راولاکوٹ بھائیوں کے ہاتھوں بھائی کا قتل اور ہمارا بیمار معاشرہ : نثار کیانی


راولاکوٹ آزادکشمیر کے نواحی گاؤں ترنوٹی کوٹ میں مبینہ طور پر جائیداد کی خاطر بھائیوںنےدرندگی کی انتہا کر دی قابیل کی پیروکاری کرتے ہوئے اپنےسگے بھائی کو قتل کرکے لاش کےٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔۔قدرت کا کرشمہ کتے کو لاش کی ٹانگ ملی۔دور نالے سے کتا ٹانگ اُٹھا کر مقتول کے گھر کے قریب چھوڑ گیا ۔انسانی ٹانگ اور دیگر اعضاء کے بعد ماسوائے دوسری ٹانگ کے دیگر انسانی جسم کے کٹے اعضاء مقامی نوجوان اظہر مصری کی لاش کے نکلے قاضی اظہر مصری کے دو بھائی گرفتار اظہر مصری کو پہلے بھی بھائی نے ٹوکے کے وار سے زخمی کیا تھا اظہر مصری چند روز سے غائب تھا۔ملزمان کو گرفتار کرلیا گیاپولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتول کے جسم کے تیرہ ٹکڑے برآمد کر لیے اور مقتول کے بھائیوں قمر مصری اور طاہر مصری کو حراست میں لے لیا ۔مقتول کی بہن عظمیٰ مصری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واردات کامرکزی ملزم تیسرا بھائی شوکت مصری ہے جو فرار ہوچکا ہے ۔بھائیوں نے جائیداد ہتھیانے کے لیے بھائی کو تیز دھار آلہ سے قتل کر ڈالا، قمر نے ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل اپنے ذمہ لیا ہے تا کہ کل والدہ بیان دے کر معاف کر دیں اور اصل ملزم تفتیش کا حصہ ہی نہ بنے۔عظمی مصری نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے اور اصل ملزم شوکت مصری کو گرفتار کر کے انصاف دلایا جائے۔پولیس کے مطابق نعش کے 13سے زائد ٹکڑے کئے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اقبال جرم کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے . دنیا میں تشدد کی پہلی بدترین واردات قابیل کے ہاتھوں اپنے بھائی ہابیل کا قتل تھا۔ یہ دور جہالت کا تھا ۔ لیکن دور جدید میں بھی رواداری اور برداشت سماج میں ندارد ہیںاورکیفیت یہ ہے کہ انسان خونی رشتوں کا بھی پیاسا ہوگیاہے ۔اسلام کہتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ لیکن دنیا میں کروڑوں انسانوں کو حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ عیسائیت کہتی ہے: اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم دوسرا گال بھی تھپڑ کے لیے پیش کردو۔ لیکن دنیا میں ہو یہ رہا ہے کہ کروڑوں انسان دوسرے انسانوں کے ایک گال پر تھپڑ مارتے ہیں اور حسرت کرتے ہیں کہ انہیں دوسرے گال پر تھپڑ مارنے کا موقع کیوں فراہم نہ ہوا۔ ہندوازم شرک کی حد تک انسان کی تکریم میں غلو کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ انسانوں کے آگے سر جھکانے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن دنیا میں کروڑوں انسان دوسروں کے سروں کو اپنے آگے جھکانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ دنیا کے منظرنامے کو دیکھا جائے تو دنیا میں عسکری جنگیں برپا ہیں، معاشی جنگوں نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، ابلاغی جنگوں نے دنیا کا حشرنشر کردیا ہے۔ انقلاب روس کی اہم شخصیت انقلابی مفکرلیون ٹراٹسکی نے سماجی انتشار کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’زندگی اور سیاست کسی احسان مندی یا شکر گزاری کو نہیں مانتی۔‘‘ یہ چھوٹی سی بات اگر سمجھ آجائے تو لوگوں کے ذہنی، روحانی اور گھریلو مسائل کسی حد تک حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن تلخ سچائی کو کم لوگ ہی تسلیم کرتے ہیں اور بیشتر گفتگو شکوے شکایت اور غیبت پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ ہر کوئی اپنے احسان اور دوسرے کی احسان فراموشی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ خود بھی غیر ضروری اذیت میں مبتلا رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی رکھتے ہیں۔ دوسرے کی کہانی بھی اپنی داستان سنانے کے لئے سنی جاتی ہے۔خونی رشتوں کی گرمائش بھی سرد پڑ گئی ہے۔ دوستیاں بڑی عریانی سے مطلب پرستی میں بدل گئی ہیں۔ باہمی گفتگو کے معیار گر کر مطلب اور ’’مقصد‘‘ تک محدود ہوگئے ہیں۔ معاشی اونچ نیچ نہ صرف سماجی رتبے کا پیمانہ بن گئی ہے بلکہ ہر رشتے میں سرایت کرکے جذبات کو مفلوج اور مادی مفادات کے تابع کررہی ہے۔ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے، اور ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ انسان کا یہ بلند تصور جب معاشرے میں راسخ ہوجاتا ہے تو بڑے بڑے گناہوں سے ہی نہیں چھوٹے چھوٹے گناہوں، یہاں تک کہ معمولی لغزشوں سے بھی حقیقی معنوں میں شرم محسوس ہونے لگتی ہے۔ لیکن ہمارے دور میں ایک ایسا تصورِ انسان رائج اور انسانوں کے ذہنوں میں راسخ ہوگیا ہے جس میں انسان حیوان کی سطح سے بلند نہیں ہوپاتا۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے‘ کسی کا خیال یہ ہے کہ انسان ایک معاشی حیوان کے سوا کچھ نہیں۔ جدید علمِ سیاسیات میں انسان کو سیاسی حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ جدید حیاتیات کہتی ہے کہ انسان صرف حیاتیاتی یا Biological وجود ہے۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ انسانی حقیقت کے تعین میں جبلتوں کا کردار مرکزی ہے اور حیاتیات اور جبلتوں کی سطح پر انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس تصورِ انسان میں انسان کی حقیقی عزت اور اس سے حقیقی محبت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ چنانچہ انسانی تعلقات میں ہر سطح پر جبر و تشدد کا درآنا یقینی ہے۔ عہدِ حاضر کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے سامنے انسانِ کامل کا کوئی نمونہ ہی نہیں ہے۔ معاصر دنیا میں اس وقت طاقت انفرادی زندگی سے اجتماعی زندگی تک اور اجتماعی زندگی سے بین الاقوامی زندگی تک ہر دائرے میں مرکزیت کی حامل ہوگئی ہے۔ چنانچہ ہمارے تعلقات طاقت کے تعلقات ہیں۔ ہمارے دلائل طاقت کے دلائل ہیں۔ ہمارا نظام طاقت کا نظام ہے۔ اس صورت حال میں تشدد نہیں بڑھے گا تو اور کیا ہوگا! اصول ہے کہ جیسا عمل ہوتا ہے ویسا ہی ردعمل بھی سامنے آتا ہے۔ چنانچہ طاقت کے جواب میں بھی ہمیشہ طاقت ہی سامنے آسکتی ہے۔رشتے ضرورت کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ عزت اور توجہ چاہتے ہیں۔ ماں باپ کا بڑا پن اس بات میں ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہت ساری غلطیوں کو نظر انداز کریں بھائیوں میں اگر کچھ اونچ نیچ جائے تو ان کو درگزرکرنا چاہیے۔انسان کے اندر کے سکون کا تعلق بھی درد مندی سے ہے۔ سارے بڑے مذاہب کا یہی پیغام ہے۔ پیار، درد مندی، درگذر۔ ہمیں چاہیے کہ رحم اور درد مندی کے فروغ کے لیے کوئی سیکولر راستہ تلاش کریں۔ ترنوٹی کوٹ راولاکوٹ کا اندوہناک سانحہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ معاشی اور معاشرتی ناہمواری کے باعث عدم برداشت ناپید ہے جس کی وجہ سے ہمار ا معاشرہ زر کی لونڈی بن چکا ہےیہ زر کی لالچ ہر رشتے میں سرایت ہو کر جذبات کو مفلوج اور مادی مفادات کے تابع کررہی ہے۔جس کے باعث معاشرہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔ کارل پوپر کی تحقیق کے مطابق کسی بھی معاشرے کو اپنی رواداری برقرار رکھنے کے لیے عدم برداشت کے رویے کی طرف اپنی قبولیت کو ختم کرنا ہوگا۔جب ایک معاشرہ عدم برداشت کے رویے کو قبول کرنا شروع کر دیتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس معاشرے سے راواداری ختم ہو جاتی ہے۔ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ قمر مصری اور طاہر مصری، شوکت مصری جیسے لوگوں کے اندر جارحیت پیدا نہیں ہو گی۔جہاں وہ دو وقت کی روٹی کے لیے اپنے وجود کی تمام توانائیاں مشقت میں جھونک کر صبح سے شام کرتے ہیں،جبکہ ان کے ہاتھوں مارا جانے والا بھائی ان کے گھر کا سامان فروخت کر کے پیٹ کی آگ بجھانے پر مجبور تھا ، آٹے اور روٹی جیسی انتہائی بنیادی ضرورت کو حکمرانوں نے قمر ، طاہر ، شوکت اور ان کے مقتول بھائیکے لیے ناقابل رسائی بنا کر ان کی زندگیوں کو عذاب سے دوچار کر دیا ہے ۔ متوفی اظہر مصری اگر نشے کا عادی تھا تو اس کا علاج کروایا جا سکتا تھالیکن جہاں جسم و جاں کو رشتہ برقرار رکھنا ہی مشکل ہو جائے توعلاج سہانا خواب بن کر رہ جاتا ہے ۔گراوٹ کا یہ عمل لاامتناہی طور پر جاری تو نہیں رہ سکتابقا کی جدوجہد انسانی جبلت کا بنیادی عنصر ہے۔ تاریخ گواہ ہے پستی کا معمول ہمیشہ ٹوٹتا ہے اور اسے توڑنے والے غیر معمولی حالات کو ہی انقلاب کہا جاتا ہے، معاشرے کے صاحب رائے لوگوں کو بھانپ لینا چاہیے کہ ہمارا معاشرہ زر کی ہوس پر مبنی سماجی و معاشی نظام کی بیماری کا شکار ہے جو اب انقلاب کے بنا نہیں سدھر سکتا۔جس طرح بخار میں مبتلا مریض کو برف کی پٹیاں رکھ کر اس کا بخار وقتی طور پر کم کیا جا سکتا ہے ، بالکل ایسی طرح موجودہ متروک اور گلا سڑا نظام اصلاحات سے وقتی راحتیں فراہم کر سکتا ہے لیکن یہ کوئی کویہ دائمی اور دیرپا حل نہیں ۔ایک غیر استحصالی اور طبقات سے پاک معاشرے کا قیام ہی ایسی بیماریوں کا علاج ہے ۔