انسانی جنگیں اور انسانی بچے…. قیوم امام ساقی

وہ بچے جو ابھی مائوں کی آغوش میں کھیل رہے ہیں۔ اور انتہائی محصومانہ تجسس سے دنیا کا کھیل تماشہ دیکھ رہے ہیں ابھی تک ان کے لئے محاربی جنون اور مکانکی عمل دونوں ایک جیسے ہیں وہ کھلونوں اور آتشیں اسلحہ میں کوئی تمیز نہیں کر سکتے وہ نہیں جانتے کہ دہشت گرد اور جنونی جنگ باز کون لوگ ہیں۔ بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ امن اور جنگ کے معانی کیا ہیں وہ یہ سب جاننے اور جینے کے لئے دنیا میں تشریف لائے ہیں

بچہ چاہے یورپین ہو یا ایشیائی بچہ چاہے ہندو ہو یا مسلمان بچہ ہے یہودی ہو یا بدھ بچہ چاہے غریب ہو یا امیر ان کا کوئی بھی خاندان اور قبیلہ ہو بچے چاہے جہاں بھی ہوں وہ انسان کے بچے ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ فطری موت تک بلاخوف و خطر زندگی گزار سکیں ۔ اگر کسی وجہ سے ان کو زندگی اور موت کا فطری حق نہ مل سکے تو پھر انسان کی تما م سائنسی اور مذہبی کاوشیں لا حاصل ہو کر رہ جاتی ہیں اگرچہ انسان نے بڑی محنت اور دماغ سوزی سے صدیوں کا سفر کر کے پہیہ ایجاد کیا ، زبانیں اور ڈیکشنریاں ترتیب دیں۔آگے چل کر بڑی بڑی مشینیں ہوائی جہاز کمپیوٹر ایجاد کیے اور بکھرے ہوئے معاشروں کو قونین اور ضابطے دیے مگر جب دنیا میں امن کی جگہ جنگ عالمی شناخت بن جائے تو پھر بچے پیدا ہوتے ہی کسی نہ کسی جنگ کی بھینٹ چڑھ کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں دوسرے لفظوں میں ایسے تمام بچے غیر فطری موت کے سپرد ہو جاتے ہیںیا کر دیے جاتے ہیں حالانکہ ان کو یہ حق ملنا چائے کہ وہ بچپن سے بڑھاپے تک اپنی مرضی کی زندگی جی سکیں

مگر دنیا ایسی جگہ آج تک نہیں بن سکی۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایسے ہی ہزاروں لاکھوں بچے پوری طرح دنیا دیکھے بغیر اس دنیا سے واپس چلے گئے ان بچوں کی لاکھوں مائوں کی دلدوز چیخیں اور فریادیں انسانی تاریخ تو محفوظ نہیں کر سکی مگر خار خانہ قدرت میں ان مائوں کی چیخیں اور سسکیاں پوری طرح محفوظ ہیں یہ مائیں اپنے بچوں کو امن کی لوریاں دیتے ہوئے جنگ کی تباہ کاریوں میں گم ہو گئی ابھی تک مورخ ان تباہ کاریوں کو صحیح طور پر انسانی تاریخ کا حصہ نہیں بنا سکے جو تہذیبی جنگوں مذہبی جنگوں سیاسی جنگوں مسلکی اور علاقائی جنگوں کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اگر تمام جنگو کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے اعدا د وشمار جمع کیے جائیں تو اس وقت تک اربوں انسانوں کے اعداد وشمار ہمارے سامنے آ جائیں گے جو جہالت اور مذہبی جنونیت کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے اگرچہ آج کا انسان تہذیبی شناخت اور انسانی اخلاقیات کا پر چارک ہے مگر اس کے باوجود اس کی جنگی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی آج دنیا کا نام نہاد امن ایک خوفناک عالمی جنگ کے جھولے پر جھولتا ہوا محسوس ہو رہا ہے

۔ ابھی تک ان بچون کی روحوئوں کا احتجاج زمین کے گوشے گوشے میں محسوس کیا جا سکتا ہے جو بچے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے نتیجے میں غیر فطری موت مر گئے۔ اب اچانک تیسری عالمگیر جنگ کے اسباب پیدا ہو چکے ہیں بلکہ زیادہ درست بات یہ ہے کے تیسری عالمگیر جنگ کے بیج ایک پکی ہوئی فیصل کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں بس کسی بھی لحمے اس فیصل کی آگ انسان اور انسانی ترقی کو نابود کر دے گی
تیسری عالمگیر جنگ کا مطلب یہ ہو گا کہ جو بچے اس وقت دو سال ہوں گے۔ ان میں سے لاکھوں کروڑوں بچے پوری طرح دنیا نہیں دیکھ سکیں گے یوں سمجھ لیجیے کہ مستقبل کے ہزاروں ڈاکٹر انجنئیر ہزاروں سائنسدان ہزاروں مذہبی سکالر ہزاروں دانشور اور ادیب ہزاروں جنرل ایک دو سال کی عمر میں اس دنیا سے واپس جانے کے لئے مجبور کر دیے جائیں گے انسان کو چاہیے کہ وہ عالمی جنگ کی دستک کو اپنی دانش اور عقل کے لئے چیلنج تصور کرتے ہوئے کچھ ایسا کر گزرے کہ تیسری جنگ ہونے کے باوجود جانی نقصان کم سے کم ہو۔ اگر انسانی عقل اور شعور تیسری عالمی جنگ کی ممکنہ تباہ کاریوں کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ انسان اس مقام پر کبھی دوبارہ فائز نہ ہو سکے گا جس مقام پر وہ اس وقت پہنچ چکا ہے

دنیا کے سیا سی حالات برق رفتاری کے ساتھ عالمگیر جنگ کے اسباب میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر کی جنگ باز قوتیں اور جنگی جنون میں مبتلا حکمران عالمی جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے میں دن رات مصروف ہیں مگر بد قسمتی سے دنیا کے امن پسند ممالک اور افراد غیر جانبدا ر رہ کر دنیا کے تباہ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں مگر اس مرحلے پر غیر جانبداری کے معانی یہ ہوںگے۔ کہ دنیا کی جنگ باز قوتیں اس ساری محنت پر پانی پھیر دیں جو محنت انسان نے تحقیقی لیباٹریوں میں صدیوں تک جاری رکھی۔ انسان کی اسی تحقیقی چلہ کشی کے نتیجے میں انسان آج مشرق سے مغرب کا سالوں کاسفر چند گھنٹوں میں کر لیتا ہے اور مشرق سے مغرب تک رابطے کرنے کے لئے اس کو چند سکنڈلگتے ہیں صدیوں کی چلہ کشی اور محنت کے نتیجے میں انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس بلندی پر فائز ہو چکا ہے۔ جہاں دوسری دنیائیں اس کی دسترس میں آچکی ہیں۔ اگر تیسری عالم گیر جنگ ہوئی تو خدشہ ہے کہ انسان کی محنت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی

اس مرحلے پر دنیا بھر کے امن پسندوں کی غیر جانبداری جنگ باز قوتوں کو وہ قوت فراہم کر دے گی جو ابھی تک ان کو میسر نہیں اس طرح دنیا کے امن پسند افراد اور قومیں بھی عالمی جنگ کے جرم کا حصہ بن جائیں گے جو جرم دنیا کی ترقی کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے لئے جنونی جنگ باز کریں گے۔ یاد رکھنا چائے کہ تیسری عالمگیر جنگ کے نقارے بج چکے ہیں جنگ بازوں کے ہاتھ اور انگلیاں خطرناک ایٹمی ہتھیاروں کے اوپر پہنچ چکی ہیں بس کسی لحمے بھی کرہ ارض آگ ، دھوئیں اور انسانی ہڈیوں میں تحلیل ہو جائے گا دنیا بھر کے امن پسندوں کو کسی خاص وقت کا انتظار نہیں کرنا چائے

دنیا کی موجودہ ترقی اور نئی انسانی نسلوں کو بچانے اور برقرا رکھنے کے لئے کمال دانشمندی کی ضرورت ہو گی اور ہر خطرے کی جگہ پر امن کا پر چم لہرانا ہو گا اور دنیا کے جنگ بازوں کو خطر ناک ایٹمی ہتھیاروں سے دور رکھنا ہو گا۔ یہ تو ممکن ہے کہ انسان اپنی دانش اور عقل کی طاقت سے سمندری طوفانوں کو روک دے مگر جب دنیا میں ایک مرتبہ جنگ شروع ہو گئی تو اس جنگ کو روکنا نا ممکن ہو گا حقیقت یہ کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہونے سے پہلے بہت کچھ انسانی دسترس اور کنٹرول میں ہے مگر تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد کچھ بھی انسانی کنٹرول میں نہیں رہے گا اس وقت نہ تو عارضی جنگ بندی ممکن ہو گی اور نہ ہی ایٹمی آگ کو ٹھنڈا کر نا ممکن ہو گا دنیا بھر کے امن پسندوں کو جو کرنا ہے تیسری عالمی جنگ سے پہلے کرنا ہو گا اگرچہ تیسری عالمی جنگ کے اسباب انتہائی تیزی کے ساتھ نمایا ہوتے جارہے ہیں لیکن ابھی تک بہت کچھ انسانی کنٹرول میں ہے