سردار انور خان کی رحلت ایک قومی نقصان :سردار شوکت محمود

یوں تو الله تعالی کے مسلمہ فیصلے کی وجہ سے ھر ذی روح چیز فنا کی ذد میں ھے لیکن اس حقیقت کے باوجود بعض اموات اپنے مثالی کردار کی وجہ سے معاشرے پر گہرے اثرات ونقوش چھوڑ جاتی ھیں۔اسی طرح کی موت شہدوں غازیوں سرفروشوں ظلم اور ناانصافیوں کرنے والی غاصب قوتوں کے خلاف برسرپیکار مزاحمتی کرداروں اور مجاھدوں کی سرزمین خطہ کشمیر پونچھ کی مردم خیز مٹی کے عظیم فرزند سابق صدر آذادکشمیر جنرل (ر) سردار انور خان صاحب کی ھے۔ یوں تو انکی خدمات اور ساری زندگی کے مختلف پہلو ھیں۔جنکا احاطہ ایک تحریر میں کرنا نہ ممکن ھے۔سردار انورخان نے بنیادی طور پر جس پسماندہ مگر مردم خیز علاقے میں زندگی کی آنکھ کھولی تھی وہ انتہائی مشکل اورکٹھن دور تھا۔تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی رسل ورسائل کی غیر موجودگی پھر مالی وسائل نہ ھونے کے باوجود سردار انور خان نے اپنی شب وروز محنت اور لگن اپنی بے پناہ ذھانت لیاقت اورقابلیت کی وجہ سے پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد بتدریج جنرل کے عہدے تک پہنچے پاک فوج میں جنرل سردار انورخان کا بےحد احترام ھے انکے سینکڑوں شاگردوں نے پاک فوج میں اعلی ترین مقام حاصل کئے۔پاک فوج میں تعلیمی میدان میں انکی خدمات اھم دفاعی امور فوجی حکمت عملی اور بین الاقوامی دفاعی حکمت عملی کے امور پر مخصوص مہارت اور عبور کی وجہ سے انکو پاک فوج کا گارڈ فادر کہا جاتا ھے ۔اس حوالے سے انکے نوٹ آج بھی جی ایچ کیو کے ریکارڈ کا حصہ ھیں۔ ایک خاص معلومات قارئین کو دے رھا ھوں جب پاک فوج نے جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی ایماء پر کارگل پر حملے کا فیصلہ کیا اسوقت جب جنرل انور خان نے اس حملے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی بحثیت وائس چیف آف جنرل سٹاف چھ صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ لکھا جس میں اس حملے کے مضمرات اور پاکستان کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصانات کی پیشگی نشاندھی کی جو بعد میں درست ثابت ھوئی۔جنرل انور خان کی لکھی ھوئی دستاویزات اور لیکچرز کی ویڈیوز آج بھی جی ایچ کیو ریکارڈ کا حصہ ھیں جن سے بوقت ضرورت راھنمائی لی جاتی ھے۔سردار انور خان پاک فوج اور کشمیری قوم کا قیمتی اثاثہ تھے بحثیت صدر ریاست انہوں نےکشمیر کی آذادی کے لیئے قومی اور بین الاقوامی فورمز دوٹوک موقف کے ساتھ کشمیریوں کامقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا وہ عمر کے آخری حصے تک کشمیر کی آذادی کے لیئے بےحد فکر مند رھتے تھے ۔آذادی کشمیر کے حوالے سے انکے خیالات بڑے واضع اور دوٹوک تھے۔اس حوالے سے باقی کشمیری لیڈروں کی طرح وہ کبھی مصلحت کا شکار نہیں ھوئے تقسیم کشمیر کے سخت مخالف تھے۔جنرل مشرف کی جانب سے پیش کردہ تقیسم کشمیر کے چار نکاتی چناب فارمولے کی جنرل مشرف کے ساتھ میٹنگ میں سرکردہ کشمیری لیڈروں کی موجودگی میں کھل کر مخالفت کی۔سردار انور کی شخصیت انکی اعلی علمی اور عملی صلاحیت کشمیری عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی وہ کشمیری عوام کے بے باک ترجمان تھے۔ریاست کے صدر کی حثیت سےانہوں نے ماضی کے صدور سے ھٹ کر ایک جاندار اور متحرک رول ادا کیا وہ آذادکشمیر کو تعلیمی میدان میں ترقی کے ساتھ کوالٹی ایجوکیشن کے ذریع ماڈل اسٹیٹ بنانا چاھتےتھے۔بحثیت صدرریاست انہوں نے اپنےصوابدیدی فنڈز کا بشتر حصہ آذادکشمیر بھر کے ھونہار طلباء کے تعلیمی اخراجات پر خرچ کیا بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیئے اپنے فنڈز سے طلبا کو بھیجا جسکی مثال نہ ان سے قبل اور نہ ھی بعد میں دیکھنے میں آئی۔جب آذادکشمیر میں زلزلہ آیا تو زلزلے والے دن سے لیکر مسلسل ایک سال تک آذادکشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں میں خود شریک رھے انتھک جدوجہد کی اور متاثرین زلزلہ کا حوصلہ بڑھاتے رھے۔ آج مظفر آباد باغ اور راولاکوٹ کے اضلاع میں جو خوبصورت کمپلکس بنے ھیں اور ھزاروں کی تعداد میں تعلیمی ادارے صحت کے مراکز کی تعمیر کے لیئے وفاق میں اپنے بے پناہ اثررسوخ کی وجہ سے انکے لئے وافر مقدار میں فنڈڑ لانے میں بنیادی کردار سردار انور خان کا ھے۔راقم نے سردار انور خان کے دور صدارت میں ان کے ساتھ بطور پولیٹکل چیف کوارڈئنٹر کے سیاسی عہدے پر کام کیا بیرونی ممالک کے دوروں پر بھی انکے ساتھ رھا انکی طلسماتی اور پروقار شخصیت کے بے شمار پہلو تھے۔بے انتہا ھمدرد شفیق محنتی اورعوام دوست ھونے کے ساتھ ساتھ ھمہ جہت خوبیوں کے مالک راھنماء تھے انکی شخصیت تکبر اور نمود و نمائش سے پاک تھی اپنی علمی اور اعلی ذھانت کی وجہ سے اکثر محفلوں میں نئی بات کرتے تھے اور سامعین کی خصوصی کا مرکز ومحور بنے رھتے تھے۔آذادکشمیر کے سابق عوامی وزیر اعظم مرحوم و مغفور راجہ ممتاز حسین راٹھور کی طرح دولت کی ھوس سے پاک درویش منش عوام دوست راھنماء ھونے کے ساتھ ساتھ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کا درد رکھتے تھے اور انکی رازداری اور خاموشی سے مدد کرتے تھے۔کرپشن اور بدعنوانی کےسخت خلاف تھے انکے دور میں آذادکشمیر کے اندر احتساب بیورو کا خوف کرپٹ اور بدعنوان عناصر پر تلوار کی طرح لٹکتا تھا پاک فوج میں ایسے عہدوں پر فائز رھے جہاں مہنوں میں ارب پتی بن سکتے تھے لیکن وہ اس کرپشن سے کوسوں میل دور رھے۔ ۔بیرونی ممالک کے دوروں کے دوران سردار انور خان نے یورپین پارلیمنٹ امریکی تھنک ٹنکس سمیت برطانوی تھنکٹنکس بین بین الاقوامی زرائع ابلاع انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے نمائیدوں سے موٹر خطابات کیئے اورکشمیریوں کا مقدمہ جاندار انداز میں پیش کرتے رھے۔یوں انہوں زندگی کی کئ بہاریں دیکھ لی تھی لیکن ابھی تک وہ صحت مند تھے روزانہ ریگولر واک کرتے تھے انکی موت کا سبب بنے والی وجہ بھی قارئین کے نظر کر دیتا ھوں۔سردار انور خان باضابطہ طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کاحصہ نہیں تھے۔ لیکن تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پے پناہ حامی تھے۔جب 25 اگست کو وزیر اعظم سیکریٹریٹ سے عمران خان اپنی ڈائری لیکر اپنے گھر بنی گالہ کی طرف روانہ ھور ھے تھے اور شہباز شریف کو وزیر منتخب کروانے کے لیئے تمام تیاریاں مکمل ھوچکی تھی۔اسوقت سردار انور خان یہ منظر ٹی وی پر دیکھ رھے تھے انکی اھلیہ محترمہ بیگم جنرل انور خان نے راقم کو بتایا کہ جنرل صاحب نے یہ جملہ کہا کہ آف پھر کرپٹ ٹولہ اس ملک پر مسلط ھوگیا اب اس ملک کا کیا بنے گا یہ الفاظ نکلنے تھے کہ انکی طبعیت ناساز ھوگئی جیسے شاک کی کہفیت ھو بے ھوش ھوگئے اور انکو فوجی فاونڈیشن ھسبتال پہنچایا گیا ڈاکٹروں نے کہا کہ برین ھمریج ھوگیا ھے پھر وھاں سے انکو سی ایم ایچ ریفر کر دیا گیا مجھے اطلاع ملی تو میں نے اس وقت کے وزراعظم سردار قیوم نیازی صاحب کو فون کر کہ اطلاع دی انہوں نے کہا کہ اپ اجائیں میں ساری سرکاری مصروفیات چھوڑتا ھوں ۔ سردار انور صاحب کو دیکھنے چلتے ھیں جب ھم ھسبتال پہنچے تو جنر ل صاحب ھوش میں نہیں تھے اسکے بعد کچھ دنوں میں انکی طبعت بہتر ھوئی لیکن بلاآخر سردار انور خان جان بھر نہ ھو سکے ۔اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔سردار انور خان نے بھرپور زندگی گزاری وہ ایک سلف میڈ خوش گفتار خودار باوقار دور اندیش اور دلیر شخصیت کے مالک تھے پاک فوج میں اعلی مقام حاصل کیا۔صدر ریاست کی حثیت سے عوام الناس کی فلاح وبہبود نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیئے بھر پور آواز بلند کی اور ایک اچھا نام چھوڑ کر دنیا فانی کو خیر آباد کہہ گے۔اللہ پاک مغفرت کرے۔ امین