المدد ویلفیئر ٹرسٹ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے کوشاں ہے:شبنم بہار


اسلام آباد( انٹرویو:نثار کیانی)المدد ویلفیئر ٹرسٹ کی چیئرپرسن شبنم بہار نے کہا ہے کہ خدمت ہی عظمت حاصل کرنے کا بہترین راستہ ہے ۔ خوشیوں سے محروم مرجھائے چہروں پر خوشیوں کی بہار لانا بہت بڑی عبادت ہےالمدد ویلفیئر ٹرسٹ معاشرے میں دکھی انسانیت کی خدمت اور مجبور و محروم طبقے کی ہر ممکن مدد کیلئے کوشاں ہے اور تعلیم، صحت،یتیموں کی دیکھ بھال اور فلاح عامہ کے میدانوں میں نمایاں خدمات سر انجام دہے رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے روزنامہ نیل فیری کو دیئے گئے خصوصی انٹر ویو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اِسلام خدمتِ اِنسانیت کا دین ہے۔ اِس میں تمام اِنسانیت کی محبت اور خدمت کو لازمی قرار دیتے ہوئے عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ انسانیت کی خدمت کا درس مجھے والدین کی طرف سے ورثہ میں ملاہے ۔میرے شوہر پاکستان ائیر فورس میں ملازمت کرتے تھے برین ٹیومر کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا
میری تین معصوم بچیاں تھیں رشتہ داروں نے زور دیا کہ میں دوسری شادی کر لوں لیکن نے اپنے والد محترم کو کہا کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ اپنی بچیوں کی اچھی تربیت کرنا چاہتی ہوں ، ایک عورت جو اوائل جوانی میں بیوہ ہوگئی ہو اُس کو زمانے کی مصائب اور تکالیف برداشت کرنا پڑتے ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان ائیر فورس کی طرف سے مجھے گھرملا ہوا تھا میں نے فیصلہ کیا کہ میں بے بسی کی تصویر نہیں بلکہ ایک رول ماڈل بنوں گی ،ہمارے معاشرے میں ایسی بیوائیں جن کے شوہر حکومتی ملازمتوں کے دوران انتقال کرجاتے ہیں، اُن کے لیے تو حکومتیں پنشن اور دیگر فنڈز کی مد میں مدد کرتی ہیں مگر جن کے شوہر نجی سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کی باقی کی زندگی گزارنے کے لیے کوئی ادارہ موثر طور کام نہیں کر رہا اور ایسی بیواؤں کی تعداد کثرت میں ہے کہ جو شوہر کے انتقال کے بعد نہایت مجبوری اور مایوسی کے عالم میں جی رہی ہیں۔ایسی خواتین اور اُن کے بچوں کی فلاح بہبود کے لیے میں نے اپنی مدد اآپ عوامی سطح پر بھی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا جن کا مقصد ان بیواؤں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا ۔ اس سلسلے میں فضل ٹائون راولپنڈی میں ایک بلڈ نگ کرائے پر لی اور اس کے باہر پوسڑ اآویزاں کر دیا ۔بلڈنگ میںمستحقین کی تعداد زیادہ ہوگئی تو میں نے فنڈز ریزنگ کی مہم شروع کی جس پر لوگوں نے سوال اٹھائے کے کیا آپ کا ادارہ رجسٹرڈ ہے۔ آپ کا کیا پروفائل ہے ۔؟میں نے کہا کہ میرا پروفائل اللہ تعالی کے پاس ہے ۔

لیکن وقت اور حالا ت نے مجبور کیا کہ میں ادارے کو رجسٹرڈ کروا لوں میں نےا لمدد ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے2011 میں ادارہ حکومت پنجاب سے رجسٹرڈ کروا لیا اور پھر خدمت خلق کا مشن جاری رکھا ،اس دوران میں نے کبھی کسی مستحق کی مدد کرتے ہوئے اس کی عزت نفس کو مجروع نہیں کیا فری ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جہاں 3 ہزار سے زائد بچیوں نے تربیت لی پھر انہی بچیوں میں سے ٹیچرز رکھی ۔


انہوں نے کہا کہ میرا تعلق کوہاٹ سے ہے ۔ایسےخاندان سے تعلق رکھتی ہوں جہاں عورت کے بیوہ ہو جانے پر عدت کے دوران یہ فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی عدت کے بعد شادی کس سے ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے جہاں پر عام خواتین کے حقوق کی پاسداری کی وہاں بیواؤں سے اچھے سلوک کی تلقین کی۔ ہمارے معاشرہ میں جہاں بہت سی خامیاں ہیں ان میں سے ایک بیواؤں کے حوالے سے بھی کوئی مثبت تاثر کا نہ پایا جانا بھی شامل ہے۔اگر حقیقی نظر سے دیکھا جائے تو بیوہ کے بیشتر مسائل کا حل نکاح میں ہے، عورت کو قدم قدم پر مرد کی ضرورت پڑتی ہے، ایسی بیوائیں جن کے بچے ہوں ان کے بچوں کے تحفظ اور اچھی پرورش کے لیے دوسرا نکاح زحمت نہیں رحمت ہے۔


ہمارا معاشرہ ویسے تو کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہے لیکن کچھ سماجی مسائل ایسے بھی ہیں جن کو حل کرنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوہ کے سسرال والے اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ بیشتر بیواؤں کو شوہر کی جائیداد سے بھی بے دخل کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ بے بس اور لاچار عدالت کا رجوع کرے تو اسے بے شمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے دل برداشتہ ہو کر وہ خود ہی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔لوگوں کے سامنے میں مظلوم تھی تین بچیوں کی کفالت ، تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اتنا بڑا کام کرنا کوئی آسان نہیں تھا ۔ لیکن میں نے دوسروں کی بچیوں کے لئے اچھا سوچا اللہ پاک نے میری بچیوں کے ساتھ اچھا کیا ۔ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ناچنے گانے والوں پر رقم لٹائی جاتی ہے ان کے پائوں میں پیسے پڑے ہوتے ہیں لیکن مستحقین کی کوئی مدد کو تیار نہیں ہوتا ۔مانگنے والے کو صرف مانگنے کیلئے صدا لگانے کا اختیار ہوتا ہے۔ عورت بیوہ ہونے کے بعد والدین کے گھر رہے تو اس کو بھائیوں اور بھابیوں کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بہن کے گھر رہے تو بہنوئی بد نسل ہوتو بری نظر سے دیکھتا ہے ۔اکیلی کام پر نکلے تومختلف قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں بیوہ تو ایک میوہ ہے بیوی اپنی بیوہ سب کی ۔ ایسی باتیں ہی معاشرے میں عورت کو طوائف بننے پر مجبور کرتے ہیں ۔

بقول شاعر
کیسی گزر رہی ہے ؟ سبھی پوچھتے تو ہیں۔
۔ کیسے گزارتی ہوں ؟ کوئی پوچھتا نہیں۔۔!

ایک اور شعر پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا
نہ کر مجھ پر اندھیروں کو مسلط
میں روشنی ہوں چمکنا جانتی ہوں۔

شبنم بہارنے کہا کہ پختون ثقافت میں ایک جرگے ایک مرد کے زیرتحت ہوتا ہے ” اس میں برادریوں کے تمام حصوں کی نمائندگی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن میںنے خواتین کے لئے امن بیٹھک کا اہتمام کیا جہاں خواتین کے مسائل پر بات کرتی ہوں۔
المدد ویلفیئر ٹرسٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں شبنم بہارنے کہا کہ المدد ویلفیئر ٹرسٹ ایک غیر سیاسی، غیر سرکاری اور غیر منافع بخش تنظیم ہونے کے ناطے انسانیت کی خدمت کے لیے پرعزم ہے خاص طور پر کمزوروں اور یتیموں کی صحت، تعلیم، مالی استحکام، معاش، رہائش میں ان کی فلاح و بہبود شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہم این جی اوز، دیگر متعلقہ سرکاری اور نجی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینا، مفید پروگراموں میں معاونت درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مستحقین کی صحت کی دیکھ بھال، یتیم خانہ کی تعمیر کے پروگرام کے ساتھ ساتھ، تعلیم، صاف پانی سے لے کر کئی کمیونٹی سروسز تک کی ریکارڈ توڑ امدادی سرگرمیاں انجام دی ہیں ۔ ہم اس مشن میں عطیہ دہندگان، فنڈ ہولڈرز اور شراکت داروں کی سخاوت سے توقعات سے بڑھ کر ضرورت مندوں کو مزید سہولیات مہیا کر سکتے ہیں

تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے شبنم بہارنے کہا کہ تعلیم ہی انسانیت کی ترقی کا واحد حل ہے۔ ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد کرنے کے مقصد کے ساتھ، المدد ٹرسٹ نے غریب اور نادار بچوں کو مفت اسکولنگ اور بحالی کی مدد کے ذریعے تعلیم فراہم کرکے اپنے تمام حریفوں میں سبقت حاصل کی ہے۔ پاکستان میں تعلیم سے متعلق تمام معاملات اور مسائل کو گھیرے ہوئے ہیںہم ملک بھر کے تمام ہونہار اور مستحق طلباء کو بغیر کسی امتیاز کے، یکساں مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مساوات ہماری بنیادی رضامندی ہے،

یتیم کی دیکھ بھال کے پروگرام کے بارے میں انہوں نے کہا اس پروگرام کے تحت، کفالت کی فراہمی کے لیے منتخب کیے گئے یتیم بچے والدین دونوں کی موت کی صورت میں اپنی ماؤں یا کسی دوسرے سرپرست کے ساتھ رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ پروگرام 16 سال یا اس سے کم عمر کے یتیم بچوں کے لیے تعلیمی اور روزمرہ کی مالی امداد کے لیے ضروری مالی مدد فراہم کرتا ہے، لیکن یتیم فیملی سپورٹ پروگرام ایک جامع کثیر ماڈیول فریم ورک کے ذریعے کفیل بچوں کی جامع ذہنی، سماجی اور اخلاقی نشوونما کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت المدد ٹرسٹ کے زیرکفالت 65 خاندان ہیں


ہیلتھ پروگرام کا ذکر ہوئے شبنم بہارنے کہا کہورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان کو صحت کی افرادی قوت کی شدید کمی والے 57 ممالک میں شامل کیا ہے جب کہ صحت کی سہولیات کے معیار کے لحاظ سے ملک 122 ویں نمبر پر ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان انتہائی نوزائیدہ بچوں کی اموات کے ساتھ سرفہرست ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ صورتحال سے باخبر رہتے ہوئے، المدد ویلفیئر ہیلتھ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک ملک گیر نیٹ ورک قائم کیا ہے، چاہے ان کی سماجی اقتصادی حیثیت کچھ بھی ہو۔

شبنم بہارنے کہا کہ پاکستان کو کئی سال سے غربت سے لے کر شہری جہالت اور زندگی کی بنیادی سہولیات کی کمی تک کے متعدد سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ عوام کو صحت اور معیشت کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) میں ملک 152 ویں نمبر پر ہے اور پاکستان کی تقریباً 51 فیصد آبادی بنیادی ضروریات (صحت، تعلیم وغیرہ) سے محروم ہے۔ہم خدمت انسانیت کا جذبہ لیکر آئے ہیں اور مشن کے تحت کام جاری رکھیں گے۔