ذہین اختر کیانی کے ساتھ شوہر کی بدسلوکی بہیمانہ برتائو قابل مذمت ہے ،راحیلہ خان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی ایمبیسڈر ایٹ لارج، مرکزی صدر انر وائس ویلفیئر ٹرسٹ محترمہ راحیلہ خان نے ہمہ موڑہ باغ آزادکشمیر کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کے ساتھ شوہر کی بدسلوکی ، بہیمانہ برتائو، ڈھائے جانے والے مظالم اور تشددکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنفِ نازک کے ساتھ ہمدردی ،خیر خواہی سمیت اس کے فطری جذبات کی قدر کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔حکومت پاکستان متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے متاثرہ خاتون ذہین اختر کیانی سے اپنے آفس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے ذہین اختر کیانی کو یقین دہانی کروائی کہ اس حوالے سے اس کی قانونی ، اخلاقی حوالے سے ہر طرح کی مدد کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ عورت کا دوسرا روپ بیوی کا ہے، جو شوہر کے گھر کی مالک اور محافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہین اختر کیانی نے اپنے شوہر کیلئے زندگی بھر کی جمع پونچی لگا کر گھر بنایا اور جب گھر کی تکمیل ہوئی تو شوہر نے اس کو طلاق دیکر گھر سے بید خل کر دیا جو انتہائی افسوس ناک اور گھنائونا فعل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلاق اگرچہ شرعی اور قانونی طورپر ناجائزنہیں لیکن ناپسندیدہ عمل ضرورہے جس سے معاشرے میں تنا ئو کی کیفیت پیداہو جاتی ہے اوربدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ناپسندیدہ عمل تیزی سے وقوع پذیرہورہا ہے اورپچھلے کئی سالوں سے اس میں غیرمعمولی اضافہ ہوتانظرآرہا ہے۔ راحیلہ خان نے کہا کہ بد سے بدنام براکے مصداق اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں فرسودہ روایات،تعلیم کی کمی اورخواتین میں اپنے حقوق بارے آگاہی کے فقدان جیسے عوامل کے باعث مردوں کے اجارہ دارکہلاتے معاشرہ میں خواتین کے ساتھ نامناسب سلوک کیاجاتا ہے اور وہ مظلومیت کانشان بن کررہ جاتی ہیں لیکن صرف مردوں کوموردالزام ٹہراناکہ وہ ہی ظالم بن کرخواتین کوزیادتی کانشانہ بناتے ہیں اور ان کے ساتھ نارواسلوک روارکھتے ہیں جبکہ عورتیں محض شرافت اورمظلومیت کامجسمہ بن کر سب کچھ چاروناچار سہہ لیتی ہیں۔ راحیلہ خان نے کہا کہ اسلام نے طلاق کی اجازت و رخصت دی ہے لیکن اس میں حکمت تو یہ ہے کہ اگر کوشش کے باوجود بھی میاں بیوی میں تعلقات استوار نہ ہوپائیں تو اس حالت میں دونوں اپنی زندگیوں سے دکھ و غم سے نجات حاصل کرکے راحت کی زندگی بسر کرسکیں۔اسی لیے بیان کیا گیا کہ طلاق دودفعہ ،تاکہ بہتری سے رہ تعلق بحال رکھیں یا خوش اسلوبی سے علیحدگی اختیار کرلیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ آزادکشمیر کے دیہی علاقوں کی خواتین دو طرح کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے پہلی بات یہ ہے کہ عورت اپنے حقوق سے ناواقف و نا آشنا ہے۔مردوں کی جاہلیت و دین سے ناآشنائی کی وجہ سے عورت کے ساتھ نارواسلوک کا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔مرد یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مقام و مرتبہ عورت کے مقابلہ میں زیادہ ہے اس کے اظہار کے لیے ضروری ہے کہ ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ عورتیں اپنے حقوق سے واقف ہوتی ہیں ،اس کا عقل و شعور کی بلندی تک پہنچ چکی ہوتی ہیں تو ایسے وقت میں جب شادی کا فیصلہ طے کرنے کا وقت آئے تو اس وقت غور و فکر کرکے نکاح و شادی کا فیصلہ کریں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ بعض تعلیم یافتہ عورتوں کی شادی قبیلائی رسوم و رواج کی بنیاد پر استوار کیا جاتاہے جس میں عورت کی مرضی معلوم نہیں کی جاتی۔ عورتوں کی جانب سے والدین کی رضامندی و رغبت کا جنازہ نکال کر جس سے شادی کا فیصلہ کرتی ہے کوئی بعید نہیں کہ اس کو وہاں بھی دھوکہ ملے تو ایسا کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ عورت اس معاملہ کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے احتیاطی امور سرانجام دے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عورت پر سختی بہت زیادہ خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بنتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں