راولاکوٹ دھرنا ختم ،ڈی سی، ایس ایس پی پونچھ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

راولاکوٹ( نیل فیری نیوز)” جسٹس فار نعیم بٹ “کمیٹی کے تحت راولاکوٹ میں جاری 17 روزہ دھرنا مطالبات کی منظوری کے بعد ختم کر دیا گیا ، ایس ایس پی پونچھ یسین بیگ, ڈپٹی کمشنر پونچھ طاہر ممتاز اور دیگر کے خلاف ہجیرہ تھانہ میں دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے. ایس ایچ او ہجیرہ کو جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی پونچھ یسین بیگ, ڈپٹی کمشنر پونچھ طاہر ممتاز کے واقعہ میں ملوث قرار دئیے جانے کے بعد مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی تھی . مطالبات کی منظوری کے بعد” جسٹس فار نعیم بٹ “کمیٹی نے راولاکوٹ شہر میں اظہار تشکر ریلی نکالی. جس کے قیادت نعیم بٹ کے والد نے کی جبکہ ریلی میں قوم پرست جماعتوں انجمن تاجران ، جماعت اسلامی ،اور دیگر نے بھرپور شرکت کی ، واقعات کے مطابق مقتوفی نعیم بٹ کے بھائی محمد نثار نے ایس ایچ او ہجیرہ کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کا تعلق چھوٹا گلہ سے ہے ، ان کا بھائی نعیم بٹ 16 مارچ کو اپنی سیاسی تنظیم جے کے ایل ایف کے ساتھ پر امن مارچ میں تتہ پانی سے مدارپورجا رہا تھا، مارچ کا مقصد سیز فائر لائن پر ہونے والی گولہ باری کی بندش تھا۔ شرکا ریلی جب سہر ککوٹہ پہنچے اور جلسہ شروع کیا تو اس دوران ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ طاہر ممتاز نے للکار کر کہا کہ جلسہ ختم کرو ورنہ طاقت کے زور پر جلسہ ختم کرایا جائے گا۔ جلسہ جاری رہا تو طاہر ممتاز نے با آواز بلند ایس ایس پی پونچھ یٰسین بیگ کو فائرنگ کرنے کو کہا جس پر ایس ایس پی نے اپنے ایک سپاہی سے کلاشنکوف لیکر اجتماع پر براہ راست فائرنگ شروع کردی۔ دیگرپولیس اہلکاران نے بھی اندھا دھند فائرنگ کی جس کی گولیوں کی زد میں نعیم بٹ ، ساجد شریف اور زبیر بھٹی سمیت متعدد لوگ آئے جبکہ نعیم بٹ چند دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 21 مارچ کو وفات پا گئے۔ درخواست گزار نے مزید لکھا کہ اس معاملے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا جس نے بعد ازاں رپورٹ حکومت کو دے دی ہے۔ اس وقوعہ کے چشم دید گواہان حاجی ابراہیم ، سردار شاہد اسلم ، محمد حسین و دیگر لوگ ہیں۔
محمد نثار کی درخواست کی روشنی میں ہفتہ 5 مئی کو دن ڈیڑھ بجے پولیس تھانہ ہجیرہ نے ڈی سی اور ایس ایس پی کے خلاف دفعہ 302 (اقدام قتل ) کے تحت ایف آئی آر درج کر دی ہے۔
.،جسٹس فار نعیم بٹ “ کمیٹی نے اپنے مطالبات میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کیلئے عام کرنے اور موجودہ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو معطل کرنے جیسے مطالبات شامل کر رکھے تھے ، حکومت کی طرف سے نعیم بٹ کے حوالے قائم کردہ جسٹس شیراز احمد کیانی کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے 2مئی کو رپورٹ پیش کی تھی .واضح رہے کہ جسٹس فار نعیم بٹ “کمیٹی کی اپیل پر راولاکوٹ میں چند روز قبل مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی تھی جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں