ایدھی کےکام جاری ہیں مگر ہماری آنکھیں انکو ڈھونڈتی رہتی ہیں.

نابینا شہر میں آئینہ رکھنے والے تو بہت مل جاتے ہیں لیکن نابیناؤں کو ’آنکھیں‘ دے جانا واقعی بہت عظیم کام ہے۔ انسانیت کو سب سے بڑا مذہب قرار دینے والے عبدالستار ایدھی نے نادار لوگوں کی خدمت کے لیے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ان کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔
آج عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے تین برس ہوگئے ہیں۔ وہ 88 برس کی عمر میں گردوں کے عارضے کی وجہ سے 8 جولائی 2016 کو انتقال کر گئے تھے۔
دنیا ان کو انسانیت کی خدمت کی وجہ سے یاد رکھتی ہے۔ انہوں نے اس دنیا سے جاتے ہوئے بھی انسانیت کی خدمت کی اور اپنی آنکھیں عطیہ کیں۔
دکھی انسانیت کے لیے عبدالستار ایدھی کی خدمات کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے۔
عبدالستار ایدھی کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی ذمہ داری ان کی اہلیہ اور بیٹا سنبھال رہے ہیں۔
ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے کہا کہ ’ان کے جانے کے بعد بہت زیادہ خلا پیدا ہوا ہے، ان کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا۔ انہوں نے پورا سیٹ اپ چھوڑا ہے اور ان کا کام جاری ہے، وہ روشنی کا مینارہ تھے، ہماری آنکھیں ان کو ڈھونڈتی رہتی ہیں۔‘
عبدالستار ایدھی 1928 کو انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں ایدھی اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔
فلاحی کام
عبدالستار ایدھی نے انسانیت کی خدمت کا باقاعدہ آغاز1951 میں کیا تاہم ان کو دکھی انسانیت کی خدمت کا خیال اس وقت آیا جب ان کی والدہ کو فالج ہوا اور انہوں نے ان کی خدمت کی۔ عبدالستار ایدھی نے اپنے فلاحی کاموں کا آغاز اپنی دکان میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے شروع کیا۔ 1957 میں کراچی میں فلو کی وبا پھیلی تو انہوں نے متاثرین کی مدد کی اور اس کے بعد وہ رکے نہیں۔
اسی وبا کے بعد عبدالستار ایدھی نے امدادی رقم سے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے۔ بے آسرا اور ضرورت مندوں کے لیے فلاحی مراکز کھولے جس کے لیے انہوں نے ملک بھر سے چندہ اکھٹا کیا۔ ایدھی کے جذبے کو دیکھتے ہوئے عام افراد اور خصوصاً کاروباری شخصیات نے دل کھول کر ان کی مدد کی۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس سب سے بڑی سروس ہے جس میں 1400 سے زیادہ گاڑیاں اور چار ایئر ایمبولینس ہیں جو کسی بھی حادثے یا کسی دوسری ضرورت کے تحت ملک کے ہر کونے میں پہنچتی ہیں۔
ایدھی جھولا سروس کی نگرانی بلقیس ایدھی کرتی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
بے سہاروں کا سہارا
یتیم، بے گھر اور بے سہارا افراد ایدھی فاؤنڈیشن کے فلاحی مراکز کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ 350 کے قریب مراکز نہ صرف ان کی چھت ہیں بلکہ ان میں بچوں کو تعلیم بھی دی جاتی ہے اور ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔
ان مراکز میں جھولا سروس بھی ہے جس میں مختلف مقامات سے ملنے والے نومولود بچوں کو رکھا جاتا ہے۔ عبدالستار ایدھی نے مختلف انٹرویوز میں کہا تھا کہ ’بچوں کو مارنے کی بجائے جھولے میں چھوڑ جایا کریں کیونکہ ہر بچہ معصوم ہوتا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’لاوارث بچوں کو بے اولاد جوڑے گود لیتے ہیں۔‘
جھولا سروس کی نگرانی اب ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کرتی ہیں۔
لاوارثوں کے شناختی کارڈ کا مسئلہ
رپورٹس کے مطابق 2011 میں عبدالستار ایدھی نے یتیموں اور بے سہارا بچوں کے شناختی کارڈ کے مسئلے کے حل کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد شناختی کارڈ جاری کرنے کے قومی ادارے نادرا نے 2014 میں ایک نئی پالیسی جاری کی کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کے شناختی کارڈ کے لیے یتیم خاندانوں کے سربراہ کا نام لکھا جائے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی ذمہ داری بلقیس ایدھی اور ان کا بیٹا سنبھال رہے ہیں۔

ایدھی کے بعد ان کی فاؤنڈیشن
عبدالستار ایدھی کے جانے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی ذمہ داری ان کی اہلیہ اور بیٹا سنبھال رہے ہیں، تاہم عبدالستار ایدھی کے جانے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کو عطیات کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کہتی ہیں کہ ’ایدھی صاحب کی زندگی اور ان کے بعد بھی یہ مسئلہ ہے لیکن ہم قناعت پسندی سے اس مسئلے پر قابو پا لیتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے خلاف پروپیگنڈے ہوتے رہتے ہیں لیکن’ ایدھی صاحب نے کہا تھا کہ پروپیگنڈے کرنے والوں کے پیچھے نہ لگیں اور نہ مڑ کے دیکھیں بلکہ آگے کی طرف دیکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں