کشمیر میں بھارتی پالیسیوں کے خلاف سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں احتجاج

شہاب قادری، اسٹاک ہوم: مظاہرین اسٹاک ہوم کے سرکل اسکوائر میں جمع ہوئے، انہوں نے کشمیر کے جھنڈے اور خطے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر تنقیدیبینرز اٹھا رکھے تھے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم نے “مقبوضہ جموں کشمیر” میں ہندوستان کی پالیسیوں اور اس علاقے کی خودمختاری کے خاتمے کے خلاف ایک مظاہرے کا انعقاد کیا۔
پچھلے 72 سالوں اور گزشتہ 48 دنوں میں شدت سے نہتےکشمیریوں پر ہونے والے مظالم گرچہ UN اور انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں کو تو نظر نہیں آئے ہونگے مگر سویڈن اور خاص کر اسٹاک ہولم میں موجود پاکستانیوں اور دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کو ضرور نظر آئے ۔

اسٹاک ہولم کے دل میں ایک پرُ امن احتجاج کر کے انہوں نے اس بات کا ثبوت دیا کے ہمارے کشمیری بھائی بہن اس مشکل حالات میں اکیلے نہیں ہیں اور بھارت چاہے جتنا زور لگا لے اب کشمیریوں کی آواز کو دبا یا مٹا نہیں سکتا۔
اس مظاہرے کی سب سے خوبصورت اور انوکھی بات یہ تھی کہ یہ کسی ایک تنظیم کی کاوش نہیں تھی بلکہ ہر وہ شخص جس کے دل میں انسانیت زندہ ہے وہ اس کاوش کا حصہ تھا اس انوکھی سوچ کا سہرا شفقت کھٹانہ اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے

PICS paylaştı: 22 Eylül 2019 Pazar

شہر کے قلب میں ہونے والے احتجاج میں بڑی تعداد میں خواتین،بچوں اور مرد حضرات نے شرکت کی تقریب کے آغاز بچوں اور خواتین نے شمع روشن کر کے وادیِ کشمیر میں شہید کیے جانے والوں سے شرکتِ غم کا اظہار کیا گیا۔

SSU Stockholm کی طرف سے اپنے خطاب میں لارا بادنسن نے کہا کہ ہمارا یہاں آج آنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ کشمیر میں بھارت جو انسانت سوز کام کر رہا ہے ہم اس کی شدید طور پر مذمت کرتے ہیں

PICS paylaştı: 22 Eylül 2019 Pazar

دیگر مقریرین جس میں فشاہد شاہ،عالیہ عامر،عمر،سویڈش پارلیمنٹ ممبر سیرکان کوسے شامل تھے نے سویڈن اور انسانی حقوق کے علم بردار دیگر ممالک سے پرُ زور اپیل کی کہ فوری طور پر کشمیر میں ہونے والے مظالم کو فل فور بند کرایا جائے اور کشمیریوں کےخود ارادیت کے عمل کو تیز کیا جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں