بھارت میں جاری علیحدگی کی تحریکیں… رفعت وانی

ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے ، یہاں سیکڑوں مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور قریباً ۱۵۰ کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں ، آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرابڑا ملک ہے اور رقبے کے لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہے. ہندوستان کی اُنتیس ریاستیں اور سات اتحادی ریاستیں ہیں۔ بھارت نے آزاد ہوتے ساتھ ہی مختلف آزاد ریاتستوں پر قبضہ کر لیا اور کچھ کو طاقت کے زور پر زبردستی اپنے ساتھ شامل کروا لیا۔ اور ان میں سے کچھ اتحادی اور کچھ وہ ریاستیں جن پر زبردستی بھارت قابض ہوا وہ گزشتہ ستر سالوں سے بھارت سے آزادی کی تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
ہندوستان میں اس وقت آزادی کئی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں سے کچھ درج زیل ہیں۔
تحریکِ آزادیِ کشمیر، خالستان تحریک، تری پورہ۔ آسام، نارتھ ایسٹ انڈیا، ناگالینڈ، منی پور، آندھر پردیش وغیرہ کل ملا کہ سترہ بڑی اور پچاس سے زائد چھوٹی تحریکیں اس وقت علیحدگی کی تحریک چلا رہی ہیں۔ صرف آسام میں تیس سے زائد تحریکیں اس وقت ایکٹیو ہیں۔جن کا کنٹرول ملک کے باسٹھ اضلاع پر ہے۔ شمال مشرقی بھارت کی سیون سسٹرز کہلانے والی سات ریاستیں ، آسام ، تری پورہ، اروناچل پردیش ، میرورام ، منی پور، میگھالیا، اور ناگا لینڈ باغی تحریکوں کے مرکز ہیں۔
اس کے علاوہ بیہار ، جھارکھنڈ ، چھتیس گھڑ، مغربی بنگال، اُڑیسہ ، مدیہہ پردیش، مہاراشٹرہ اور آندرہ پردیش میں بھی علیحدگی کی تیریکیں سرگرم ہیں۔
کچھ ریاستوں میں جاری تحریکوں کے نام درج زیل ہیں۔

آسام:
یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ، برچھا کمانڈو فورس، یونائیٹڈ لبریشن ملیشئیا، مسلم ٹائیگر فورس، آدم سینا، حرکتالمجاہدین، حرکتالجہاد، گورکھا ٹائیگر فورس، پیپلز یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ

مقبوضہ کشمیر:
حزب المجاہدین، لشکرِ عمر، البرق، الجہاد فورس، تحریکِ جہادیاسلامی، لشکرِ طیبہ بھارت کے خلاف مسلحہ جدوجہد میں سرگرم ہیں۔

پنجاب خالستان:
ببر خالصاہ انٹرنیشنل، خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان کمانڈو فورس، بھنڈراوالا ٹائیگر فورس، خالصتان لبریشن فرنٹ، خالصتان نیشنل آرمی۔

منی پورہ:
پیپلز لبریشن آرمی، منی پور ٹائیگر فورس، نیشنل ایسٹ مائینارٹی فرنٹ، کوکی نیشنل آرمی، کوکی ڈیفینس فورس۔

ترِی پورہ:
آل تری پورہ ٹائیگسر فورس، تری پورہ آرمڈ ٹرائیبل والنٹیرز فورس، تری پورہ مکتی کمانڈوز، بنگالی ریجمنٹ۔

یہ صرف کچھ تحریکوں کے نام میں یہاں شامل کر رہی ہوں جن کی وجہ سے ہندوستان کے ایوانوں میں ہر وقت ہل چل مچی رہتی ہے اور اس میں سب سے مظبوط تحریکناگا لینڈ کے باغیوں کی ہے جو ہندستان کے لیئے سب سے بڑا سر درد ہے، جہاں کے صرف باغیوں نے صرف چار سال کے عرصہ میں نو سو ہندوستانی اہلکاروں کو جان سے مار ڈالا۔

اپریل ۲۰۱۷ میں مائوسٹ (چھتیس گھڑ) کے باغیوں نے انڈین پیراملٹری کے چوبیس کمانڈوز کو مار ڈالا۔
یہ ساری ڈیٹیل لکھنے کا میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہندستان جو خود کو ایک جمہوری ریاست کہلاتا ہے ، جس کی اکانومی بڑھ رہی ہے، امریکا ، اسرئیل سمیت دنیا کے بڑے ممالک ہندستان میں اپنا سیسہ انویسٹ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہنوستان کی معیشت اور مظبوط ہو گی مگر اس کے باوجود ہندوستان میں اتنی تحریکیں آزادی کے لیے سرگرم کیوں؟
۱۱ستمبر ۱۹۵۸ناگا ہلز اور اس کے بعد آسام میں ، بعد ازاں ایک ایک کر کے سیون سسٹر سٹیسز میں آرمڈفورسسز سپیشل پاور ایکٹ نافذ کیا گیا ہمدوستان کی جانب سے تاکہ ان تحریکوں کو دبایا جا سکے یا ہمیشہ کے لیئے ختم کیا جا سکے۔
یہ کالا قانون ۱۹۸۳ میں پنجاب اور چندی گھڑ میں بھی نافذ ہوا بعد ازاں چودہ سال بعد ۱۹۹۷ کو ہٹا دیا گیا۔
اور آزادی کشمیر کی تحریک کے عروج کے خوف سے ۱۹۹۰ میں یہ کالا اور غیر انسانی قانون کشمیر میں نافذ کیا گیا۔
اس قانون کی رو سے ہندوستان کی آرمی ان علاقوں میں جہاں سپیشل آرمڈ فورسسز ایکٹ نافذ ہے جو چاہے وہ کر سکتی ہے اور ان سے کو پوچھ کچھ نہیں ہو سکتی ہے،
جسے چاہے غائب کرے ، جسے چاہے مار دیں، عورتوں کا ریپ کریں یا بچوں کے چہرے پیلٹ گنزز سے مسخ کر دیں۔
جہاں جہاں یہ قانون ہندوستان میں نافذ تھا یا ہے وہاں ہندوستان کی آرمی نے ظلم اور بربریت کی داستانیں رقم کیں، یہاں تک کہ آسام میں عورتوں نے کپڑے اتار کہ آرمی کیمپس کے سامنے پوٹیسٹ کیے جن کے بینرز پر یہ تحریر آویزاں تھی۔
Indian Army Rape Us
یہاں تک کہ آسام سے تعلق رکھنے والی ہیومن رائیٹس ایکٹیوسٹ اروم شرمیلا نے پانچ نومبر سن ۲۰۰۰ سے نو اگست سن ۲۰۱۶ تک ، یعنی پانچ سو ہفتے اس کالے قانون سپیشل پاور ایکٹ کے خلاف بھوک ہرتال کی۔
کشمیر میں بائیس اور تیس فروری کی درمیانی شب ، آرمڈ سپیشل پاور لگنے کے چھ سے سات مہینے بعد ہی کنن اور پوشپورہ میں راجپوتانہ رائیفل کی ریجمنٹ نے سرچ آپریشن کے دوران گاوں کے سب مردوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کیا اس دوران کچھ خواتین اور بچے باہر آنے میں کامیاب ہوئے مگر ان ظالموں نے خواتین کو گھروں سے باہر آنے سے روک دیا اور وکی پیڈیا کے مطابق ایک سو پچاس کے قریب خواتیں کو ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جن کی عمریں نو سے نوے سال کے درمیان تھیں مگر ان مظلوم خواتین میں سے چالیس ہی خواتین ہمت کر کے سامنے آئیں اور اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتی کے خلاف آواز بلند کی مگر جمہوریہ بندوستان میں آزادی کی متلاشی اقوام کے لیئے انصاف نہیں ہے۔

۱۔ ہندوستان کہلانے کو تو جمہوری مملکت ہے مگر وہان قانون کے محفظ ہی قنون کی دہجیاں اُوڑانے میں لگے ہوئے ہیں۔

۲۔ہمدوستان میں جنسی زیادتی عروج پر ہے، صرف سن ۲۰۱۶ میں جنسی درندگی کے رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد چونیس ہزار چھ سو ہے۔

۳۔ ہندوستان کو آج کل جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ ہے ہندوستان میں اقلیتوں کو عدم تحفظ اور مذہبی انتہا پسندی ہے جو کہ ہندستانی سرکار کے قابو سے باہر ہو چکی ہے۔
مودی سرکار کے آتے ہی کمیونل وائیلنس کی شرح سولہ سے پچیس فیصد ہو گئ ہے ۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ہمدوستان مذہبی انتہا پسندی میں چوتھے نمبر پر ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں 2015ء میں انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے گائے ذبح کرنے اور مسلمانوں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بھارتی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کا اثر دیگر مذاہب سے منسلک افراد پر پڑا۔ پیو ریسرچ سیٹر کی جانب سے اس رپورٹ کو عورتوں پر ظلم و ستم، فرقہ وارانہ تشدد، مذہبی منافرقت اور سماج دشمنی جیسے عناصر کو بنیاد بنا کر مرتب کیا گیا ہے۔
اس حقیقت سے خود ہندوستان انکار نہیں کر سکتا ہے کہ کمیونل وائیلنس کو ، فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے والے کوئی اور نہیں خود ہندوستان کی انتہا پسند تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ جو کہ لوگوں مذہبی جنونییت اور نفرت کے لیے اُکستاتی ہیں اور نتائج قتل وغارت کی صورت میں سامنے آتا ہے، ہندستان جس کے تیئیس فیصد لوگ ناسا میں ہیں، فیس بک، گوگل اور مائیکر سافٹ وغیرہ جیسی بڑی کمپنیز میں ہزاروں کی تعداد میں ہندستانی لوگ خدمات انجام دے رہے ہیں مگر وہیں ہندستان میں آج بھی ذات پات کے نام پر لوگ قتل و غارت کر رہے ہیں، جہاں ہندوستان آج ستارے تسخیر کرنے جا رہا ہے وہیں آج بھی ہندستان میں نچلی زات کا کانسپٹ موجود ہے۔ جہاں اونچی زات کے ہندو نچلی زات کے ہندووں کو اپنے کوئیں سے پانی بھرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ جہاں پچاس کروڈ سے زائد مسلمانوں کے ہوتے آج بھی مسلمانوں کو گائے کے گوشت کھانے کے شق میں ہی زندہ کاٹ ڈالتے ہیں۔

کیا ستر سالہ جمہوریت ایسی ہوتی ہے؟ ہندوستان نے بے شج ٹیکنالوجی میں ترقی کر لی ہو مگر اپنے لوگوں کو یہ باور کروانے میں ناکام رہا ہے کہ یہ اُن کا ہی ملک ہے، جن مسلمانوں اور سکھوں نے بندوستان آزاد کروا کے دیا آج وہی مسلمان اور سکھوں کی ساری توانائی اس بات کو ثابت کرنے میں صرف ہو رہی ہے کہ ہندوستان اُن کا ملک ہے، اور وہ ہندوستانی ہیں۔
ہندوستان میں کوئی بھی واقعہ ہو جائے اُسے مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے ڈرامہ سیریلز ، موویز ، نیوز اور ٹاک شوز سب مسلمانوں کو دہشت گرد اور ہندستان کی ترقی کا دشمن ثابت کرنے میں مصروفِ عمل نظر آتے ہیں ، ہندوستان کی موویز اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ویلن کوئی مسلمان نہ ہو،
غرض کہ انڈین میڈیا جو زبان اپنے لوگوں کو دے رہا ہے وہی کچھ عرصہ سے ہندوستان کے سامنے آ رہا ہے۔
یہ نہیں کہ ہندوستان میں اچھے لوگوں کی کمی ہے، ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں اچھے لوگ بھی ہیں مگر وہ خاموش ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اپنی رائے کے اظہار کی قیمت اپنی جان گوانے کی صورت میں دینا پڑ سکتی ہے۔
اگر یہ جمہوریت ہے تو ایسی جمہوریت سے ہم باز آئے۔
ہندستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بولتا ہے اور آزادی کی تحریک کو چند فیصد لوگوں سے منسوب کرتا ہے ، یہاں تک کہ ہندوستان کا میڈیا کبھی بھی ہندوستان میں جاری باقی تحریکوں پر کبھی بات نہیں کرتا یہ ہے جمہوری ریاست کا بکاؤ میڈیا، جو کہ بلوچستان کے ایک قبیلے کی تحریک آزادی کو کھل کر سپورٹ کرتا ہے اور وہاں کے کچھ آزادی پسند لیڈرز کو اپنی نیشنلٹی بھی دے رہا ہے مگر اپنی ہی سرزمیں پر آزادی کی تحریک سے جڑے لوگوں کو گاجر مولی سے کاٹ رہا ہے، اگر یہ ڈبل سٹینڈر نہیں اگر یہ جمہوریت کے نام پر کالا دھبا ہے جسے مصوموں کے خون کی بلی چڑھائی جا رہی ہے۔
اور ہندوستان ہے کہ جمہوریت کے ترانے گائے نہیں تھکتا۔(۔!!؟

اب ہندوستان اپنی آزادی کے ستر سال منانے جا رہا ہے مگر کچھ سوال ستر سالہ خوشی کی راہ میں حائل ہیں۔

۱۔ کیا ہندسستان واقعی میں آزاد ہے؟

۲۔ جہاں بڑے تعداد میں اسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو کیا وہ آزادی منانے کے حقدار ہیں؟

۳۔ جہاں ہندوستان نے کروڑوں انسانوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے کیا سچ میں ہندوستان آزادی کی قدر کرنے والا ملک ہے؟ کیا واقعی ہندوستان جمہوریت کا حامی ہے؟

۴۔ جہاں ذات پات، چھوت اچھوت اور مذہبی بنیادوں پر آج بھی انسانوں کو کاٹا جاتا ہے ، زندہ درگور کیا جاتا ہے اور زندہ جلانے کی واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں کیا وہ آزادی منانے کے حق دار ہیں۔

۵۔ جہاں عورتوں کو سیتا ، گیتا، کالی ماں اور مختلف ناموں سے پوجا جاتا ہے مگر ہندوستان کے قانون انکی عزتیں لٹنے سےبچا سکتا۔

۶۔ جہاں جانوروں کے حقوق انسانوں کے حقوق زیادہ ہیں، جہاں ایک آوارہ کتے کو گولی مارنے کی سزا تین سال ہے مگر گائے کا گوشت کھانے پر قتل کرنے والوں کی کوئی سزا نہیں۔
اگر ہندوستان سچ میں جمہوری ملک ہی تو ہندوستان کو ملک میں جاری آزادی کی تحریکوں کا جلد از جلد فیصلہ کرنا ہو گا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

اسی لیئے کہتی ہوں ایسی جمہوریت سے ہم باز آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں