لالچی شوہر نے ماسٹر ڈگری ہولڈر بیوی کودھکے مار کر گھر سے بیدخل کر ڈالا

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر) ہمہ موڑہ باغ آزادکشمیر کی ماسٹر ڈگری ہولڈر خاتون کی زندگی عباسپور چفاڑ کے شادیوں کے رسیہ شخص نے برباد کر دی ۔شادی کے 8سال بعد لاکھوں روپے بھی لے لئے اور جعلی طلاق دے ڈالی۔ خاتون کو گھر سے بے دخل کر دیا ۔ خاتون اپنے رشتہ داروں کے ہاں قیام پر مجبور ہو گئی۔ راولپنڈی کی مقامی عدالت میں شوہر اور سسر کے خلاف درخواست دے دی متاثرہ خاتون فریاد لیکر میڈیا نمائندگان کے پاس پہنچ گئی ۔ 41 سالہ ذہین اختر کیانی نے اپنے ساتھ ہوئے ظلم کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ اس کی شادی 2011 میں چفاڑ عباسپور آزادکشمیر کے شبیر کیانی نامی شخص سے ہوئی ۔شبیر کیانی سے ان کا رشتہ والدین کے ذریعے طے ہوا جبکہ وہ اس کو ذاتی طور پر نہ جانتی تھیں اور نہ ہی کوئی رشتہ داری تھی۔ذہین اختر کیانی نے بتایا کہ شادی کے 8 سال تک ان کے ہاں کوئی بیٹی بیٹا نہیں ہوا ۔شوہر نے چھپ کر مزید 2 شادیاں کرلیں جن سے بھی کوئی اولاد نہیں ہوئی اور ان دونوں کو بھی طلاق دے ڈالی ، ذہین کیانی نے بتایا کہ وہ شادی سے پہلے انہوں نے آزادکشمیر یونیورسٹی سے ایم ایس سی زوالوجی کر رکھا ہے شادی سے قبل وہ باغ آزاکشمیر میں فوجی فائونڈیشن ماڈل سکول میںگریڈ 16 میں ملازمت کر رہی تھیں جب شادی ہوئی تو ان کی ماہانہ آمدن 35 ہزار روپے تھی جبکہ شوہر کے کہنے پر جب انہوں نے ملازمت سے استعفی دیا توان کی ماہانہ آمدن 65 ہزار روپے تھی۔ شوہر نے سلامی کے 65 ہزار روپے بھی مجھ سے لے لئے تھے ۔8 سال کی شادی میں اس نے کبھی کپٹروںکا ایک سوٹ نہیں لیکر دیا ۔الٹا میں نے اس ناصرف شوہر بلکہ سسرال والوں کا خیال رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد ہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس رہینے کے لئے اچھا گھر ہوانہوں نے شوہر کے گائوں میں گھر کی تعمیر کے لئے 4 لاکھ روپے سسر کو دئیے جبکہ شوہر کی فرمائش پر ائیرپورٹ ہاوسنگ سوسائٹی سیکٹر 4 راولپنڈی میں 5 مرلہ کا پلاٹ خریدا اور وہاں مکان 60 لاکھ روپے خرچ کر کے ٹرپل سٹوری مکان تعمیر کیا ،مکان کی تعمیر تک6 سال وہاں گذارے جب مکان تعمیر ہوگیا تو شوہر طلاق کی دھمکیاں دینے لگا اور کہا کہ تم فوجی فائونڈیشن ماڈل سکول سے استعفی دے دیکر سعودی عرب آکر جاب کرو ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے شوہر کی باتوں میںآکر 13 سال کی جاب سے استعفی دے دیا اور شوہر کی خواہش پر سعودی عرب چلی گئی ۔قبل ازین تین چار مرتبہ میں اپنے ٹکٹ لیکر عمرے کے لئے سعودی عرب جا چکی تھی ۔ذہین اختر کیانی نے بتایا کہ مئی 2018 میں سعودی عرب گئی جہاں سات ماہ شوہر کے ساتھ قیام کیا اور 28 جنوری 2019 کو واپس پاکستان آگئی ،جب گھر پہنچی تو ائیرپورٹ ہاوسنگ سوسائٹی والے گھر میں دو جیٹھ اور ساس سسر ساس نے گھر کے تالے کاٹ کر وہاں قیام پذیر تھے ، میرے استفسار پر انہوں نے کہا کہ اگر تم نے گھر کا نام لیا تو شبیر کو کہہ کر تمھاری طلاق کروا دیں گے ۔پھر نے اپنے میکے سے دو رشتہ داروں کو بلا یا ا ن کے آتے ہی میرے سسر نے اس معاملے پر بات کرنے سے قبل ہی دیواروں پر ٹکریں مار کر چور مچائے شور کے مصداق ہنگامہ برپا کر دیا کہ یہ لوگ مجھے مارنا چاہتا ہے چنانچہ کوئی بات نہ ہو سکی اور وہ ایسے ہی واپس گائوں لوٹ گئے ۔بعد ازاں میرے سسر اور جیٹھ نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی میں نے بھاگ کر جان بچائی ۔اور دوسرے دن مجھ دکھے دیکر گھر سے نکال دیا ۔جس کے گواہ سوسائٹی کے مکین بھی ہیں انہوں نے کہااس واقعہ کی اطلاع انہوں نے 15پر پولیس کو دی پولیس کو میرے سسرال والوں نے کہا کہ ہم اس کو اس گھر میں قیام کی اجازت نہیں دیں گے یہ ہمارا گھر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ میرے جیٹھ نے بتایا ہے کہ تمھیں تمھارے شوہر نے داٹس ایپ پر تھمارے نام طلاق نامہ بھیجا ہوا ہے جو کہ میں نے خود نہیں دیکھا ہے ۔ ذہین اختر نے بتایا کہ ان سات ماہ میں شوہر نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ۔ آئے روز تشدد کا نشانہ بنانا اس کا معمول بن گیا تھا ۔ شوہر لاتوں مکوں سے تشد د کا نشانہ بناتا ،۔ایک روز اس نے اس قدر تشدد کا نشانہ بنا یا میری حالت خراب ہوگئی وہ خود مجھے ہسپتال لے کر گیا اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ سیڑھیوں سے گری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شوہر نے تشدد کیلئے بجلی کی تاریں رکھی ہوئی تھیں اور ظالم شوہر یہ تشدد مکہ مکرمہ حرم شریف سے5 منٹ کی مسافت پر اپنی رہائش گاہ پر کرتا تھا ۔انہوں نے کہا شو ہر ان کے موبائل سے اپنے دوستوں کو غلط مسیج بھیجتا اور کہتا کہ میں تمھارے اوپر الزام لگائوںگا کہ یہ بدکردار ہے ۔ذہین اخترنے روتے ہوئے بتایا کہ وہ ویڈیو بھی بناتا تھا اور کہتا کہ میں تمھیں اسی طرح تڑپا ٹرپا کر ماروں گا ۔انہوں نے کہا کہ شوہر کی اس ظلم و بربریت کا ذکر میں کسی کے ساتھ نہیں کرسکتی تھی کیونکہ میرا موبائل میرے شوہر نے چھین رکھا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرے سسرالی شادیوں کے رسیہ ہیں میرے بڑے جیٹھ نے 5 جبکہ اس سے چھوٹے جیٹھ نے 3 شادیاں کی ہوئی ہیں ۔انہیں کسی سے بھی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ ایک جیٹھانی کے 3 بچے ہیں اس کے ساتھ سسرال والوں نے ظالمانہ رویہ اپنایا جس کے بعد وہ مجبورا تین بچوں کو چھوڑ کر غائب ہو گئی ہے ۔ ذہین اخترکیانی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ظلم و ستم کی روداد وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے قائم کردہ شکایات سیل میں کی ہے جس پر وزیر اعظم پاکستان نے نوٹس لیاہے اور سیکرٹری ہومن رائٹس ،آئی جی پنجاب سے ہوتی ہوئی ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ،اور ڈی پی او راولپنڈی تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہاانسانی حقوق کی تنظیموں ،سول سوسائٹی ،سیاسی وسماجی حلقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ظلم کے خلاف میری آواز بنیں ،تاکہ کسی اور خاندان کی بیٹی کی زندگی برباد ہونے سے بچ سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں