بلدیاتی الیکشن :یہ کڑوا گھونٹ‘‘ ہی سہی مگر اسے پینا ہی پڑیگا نثار کیانی

امریکی شہرہ آفاق کمپیوٹر سائنسدان جیمس کلارک ’’سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتا ہے اور ریاستدان اگلی نسلوں کا سوچتا ہے۔‘‘ سیاست معاشرے کا سب سے اہم پیشہ ہے اور سیاستدان دنیا سنوارنے والے محب وطن اور ایماندار لوگ ہوتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں ریاستدانوں (مدبران قوم) کی شدید قلت ہے۔بلدیاتی الیکشن عوام اعتماد اور شعور کی فضا پیدا کرتے ہیں۔آزادکشمیر کا خطہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہونے اور ریاستدانوں (مدبران قوم) کی شدید قلت اورسیاسی جماعتوں کی آپسی چپقلش کی وجہ سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کی بڑی وجہ اختیارات کی لڑائی اور اس کی وجہ سےتین عشروں سے تقریباً مفلوج ہوجانے والا بلدیاتی نظام ہے۔’یہ سب معاملات حل ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ حل ہو گیا تو ووٹوں کا کیا ہو گا۔ اگر ووٹ ہوں گے تو اختیارات ملیں گے۔ ’فنڈز ہونے کے باوجود بھی انھیں کبھی بلدیاتی منصوبوں کے لیے مختص نہیں کیا جاتا بلکہ یہ بونس کے طور پر دیے جاتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کی بحالی کے لیے کبھی فنڈز نہیں دیے جاتے۔ کیونکہ بنیادی طور پر بلدیاتی نظام اب ختم ہو گیا ہے۔‘

آزادکشمیر میں اعلی عدلیہ ، حکومت اورمین اسٹریم اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی دنگل جاری ہے لیکن اس جھگڑے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا سے آنے والے انتخابات میں دیگر سیاسی جماعتوں کو موقع مل رہا ہے کہ وہ اس میدان میں اتریں اور عوام کو اپنی جانب متوجہ کریں۔یہ فریضہ وزیر اعظم آزاکشمیر سردار تنویر الیاس خان نبھانے جا رہے ہیں ۔وزیر اعظم آزادکشمیر کو بعض حلقے ناتجربہ کار سمجھتے ہیں لیکن وہ اپنی فہم و فراست کے ذریعے وزارت عظمی کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے بلکہ سیاسی میدان میں ہر گزرتے دن اپنی دھاگ بیٹھاتے جا رہے ہیں ۔سردارتنویر الیاس خان کا 27نومبر کو بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا اعلان ماضی کے حکمرانوں اور آزادکشمیر کے روایتی سیاستدانوں کے برعکس خطے کے اندر مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے عوام کی بھلائی کے لیے عملی اقدام ہے ۔آزادکشمیر میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال ہے لیکن اس ساری کیفیت کے باوجود وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں کشمیر سردار تنویرالیاس خان نے کہا ہے کہ الیکشن ضرور ہونگے ، اگر حکومت پاکستان نے سیکورٹی فورسزفراہم نہ کیں تو ہماری پاس پلان B اور C موجود ہے ۔بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کروا کر کےہم ریاست کے عوام پر کوئی احسان نہیں کر رہے ۔ الیکشن ہر حال میں ہونگے ۔اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ گفتگو انہوں نے نجی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی

۔ سردار تنویرالیاس خان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہےعوام بھی انتخابات کے انعقاد میں اپنا فرض نبھائیں اور امور ریاست اور امور حکومت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔الیکشن کے حوالے سے پرسنٹیج 100 فیصد سے زیادہ کوئی وہ ہوتی ہے تو اس پر یقین کریں ۔ہمیں یقین ہے کے حکومت پاکستان بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی ۔ 31 سال بعد بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے آزادکشمیر میں عوام بالخصوص نوجوانوں میںانتہائی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔امیدواروں کے بہت زیادہ اخراجات بھی ہو چکے ہیں ۔ عوا م کا دیدنی جوش و خروش اس لئے ہے کہ ان کو ان کا حق ملنے جارہا ہے ۔ہم عوام پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ اپنا ذمہ داری نبھا نے جا رہے ہیں ،جو ریاستی عوام کا حق ہے ۔لوگ اپنی وارڈ یو سی،اور گلی محلے کی ترقی کےلئے الیکشن میں بھرپور حصہ لیں۔ہم نے حکومت پاکستان سے سیکورٹی فورسز کےلئے درخواست کی تھی ان کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے ہم نے ان کو طریقہ کار بھی بتایا ہے وہ پنجاب اور کے پی کے سے سیکورٹی مہیا کر سکتے ہیں۔ہم اپنے تئیں بھی اپروچ کر سکتے ہیں لیکن یہ مناسب طریقہ کار مناسب نہیں ۔ہم نے بھی اس ضمن میں اپنی پلان بی اور سی رکھے ہوئے ہیں ۔آزادکشمیر کی دوبڑی پارلیمانی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے آزادکشمیر میں 27 نومبر کو فوج کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات ایک ہی دن منعقد ہونے ہیں اور صاف وشفاف الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے،27 نومبر کو ہر صورت الیکشن ہونے چاہیں سیکورٹی فراہم کرنا حکومت پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے۔بلدیاتی انتخابات شراکت اقتدار کے لیے ہیں جوبہت عرصے بعد ہورہے ہیں اس لیے بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے اب یہ ہر صورت ہونے چاہیں ۔ آزادکشمیر میں گزشتہ ایک سال سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد تیاریوں اور رکاوٹوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابات کے انعقاد رکوانے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ اعلیٰ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے سخت فیصلے کرنے کے بعد اب بند گلی میں دھکیلنے کی پالیسی اپنا لی گئی ہے۔27نومبر کو ہونے والے انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نےحکومت سے 33ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس مانگی ہے۔ حکومت اآزادکشمیر نے اس کے لئے وفاق میںپی ڈی ایم کی حکومت سے رابطہ کیا تھا لیکن حکومت پاکستان نے گزشتہ دنوں ایک مراسلے کے ذریعے فورس کی فراہمی سے معذرت کر لی تھی آزادکشمیر حکومت کے پاس 8ہزار کے لگ بھگ پولیس فورس موجود ہے، جس میں سے دفاتر، سیکرٹریٹ اور تھانہ جات کو چلانے کیلئے کم از کم نفری کو مقرر کرنے کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ 5ہزار کی فورس کو ریزرو کیا جا سکتا ہے۔ 5ہزار کی فورس کے ذریعے سے صرف ایک ضلع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے حکومت پاکستان کوپنجاب اور کے پی کے سے سیکورٹی مہیا کرنے کا طریقہ کار بھی بتایا ہے ،آزادکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب سے سکیورٹی فورسز طلب کئے جانے کی شدید مخالفت کی ہے، ساتھ ہی مرحلہ وار انتخابات کے انعقاد کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کو معلوم ہے کہ اس مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔ یوں تمام اپوزیشن جماعتیں انتخابات کو روکنا تو چاہتی ہیں لیکن کوئی بھی سامنے آکر یہ اعلان کرنے کے قابل نہیں ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد رکوانا چاہتا ہے۔ تمام سیاسی قیادتیں اس طرح کے اقدامات کررہی ہیں، جن کے ذریعے سے انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سخت احکامات دے رکھے ہیں۔ وزیر اعظم اور الیکشن کمیشن کے اعلانات کے باوجود ساری صورتحال میں 13ہزار کے لگ بھگ امیدواران اور ان کے حمایتی انتخابی مہم کی تیاریوں کے حوالے سے بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ ماضی میں بھی ایک بار بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے امیدواران سے بھاری فیسیں وصول کرنے اور انتخابی اخراجات کروانے کے بعد انتخابات کا انعقاد التواء میں ڈالا جا چکا ہے۔ اس وجہ سے امیدواران اور رائے دہندگان کو یہ یقین نہیں ہے کہ اس بار بھی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو پائے گا۔انتخابات کو موخر یا ملتوی کئے جانے کے فیصلے کی صورت میں سخت عوامی ردعمل کے خدشہ کے پیش نظر حکومت، اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کوئی واضح فیصلہ کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے بتدریج بند گلی میں داخل ہو رہے ہیں۔ حکمران جماعت کے بعض اراکین اسمبلی بھی انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتے صورتحال جس دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، اس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے امکانات محدود ہونے کے ساتھ ساتھ سخت ردعمل کے حالات بھی بنتے جا رہے ہیں۔

۔ عوامی کام بلدیاتی باڈی سے جڑا ہے۔ اسکے بغیر سیاسی استحکام اور مضبوط معیشت کا حصول ممکن نہیں۔ وفاق، صوبہ سندھ اور بلاشبہ اآزادکشمیر کی انہی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہیں جن کیلئے ’’باریاں لینے والی حکومتوں‘‘ کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے گریزاں تھیں اور ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے لامحدود اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل ہو جائینگے۔ اگرچہ برسراقتدار حکمرانوں کے ہمنواؤں سمیت دیگر جماعتوں کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی منتخب ہو کر ان اداروں میں آئیگی جو نہ صرف اپنے اپنے مقامی شہری مسائل کے حل پر توجہ دینے کے ذمہ دار ہونگے بلکہ ان اداروں کے منتخب سربراہ اپنے اپنے علاقائی ادارے کو احسن طریقے سے چلانے اور انہیں مفید عام بنانے میں مصروف عمل ہو جائینگے۔ اپوزیشن اور حکومت کیلئے ’’یہ کڑوا گھونٹ‘‘ ہی سہی مگر اسے پینا ہی پڑیگا۔ کیونکہ بلدیاتی الیکشن ہی دراصل عوامی معاشرت میں بنیادی تبدیلی کا باعث ہیں.