آزادکشمیر سرکاری سکول کی طالبہ پر استانی کا تشدد

اسلام آباد (نیل فیری نیوز) ضلع حویلی کہوٹہ کے گاؤں شیخ سولی میں واقع گرلز پرائمری سکول کی خاتون استاد نے ایک معصوم طالبہ اقراء پر تشدد کیا. اقراء جماعت دوئم کی طالبہ ہے. جس کے بعد اقراء اپنے والد ظہور احمد کے ساتھ مقامی پریس کلب پہنچی. اور اپنی روداد میڈیا تک پہنچائی. اقراء کے والد کا کہنا ہے کہ میں پولیس سٹیشن بھی گیا تھا وہاں میری کو شنوائی نہیں ہوئی. انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے تھانہ سے باہر نکال دیا. میں ایک غریب شخص ہوں اس لیے کوئی بھی ادارہ میری بات نہیں سنتا. میں انصاف کے لیے کہاں جاؤں؟ جب اس بارے میں خاتون استاد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو موبائل نمبر بند موصول ہوا. ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ سے رابطہ اس وجہ سے نا ہو سکا کہ موصوفہ چھٹی ہونے کی وجہ سے دفتر میں موجود نا تھیں. ذرائع کا کہنا ہے کہ موصوفہ اپنا موبائل نمبر کسی بھی شخص کو نہیں دیتیں. اس کے بعد سیکرٹری تعلیم آزاد کشمیر راجہ امجد پرویز سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر کو اس بارے میں مطلع کر کے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے. اور اس استانی کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی.ایک مقامی شہری عبداللہ کا کہنا تھا کہ ایک طرف محکمہ تعلیم آزادکشمیر کا دعویٰ ہے مار نہیں پیار، تعلیم سب کے لیے. جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں بچے صرف اس وجہ سے نہیں آ رہے کہ وہاں استاد پڑھائی سے زیادہ مار پر توجہ دیتے ہیں. پہلے تو استاد سکولوں میں آتے ہی نہیں ہیں. اگر آتے ہیں تو پھر وہ بچوں پر تشدد کرتے ہیں جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل ہی نہیں کرواتے. کرائے کے نا تجربہ کار استاد رکھے جا رہے ہیں. جسکا محکمہ کے اعلیٰ افسران کو بھی علم ہوتا ہے. ذاتی اور سیاسی تعلقات کی بناء پر اساتذہ اکثر سیاست دان کے آگے پیچھے نظر آتے ہیں.اگر محکمہ تعلیم نے اپنی روش نا بدلی تو آزادکشمیر کے سرکاری سکول ویران ہونے میں دیر نہیں لگنی. محکمہ تعلیم کو اپنے ملازمین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں