ہے جرمِ ضعیفی کی سزامرگِ مفاجات / از شہزاد عظیم (چک سواری ضلع میرپور)

پرانے وقتوں کی بات ہے کسی گائوں میں چوری اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں شروع ہوگئیں۔ آج ایک گھرتوچند دن بعد دوسرے گھرواردات ہوجاتی جس سے سبھی گائوں والے سخت پریشان تھے۔ شام ہوتی توصبح تک یہ خوف مسلط رہتاکہ کہیں آج رات ڈاکوئوں سے ملاقات نہ ہوجائے۔ پھرگائوں کے چنددانالوگوں نے اس کاحل یوں نکالا کہ کسی ایک ذمہ دار فرد کو بطورچوکیدارتعینات کیا جائے تاکہ باقی گائوں والے سکون کی نیندسوسکیں اورگائوں کے ہرگھرسے چوکیدارکی تنخواہ کے لیے ماہانہ بنیادوں پرچندہ جمع ہوناشروع کردیاجوگائوں کے وڈیرے/ چودھری/ مہاراج کے پاس جمع ہوتا۔ المختصر! وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی اورمصروف ہوگئی اوردیگراجتماعی مسائل پانی، سڑک، بجلی وغیرہ کے لیے بھی چندہ جمع ہونے لگا اور وڈیرے نے گائوں کے لیے چوکیدارکے ساتھ ساتھ وال مین، سکول ماسٹر، بیل دار، لائن مین، ڈسپنسروغیرہ مقررکردیے جنہیں وہ جمع شدہ چندہ کی رقم سے معقول تنخواہ دیتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وڈیرے کے دماغ میں فتوراورعوامی سطح پر بے حسی نے ڈیرے ڈالنے شروع کردیے جس کاوڈیرے نے شاطرانہ اندازمیں بھرپورفائدہ اٹھایا۔وڈیرے نے چند ہم خیال ساتھیوں کوساتھ ملاکرجمع ہونے والی چندہ کی رقم میں گڑبڑ شروع کردی اورکام کاج کے لیے اہل افرادکی بجائے نالائق اورکام چور بھرتی کرلیے جونااہل اورسفارشی ہونے کی وجہ سے عوام کی آنکھوں میں بھرپوردھول جھونکتے۔رفتہ رفتہ گائوں مسائلستان بن گیالیکن کوئی بھی وڈیرے کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کرتاکیوں کہ وڈیرے نے مضبوط افرادکواپنے ساتھ بدعنوانی(کرپشن) میں شامل کرلیاتھا اور بقیہ متوسط وغریب طبقہ سے اگرکوئی بغاوت کرتاتواُسے سیاسی، معاشرتی انتقام کے ذریعے نشانِ عبرت بنادیاجاتا۔یوں وڈیرے نے وسائل پرقابض ہونے کے ساتھ ساتھ گائوں کے کمزور،کم علم اورناسمجھ مکینوں پراحسان بھی جتاتاشروع کردیاکہ دیکھومیری وجہ سے یہاں سڑک، بجلی، پانی، سیکورٹی وغیرہ کے مسائل حل ہوئے ہیں اورگائوں کے خوشامدی وچاپلوس چودھری صاحب کی شان میں قصیدے پڑھتے لیکن درحقیقت مذکورہ تمام سہولیات کے لیے وسائل گائوں کے افراداپناپیٹ کاٹ کرخون پسینے کی کمائی سے مہیاکررہے تھے۔
مذکورہ بالا تخیلاتی کہانی پڑھنے اورسمجھنے کے بعداپنے موجودہ معاشرے کاجائزہ لیتے ہیں توچند باتیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انصاف نہیں بلکہ ظلم کی جڑیں بہت گہری ہوچکی ہیں جیسے اوپربیان کردہ کہانی میں گائوں کاوڈیرہ اپنے منصب سے انصاف کرنے کی بجائے گائوں کے وسائل کاغاصب بن گیا، مختلف محکموں میں اہلکاران کی بھرتی کے لیے قابلیت اوراہلیت کی بجائے ذاتی تعلقات، سفارش اوربرادری ازم میرٹ ٹھہری، بیت المال کامحافظ ہی ڈاکونکلا اور اُلٹاعوام پراحسان کہ یہ سب سہولیات میری مرہونِ منت ہیں توظلم کے اس نظام میں متوسط وغریب طبقات نہ صرف رُل گئے بلکہ ظالموں و خوشامدیوں نے قصیدہ گوئی و غلامی کی ایسی شرم ناک داستانیں رقم کیں جوآنے والی نسلوں کے لیے نصاب بن کرغلامی، ذلت اوررسوئی کی رات میں طوالت کاسبب بنیں۔
یہ تحریرلکھنے کابنیادی مقصدمعاشرتی بے حسی، ظلم وناانصافی، اقرباء پروری، برادری ازم، علاقائی ازم کی بڑھتی ہوئی وباء کے خلاف ضمیر کی آوازپرلبیک کہتے ہوئے اپنی سمجھ کے مطابق عوام علاقہ بالخصوص نوجوان طبقات کی درست سمت راہ نمائی کرنا بالخصوص حالیہ دنوں ضلع میرپورکے نواحی قصبہ چک سواری میں حکومت کی طرف سے صحت انصاف کارڈ کی تقسیم اورچک سواری کی رابطہ شاہرات کی تعمیرکے حوالہ سے عوامی ردِ عمل اوراس کے نتیجے میں پیداشدہ غلط فہمیاں دورکرناہے۔
بلاشبہ تندرستی ہزارنعمت ہے اورصحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے لیکن ذاتی مشاہدے میں آیاہے کہ کسی خفیہ، مبہم سروے کے ذریعے کئی ایسے افرادکوصحت انصاف کارڈ کے حاملین کی فہرست میں شامل کیاگیاجوقطعی طورپراس کے اہل نہیں اورکئی ایسے گھرانے فہرست سے غائب ہیں جن میں بیوہ اپنی یتیم نابالغ بچیوں کے ساتھ کسمپرسی کی زندگی گزاررہی ہے۔غیرمنصفانہ،غیرمعیاری فہرست کے بعدان صحت کارڈز کی تقسیم کاایسا بھونڈا طریقہ اپنایاگیاکہ انسانیت شرماجائے یعنی مقامی کھڑپینج، وڈیرے، چودھری، مہاراج مقامی افرادکو کارڈ تقسیم کرتے ہوئے تصویریں بنواکر سوشل میڈیا اور اخبارات کی زینت بنارہے ہیں جیسے یہ نام نہادحاتم طائی باپ داداکی کمائی کاایک بڑاحصہ ان مستحق افرادکے علاج معالجے پرخرچ کررہے ہیں اور صحت کارڈ لینے والوں کوتاعمراِن وڈیروں کا احسان مند رہناہوگا۔صحت کارڈ حکومت، عوامی بیت المال (قومی خزانے) سے جاری کررہی ہے جس پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حق دارکواُس کاحق ملے لیکن مبہم فہرست سے ہی حکومتی اہلیت کاپردہ فاش ہوجاتاہے اور مقامی وڈیرے کارڈدے کرشریف شہریوں کی عزتِ نفس کوبھرے بازار رسواکر رہے ہیں لیکن مجال ہے عوامی، سیاسی، سماجی راہ نمائوں، پڑھے اورگُڑھے طبقات میں سے کسی نے اس تذلیل، ناانصافی کے خلاف آواز بلندکی ہو کیوں کہ ظلم، ناانصافی پرخاموشی اختیارکرنااورسچ بات کرنے کی بجائے ذاتی تعلقات یابرادری کے نام پرایک دوسرے کاساتھ دیناہمارامعاشرتی المیہ اورقومی شیوہ بن چکاہے۔یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ کئی گھرانوں میں میاں اوربیوی نے الگ الگ دوکارڈوصول کیے ہیں لیکن نہ دینے والوں کوہوش ہے اورنہ لینے والوں کواحساس وشرم۔
چک سواری راقم کی جنم دھرتی ہے جہاں پرورش پاکرجوانی کی دہلیزپر قدم رکھااس لیے فطری طورپراس دھرتی سے محبت،اُنس رکھنااوریہاں کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرناضمیرکی آوازکے عین مطابق سمجھا۔دیگرعلاقائی مسائل کی طرح یونین کونسل پنیام کے ہزاروں مکینوں کو چک سواری سے ملانے والی واحد رابطہ شاہراہ کی خستہ حالی اہم ترین مسئلہ تھاجس سے ہزاروں علاقہ مکین براہ راست متاثرہو رہے تھے۔اس مسئلہ کے حل کے لیے عوامی سطح پر بھرپور کوششیں کی گئیں، مقامی زعماء کوتحریک دینے کے ساتھ ساتھ پرنٹ وسوشل میڈیاکے ذریعے اس مسئلہ کو بھرپور اُجاگرکیاگیا۔ غالباً کئی دہائیوں بعد پنیام رابطہ شاہراہ پہلی مرتبہ ازسرنومرمت ہورہی ہے اوراس عرصہ کے دوران ہزاروں علاقہ مکین کس کرب سے گزرے اس کااندازہ پنیام کے باسیوں کے علاوہ شایدہی کوئی کرسکتاہو۔پنیام رابطہ شاہراہ کے متعلق یہ بات مشہور ہوچکی تھی کہ کسی حاملہ خاتون کوزچگی کے لیے اسپتال لانے کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں بلکہ رکشے یاگاڑی پربٹھاکرصرف چک سواری بازارتک سفرکرانے سے افاقہ ہوجاتاہے۔ایک دوسال نہیں دہائیوں تک عوام علاقہ کواس بنیادی سہولت سے محروم رکھنے بلکہ عذاب دینے کے بعدعلاقہ کے بے تاج بادشاہ اورواحدایم ایل اے نے تقریباً آٹھ کلومیٹر طویل رابطہ شاہراہ میں سے صرف دو کلومیٹر سڑک کی ازسرنومرمت کاعندیہ کیا دیاعلاقہ کے نام نہادزعما، خوشامدیوں اورمفاد پرست عناصرنے طبلہ بجاناشروع کردیاکہ ایم ایل اے نے علاقہ پراحسان عظیم کردیاہے اوراپنی خون پسینے کی کمائی سے خطیررقم ہزاروں اہلیانِ پنیام کی واحدرابطہ شاہراہ کی مرمت کے لیے عطیہ کی ہے اورغلام ذہنیت کے حامل ان افرادنے غریبوں،مسکینوں اورغربت کی چکی میں پسے طبقات کویہ باورکراناشروع کردیاکہ اس احسانِ عظیم کے بدلے وہ ساری زندگی ایم ایل اے کی غلامی کریں پھربھی اس احسان کابدلہ نہیں چکایاجاسکتا اورسوشل میڈیاپرتصاویراپ لوڈکرکے خوب دادِ تحسین وصول کی گئی۔
حاصل گفتگوکچھ یوں ہے کہ اس تحریرکے ذریعے عوام علاقہ بالخصوص چک سواری کے متوسط وغریب طبقات کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں کے نام نہاد وڈیروں، چودھریوں، مہاراجوں کو پیغام دینامقصود کہ عوام اب مزیدظلم نہیں سہہ سکتے، باطل مٹنے کے لیے ہے اورحق نے بالآخرغالب آناہے۔استحصال کادورختم ہونے والاہے اورظلم کی اندھیری رات اپنے اختتام کے قریب ہے اوربہت جلدوہ روشن سویرا ہوگا کہ محروم عوامی طبقات اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے اورغاصب، ظالم کاگریبان ہوگااورمحکوم ومجبور عوام کاہاتھ۔سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ یاکسی دانش ورکاقول ہے کہ کفرکانظام توقائم رہ سکتاہے لیکن ظلم کانہیں اورعدل وانصاف کی ضدظلم ہے۔سب سے بڑا اور حقیقی منصف خالق کائنات ہے،اُس کی حکمت میں ڈھیل توہوسکتی ہے لیکن چھوٹ ہرگز نہیں۔اس تحریرکے ذریعے عوام علاقہ کے نام پیغام ہے کہ اپنے آپ کو پہچانیں،اپنے حقوق کو پہچانیں اوراپنے حقوق ووسائل پرقابض وغاصب قوتوں کوبھی پہچانیں اورپھران کے خلاف علم بغاوت بلندکریں کیوںکہ قانونِ قدرت ہے کہ جب تک کوئی قوم/فردخود اپنے حالات نہیں بدلتایابدلنے کی کوشش نہیں کرتا، قدرت بھی اُس کے حالات نہیں بدلتی۔اس معاشرے کوجنت کانمونہ (جہاں ظلم وناانصافی کی بجائے عدل وانصاف کانظام ہو) ہم نے خودبناناہے کوئی باہرسے ہماری دادرسی کے لیے نہیں آئے گا۔محمدبن قاسم اورطارق بن زیاد ہم ہی ہیں اوراخلاص کی دولت سے سرفراز نیک مقاصدکے لیے تگ ودوکرنے والوں کی قدرت غیبی امدادکرتی ہے۔دعاہے خالق کائنات ہمیں حق بات کہنے،سننے،سمجھنے اورعمل کی توفیق عطافرمائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں