پاکستان کا نظام تعلیم…..فاطمہ سبیل سدوزئی

ہماری آزادی کو بہتر ہر سال گزر چکے ہیں مگر آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکا کہ ہمارے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے۔ کبھی
ہم پکے مسلمان بننے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی مغربی طرز معاشرت کی نقل کرتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ حال ہمارا صرف
رہنے سہنے کے لیے نہیں بلکہ ہماری تعلیم کا شعبہ وه بھی اس سے بچ نہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام افراد کی ترقی کا
انحصار علم و تعلیم پر ہے۔ اس لیے معاشره اپنے نظام تعلیم کی ترقی کے لئے ہمیشہ مطالعہ و مشاہده بتاتا ہے کہ ماضی میں علم
و فنون کی ترقی کیلئے علماء اور مفکرین نے زبردست محنت اور کوشش کی۔ ان کے پیش نظر ہمیشہ ایک ہی معیار رہا ہے یعنی
اہلیت و قابلیت اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اساتذه اور درسگاہوں کو ایک اہم مقام حاصل تھا اور پوری دنیا ان سے مستفید
ہوتی تھی ۔ اور انہی کی بدولت مختلف شعبوں میں ایجادات تحقیقات اور انکشافات کو دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ
تھی کہ اساتذه غوروفکر میں آزاد تھے درسگاه نصاب سازی میں آزاد تھی ادارے مالی وسائل سے آزاد تھے اور حکومت ان
اداروں میں مداخلت کرنے کے بجائے آسامیاں فراہم کرتی تھی ۔ لیکن آج ہمارے ادارے لکیر کے فقیر ہیں۔ حکومتی نصاب پر
عمل پیرا ہونے کے لئے مجبور ہیں۔ موجوده نظام تعلیم غوروفکر تجربات و مشاہدات کے بجائے طلباء کو رٹنے کا سبق دیتے ہیں۔
تعلیمی ادارے مالی مجبوریوں کے باعث بے بس ہیں۔ ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی طبقاتی تعلیم کا نظام موجود ہے۔ ہمارے نظام
تعلیم میں غیر پیشہ ورانہ افراد کی کثیر تعداد قابض ہو رہی ہے اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ ہماری حکومتوں کی ناقص
کارکردگی تعلیمی پسماندگی کی اصل وجہ ہیں۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق ق پاکستان کی شرح خواندگی انڈونیشیا، ملائیشیا،
بھارت، سری لنکا جیسے ممالک سے بھی کم ہے ۔ہم آزادی سے لے کر آج تک قوم کو صحیح نظام تعلیم میسر نہیں کرسکے۔ ایسا
نظام جس سے ملک ترقی کی راه پر گامزن ہوتا ۔ہمارے ملک کا نظام تعلیم کے مسائل سے دوچار ہے جن کی وجہ سے تعلیم کا
شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان میں چند ایک مسائل ہیں جن میں سیاسی مداخلت اختیارات کی غیرضروری مرکزیت، تعلیمی
پالیسیوں کا عدم استحکام، تعلیمی اداروں میں سہولتوں کا فقدان ان اور تعلیم کی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم شامل ہیں ۔ہمارے ہاں تعلیم
کا بجٹ کم ہے جس کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اس طرح تعلیمی سہولتوں کے فقدان
کی وجہ سے بھی ہم اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔ مجھے ہم تو آج تک یہ طے نہیں کر سکے کہ نصاب کی زبان
اردو ہونی چاہیے یا انگریزی۔ ہمارے ملک کا حال یہ ہے قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہمارے ہاں نظامی انگریزی پسند کیا
جاتا ہے آخر ایسی کونسی احساس کمتری ہے جو ہمیں اپنی قومی زبان سے جدا کر رہی ہے۔ چین نے ترقی کی لیکن اس سے
پہلے انہوں نے اپنے علوم کو ترقی دی اور اس کے لیے چین نے اپنی قومی زبان سے مدد لیں لیکن پاکستان میں ہم نہ نہ نہ
قومی زبان کو ترقی دے سکے اور نہ ہی اس کی اہمیت جان سکے کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک وه
اپنے نظام تعلیم کو ترقی کی راه پر گامزن نہیں کرتے اور یہ ترقی اس وقت کامیاب ہوگی جب استاد اور طالب علم کوئی ایسا
طریقہ ذریعہ تعلیم اپنائیں گے جو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی پیدا کرے لیکن افسوس ہم ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ ایسا
کون سا نظام یا طریقہ ہو۔
کسی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے سے پہلے اس میں یہ خوبی ہونی چاہیے کی اساتذه اور طالبات دونوں اس زبان کو بولتے
،سمجھتے اور لکھ سکتے ہو اس زبان میں ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اس کے ذخیره الفاظ ہونا چاہئے جو استعمال
کریں۔
جہاں تک نجی تعلیمی اداروں کی بات ہے تو ان میں بھی کئی طبقات بنے ہوئے ہیں ۔تعلیم کو ضرورت سے زیاده مہنگا کردیا گیا
ہے ۔ہزاروں روپے فیس ادا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں تعلیم کو ایک منافع بخش تجارت بنا دیا گیا ہے ۔اچھے اور مہنگے
تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع تو مل جاتے ہیں جبکہ چھوٹے اور معمولی سکولوں
میں تعلیم حاصل کرنے والے کہیں پیچھے ره جاتے ہیں۔ تعلیمی نظام میں جب تک یہ طبقات ختم نہیں کر دیے جائیں گے اس وقت
تک اس کا نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔ ہمارے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی خرابی نقل کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ہے ہمارے ہاں
میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحان کس طرح ہوتے ہیں سب کو معلوم ہے اور اس عادت نے نوجوانوں کے عقل کو ماوف اف
کردیا ہے ہے ان کا ذہن بن چکا ہے کہ پورے سال پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں نقل کر کے آسانی سے پاس ہو جائیں گے۔
پاکستان کو بنے ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں ہر سال بعد تعلیمی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن وه سب کاغذوں کی حد تک محدود
رہتی ہیں اکیسویں صدی طاقت اور ذہنیت کی صدی ہوگی۔بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ہمیں سائنس، اخلاقیات
اور نظریات کی طاقت سے واقف ہونا چاہیے۔ تعلیم برائے تشکیل نو ہونی چاہیے۔ ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو آگے آنا چاہیے
اور انہیں معاشرتی مسائل کا حل نکالنا چاہیے ۔۔ہمارے اساتذه آگے بڑھیں اور وه معاشرے کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کریں۔ ہر
طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے تعلیم کے مواقع فراہم ہونے چاہیے تبھی جاکر ہم ترقی کر سکیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں