ریاستی دارالحکومت میں پولیس گردی کے خلاف چک سواری میں طلباء کا احتجاجی مظاہرہ۔کون سے مطالبات کیے گئے،جانیے اس خبر میں۔

چک سواری(صبرشیرازچودھری سے)ریاستی دارالحکومت مظفرآبادمیں نہتے شہریوں اورصحافیوں پرپولیس گردی کے خلاف گورنمنٹ بوائزڈگری کالج چک سواری کے طلباء کااحتجاجی مظاہرہ۔ریاستی جبرکے خلاف اورآزادی کے حق میں شدیدنعرے بازی،ریاستی وحدت کی بحالی،کشمیریوں کورائے شماری کاحق دیے جانے اورتعلیمی نصاب میں تاریخِ کشمیرکوشامل کیے جانے کامطالبہ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز22اکتوبرکوریاستی دارالحکومت مظفرآبادمیں پیپلز نیشنل الائنس کے تحت مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں اورصحافیوں پرپولیس کی طرف سے لاٹھی چارج اورآنسوگیس کے استعمال کے خلاف ریاست بھر کی طرح چک سواری میں بھی گورنمنٹ بوائزڈگری کالج کے طلباء نے احتجاجی ریلی کاانعقادکیا۔ریلی کی قیادت ثاقب نوازپلاکوی،رحیم شوکت ودیگرطلباء راہ نماکررہے تھے۔شرکاء ریلی نے ریاستی جبر،نہتے شہریوں اورصحافیوں پرپولیس گردی کے خلاف اورکشمیرکی آزادی کے حق میں شدیدنعرے بازی کی۔شرکاء ریلی نے ہم چھین کے لیں گے آزادی،ہے حق ہماراآزادی،ملک ہماراراج تمہارانامنظور،دہشت گردی نامنظور،پولیس کے غنڈے نامنظورکے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ریلی کاآغازڈگری کالج سے ہواجوچک سواری بازارسے گزرتی ہوئی زاہدی چوک چک سواری میں جلسہ عام کی شکل اختیارکرگئی۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم راہ نماثاقب نوازپلاکوی نے کہاکہ تاریخ اپنے آپ کودہرارہی ہے اورتہترسال قبل کی طرح گذشتہ روز22اکتوبرکوایک بارپھر کشمیریوں پرشب خون ماراگیا۔اپنے پیدائشی حق حقِ خودارادیت کے لیے ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں جمع پرامن کشمیریوں پرلینٹ آفیسران کے حکم پرپولیس کی طرف سے لاٹھی چارج اورآنسوگیس کااستعمال ریاستی جبرکی بدترین اظہارہے۔حق خودارادیت کشمیریوں کامسلمہ حق جسے دنیاکی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی اوررائے شماری کے نتیجے میں کشمیریوں کی رائے کااحترام کرناتمام دنیاوی قوتوں پرلازم ہے۔دہلی اوراسلام آبادکے قابضین میں کوئی فرق نہیں دونوں نہتے کشمیریوں پرظلم کے پہاڑتوڑرہے ہیں۔اب سری نگراورمظفرآبادمیں کوئی فرق نہیں،یہاں اوروہاں کی شاہرات کشمیریوں کے خون سے سرخ ہوچکی ہیں اورکشمیریوں کاخون ضروررنگ لائے گا۔انہوں نے کہاکہ دونوں طاقتوں نے کشمیریوں کومحکموم رکھنے کے لیے تمام ممکن ہتھکنڈے آزمائے حتیٰ کہ سکول کے نصاب سے تاریخِ کشمیرکوختم کردیاگیاتاکہ نوجوان نسل اپنی آزاد وخودمختارتاریخ سے آگاہ نہ ہوسکے۔اس ضمن میں اسلام آبادکی حکومت نے شہیدکشمیرمحمدمقبول بٹ شہیدکی تصانیف ودیگرکشمیرکی تاریخی کتب کومارکیٹ سے غائب کیاہواہے اوراُن کی اشاعت پرپابندی عائدکررکھی ہے۔طالب علم راہ نماؤں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاکہ تمام سیاسی قیدیوں کوفی الفوررہاکیاجائے اورریاستی وحدت کوبحال کرتے ہوئے رائے شماری کااہتمام کیاجائے تاکہ کشمیری اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق خوداپنے مستقبل کافیصلہ کرسکیں بصورتِ دیگرتاریخ گواہ ہے کہ جبرسے تحریکیں دبنے کی بجائے اُبھرتی ہیں اوراگرپولیس گردی ختم نہ کی گئی توپورے کشمیرمیں مظاہرے پھوٹ پڑیں گے اورلینٹ آفیسران،دہلی اوراسلام آبادکے ایجنٹوں کوبھاگنے کاموقع نہیں ملے گا۔ثاقب نوازپلاکوی نے شرکاء احتجاجی ریلی،طلباء،صحافتی برادری کاشکریہ اداکیا۔قبل ازیں حافظ محمدنبیل نے تلاوتِ قرآن پاک اورمحمدحسان نے ہدیہ نعت پیش کی جب کہ نظامت کے فرائض رحیم شوکت نے بخوبی سرانجام دیے۔مظاہرے کے اختتام پرکشمیر کی آزادی،شہداء کشمیرکے درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعاکی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں