مولانا فضل الرحمن کا ناکام دھرنا، نعیم حیات خان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کے پشاور موڑ پر کئی روز سے جاری دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان ‘بی’ کے تحت نئے محاذ پر جانے کا اعلان کردیا۔آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو ہفتوں سے قومی سطح کا اجتماع تسلسل سے ہوا، اب نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ہمارے جاں نثار اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہماری قوت یہاں جمع ہے اور وہاں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کا انتظار ہے، ہم آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے اور جس طرح یہاں آئے ہیں اب اسی طرح یہاں سے دوسرے محاذ پر جائیں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت اراکین کی جانب سے ایسے جملے کہے جارہے ہیں جو حوصلہ شکنی کا سبب بنیں، حکومتی حلقوں میں خیال تھا کہ اجتماع اٹھے گا تو حکومت کے لیے آسانیاں ہو جائیں گی لیکن اب صوبوں اور ضلع میں حکومت کی چولہیں ہل گئی ہیں۔اس نوعیت کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے قومی معیشت و مفادات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کا آج حکمران پی ٹی آئی کی قیادت کو بخوبی ادراک ہونا چاہیے تاہم حکومت کی جانب سے اب تک مولانا فضل الرحمان کی اس تحریک کے آگے گھٹنے نہ ٹیکنے کا ہی عندیہ دیا جارہا ہے اور اسکے برعکس اس تحریک کے پلان بی کو ریاستی طاقت کے ذریعے روکنے کے حکومتی حلقوں کی جانب سے ضرور اشارے مل رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے بھی باور کرایا ہے کہ ہم فضل الرحمان کو اتنا پیار دے رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم کا استعفی بھول جائینگے۔ اسی طرح پنجاب حکومت اور خیبر پی کے حکومت کی جانب سے بھی جے یو آئی کے کارکنوں کو سڑکیں اور شاہرات بند کرنے سے روکنے کیلئے سخت اقدامات کے اشارے مل رہے ہیں جن کی بنیاد پر کسی مقام پر کوئی تصادم ہوا تو اس سے سسٹم کی بساط لپیٹے جانے کا حکمران پی ٹی آئی کو ہی اصل نقصان ہوگا۔ اس تناظر میں حکومت کو اپنی مخالف جے یو آئی کی احتجاجی تحریک سے عہدہ برا ہونے کیلئے سخت انتظامی اقدامات کے بجائے افہام و تفہیم کا کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے جس کیلئے حکومت کی جانب سے پہلے بھی حکومتی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے کر کوششیں بروئے کار لائی جاتی رہی ہیں اور اسی طرح حکومتی حلیف مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین بھی اپنے طور پر حکومت اور مولانا فضل الرحمان میں افہام و تفہیم کا کوئی قابل عمل راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہی مفاہمتی کوششیں اب بھی بروئے کار لائی جاسکتی ہیں اور مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم کے استعفے سے کم کسی دوسرے آپشن پر قائل کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند کردیئے تو اپوزیشن کی دوسری جماعتیں بھی ملک کے لاک ڈائون والی انکی جارحانہ احتجاجی سیاست کا حصہ بن سکتی ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ فہم و تدبر سے کام لیکر ملک میں کسی قسم کی افراتفری اور قیاس کی فضا پیدا نہ ہونے دی جائے بصورت دیگر جمہوری نظام اور ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اس ارض وطن کے بدخواہوں کی خواہشات پوری ہوسکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن قیادتوں کو بھی ملک کی سلامتی کو درپیش آج کے سنگین خطرات کا احساس ہونا چاہیے انکی سیاسی دکانداریاں بہرصورت ملک کی سلامتی کے ساتھ ہی وابستہ ہیں۔ انہیں ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر اپنی سیاست کو ہرگز ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے 5 خاندان اقتدار سے دور ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ان خاندانوں میں 1. بھٹو خاندان 2. نوازشریف خاندان 3. اچکزئی خاندان 4. مفتی محمود خاندان 5. ولی خاندان ۔ مولانا کے آزادی مارچ وہ واحد مارچ تھا جس میں ملک کے وزیراعظم پر کرپشن کا الزام کوئی نہیں تھا بلکہ وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ تھا ۔یعنی ان لوگوں کو صرف اقتدار چاہیے ۔ یہ ہ وہی مولانا ہیں نہ جو نے نظیر بھٹو کے مخالف تھے اور ان کی گورنمنٹ کا حصہ رہے ۔ یہ وہی مولانا ہیں جو نوازشریف کے مخالف تھے اور ان کی گورنمنٹ کا حصہ تھے اور مجھے یاد ہے آپ کو یاد ہو کہ نہ ہو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بہت بڑے مخالف ہونے کے باوجود ان کی بھی گورنمنٹ کا حصہ تھے ستر کی دہائی کے بعد پاکستان کو معاشی سیاسی اور اقتصادی طور پر زوال اور کمزوری کا شکار کرنے اور ذاتی مفادات اور کاروبار کو پاکستان پر ترجیع دینے والی قوتیں آج اقتدار کے حصول کے لئے ایک مرتبہ پھر ایک کنٹینر پر کھڑی نظر آئیںں اور ایک ایسی شخصیت کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جس کے والد محترم پاکستان بننے کے خلاف تھے اور مولانا پاکستان کو اندرونی طور پر معاشی کمزور کرنے کے در پے ہیں جس کا برملا اظہار مولانا صاھب اپنی تقریروں میں بھی کر چکے ہیں۔ آج جب عمران خان کی قیادت میں قوم سیاسی اور مذہبی تقسیم سے باہر نکل کے معاشی طور پر اپنے پاں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ مولانا ایک مرتبہ پھر اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ میدان عمل میں اتر چکے ہیںمولانا صا حب لوگ آپ کو سمجھ چکے ہیں۔ اب آپ اور آپ کی آڑمیں اپنی سیاسی زندگی کی جنگ لڑنے والے EXPOSE ہو چکے ہیں۔مولانا صا حب نے آج جہاں ایک طرف کشمیر کا اشو ڈسکس ہو رہا تھا اور دنیا کو مسلہ کشمیر کے حوالے سے بریف کیا جا رہا تھا آپ نے وہ کام کیا جو مودی چاہ رہا تھا آپ پچھلی ایک دہائی کشمیر کمیٹی کے چیرمین رہنے اور کشمیر کے نام پر اقتدار میں رہنے کے باوجود آپ نے کشمیر کے مسلے سے توجہ ہٹا کر مودی کے ناپاک عزائم کو تقویت بخشی۔ بھلا آپ ایسا کیوں نہ کرتے جو آپ پاکستان بننے کے ہی مخالف تھے۔آپ کے علم میں ہونا چاہیے تحریک انصاف چاروں صوبوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ باقی جماعتوں کی طرح کسی ایک صوبے کی جماعت نہیں جو دوسرے صوبے کی جماعت کو بلیک میل کر سکے۔ان خاندانوں نے ملک اپنی جاگیر سمجھ کر اس میں میں رشوت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ جو کوئی یہاں سرمایا کاری کرنا چاہتا ہے اس سے بھاری برقم رشوت کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے اور پھر جب اگر کوئی تیار ہو بھی جی رشوت دے کر اس کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اس کو اپنے تیار کردہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو اس سے ماہانہ سالانہ بھتہ وصول کرتا رہتا ہے اول تو کوئی ان کی شرائط پر سرمایا کاری کڑنے کے لئے تیار ہی نئی ہوتا جس کی وجہ سے ملک میں سرمایا کاری نہیں ہوتی اور بے روزگاری بڑھتی ہے،آزادی مارچ کی اہم بات یہ تھی کہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کرکے عقلمندی کامظاہرہ کیا۔مولانا فضل الرحمن جیسے مفادات کی سیاست کرنے والے رہنمائوں نے جمہوریت پر شب خون مارا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے ذاتی مفادات سے نکل کر قومی سا لمیت پر بھی غور فرمائیں۔امید ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ملک میں تمام تر سیاسی بحرانوں کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ ذاتی مفادات کی خاطر جمہوریت مخالف قوتوں کو پروموٹ کیا۔قوم کو مولانا فضل الرحمن کی یوٹرن کی سیاست ابھی بھولی نہیں۔ آج وزیراعظم عمران خان پوری دنیا میں کشمیریوں کا سفیر مانا جاتاہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ انشاء اللہ ان کی قیادت میں ہی کشمیر ی قوم آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں