور اخراجات بھی اتنے زیادہ نہیں ہیں ہمارے ساتھ وفاق کا رویہ افسوسناک ہے۔وزیراعظم اپنے طورپر وفاق کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہمیں مالی معاملات میں جکڑا جارہا ہے۔ عبدالماجد خان نے کہا کہ وزیر خزانہ پاکستان نے جو وعدے ہمارے ساتھ کیے ہیں وہ پورے نہیں کیے۔وزیر امور کشمیر،سیکرٹری امور کشمیر نے ہمیں یہ یقین دلایا تھا کہ ملازمین کی تنخواہوں پر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔وفاق میں بیٹھی حکومت نے ہمارے ساتھ جو بھی وعدے کیے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا، ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کا 15 ارب بنتا ہے ہمیں 1 ارب بھی نہیں دیا گیا،۔اس موقع پر ملازمین کی قیادت نے آزاد حکومت کا شکریہ ادا کیا۔یاد رہے کہ ملازمین نے گزشتہ مہینے ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس اور 15فیصد تنخواہوں میں اضافے کے اعلان کے باوجود اضافہ نہ ملنے پر ہڑتال کی کال دی تھی اور اگست کے آغاز کے ساتھ ہی ملازمین کے بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالی کیمپ پوری ریاست میں دیکھے گئے تاہم حکومت نے اپنے طور پر ملازمین کو الائونس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں اضافے کا وعدہ پورا کردیا ہے مگر وفاق سے معاملات یکسو ہوِئے بغیر مسلہ حل طلب ہی رہے گا۔یاد رہے کہ پنجاب ،خیبرپختوانخوا،بلوچستان،سندھ سمیت گلگت بلتستان کے ملازمین کو ڈسپیریٹی الائونس مالی سال 2021ـ22ء میں ہی دیدیا گیا تھا جبکہ آزادکشمیر میں یہ الائونس اب مالی سال 2022ـ23میں ملازمین کو دیا جارہا ہے
جو یکم جولائی سے شمار ہوگا۔
ملازمین کا کہناہے کہ آزاد کشمیر میں ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس 15%کا نوٹیفیکیشن 2017 کی ابتدائیم بیسک تنخواہ پر جاری ہوا ہے۔جبکہ پنجاب وفاق اور دیگرتمام صوبوں میں ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس 15% کا نوٹیفیکیشن Running بیسک تنخواہ پر جاری ہوا ہے ۔اس طرح آزاد کشمیر کے ملازمین کےساتھ ظلم ہوا ہے۔جس پر تمام تنظیم ہآ کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔