ہندتہذیب سے ہندوراشٹریہ کا سفر…… فاریہ عتیق

بھارت کے اندر کئی برسوں سے ایک نیا سماجی بدلائو دیکھنے کو مل رہا ہے ، دیش ایک آئینی ریاست سےMajoritariaism اور فاشزم کی طرف گامزن ہے ۔اس طرح کے بدلائو کیلئے ضروری نہیں ہے کہ آئینی ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے یا قومی علامتی نشان ہی بدلے جائیں بلکہ اس بابت ریاست کے کرداروں کی ساخت کو بدل کر پوری سوسائٹی کی سمت کو اپنی منشاء کے مطابق متعین کیا جاتا ہے۔
17نومبر 2019 کو ہندوستان کی عدالت عالیہ نے ایودھیا کہ متنازعہ معاملے کے حوالے سے ایک تاریخ ساز فیصلہ سنایا جس میں واضح کیا گیا کہ بابری مسجد جو 1992 تک وہاں قائم تھی کی جگہ متنازعہ ہے جہاں پر رام مندر ہوتا تھا اور یہ جگہ بھگوان رام کی جنم بھومی ہے ۔ باوجود اس کے کہ گزشتہ دو سو سالوں سے یہ جگہ دونوں عقائد کے ماننے والوں کے مشترکہ استعمال میں تھی ۔1815ء میں پہلی دفعہ ہندو مسلم تنازعہ کھڑا ہوا جسے نواب آف اودھ نے حل کرتے ہوئے مسجد کے بیرونی احاطے میں مورتی رکھنے کی اجازت دی اس جگہ کو سیتا کی رسوئی کے نام سے جانا جاتا تھا۔
1885ء کو زمین کا تنازعہ بھی فیض آباد کے سب جج اور جوڈیشل کمیشن آف اودھ نے یوں حل کر دیا کہ مسجد کی جگہ پر مسلمانوں کا حق ہے جبکہ سیتاکی رسوئی ہندوئوں کو دے دی گئی۔ مسئلہ حل ہوئے کے باوجود دو بارہ 1930 میں ہندوستان کے سیاسی حالات کے پیش نظر مسئلے نے ایک بار پھر سر اٹھایا، اس فرقہ وارانہ معاملے میں تیزی اس وقت آئی جب قیام ہندوستان کے بعد دسمبر 1949ء میں مسجد کے اندر ایک سازش کے تحت رام کی مورتی رکھی گئی، تنازعے کی شدت کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نہرو نے مورتی کو ہٹانے کا حکم دیا مگر مقامی انتظامیہ نے ہندو مسلم فسادات کے پیش نظر مورتی کو ہٹانے سے انکار کر دیا جبکہ اس جگہ کو عام بندے کی رسائی کیلئے بند کر دیا گیا۔
یہ عدالتی فیصلہ اپنی نوعیت میں انتہائی حساسیت لیے ہوئے ہے اور پچھلی کئی دہائیوں سے اس مسئلے نے سیاست اور عقائد کو باہم الجھایا ہوا ہے، اب چونکہ یہ قانونی تنازعہ حل ہو چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس جانبدار فیصلے کے ہندوستانی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ عدالت عالیہ نے مذہبی عقائد کوRule of law پرفوقیت دی، ہندو قوم پرستی کی بابت اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے ہندو توا نے پہلا سنگ میل عبور کر لیا ہے ۔ سیکولر بھارت جس کی جڑیں ہزاروں سالہ تاریخ میں پیوست ہیں ،پر ہندو راشٹریہ کے تصور نے فوقیت حاصل کر لی جو کہ RSS کا دیرینہ خواب ہے ۔ اس کی تکمیل کی پاداش میں دوسرے عقیدوں کے لوگوں کے حقوق کا پامال ہونا یقینی عمل ہے۔
ہندو توا اور ہندو راشٹریہ ایک مصنوعی اور آفاقی نظریہ ہے جو کہ ایک صدی قبل ترتیب دیا گیا، ہندو ریاست کا تصور یورپین قومی ریاست کے تناظر میں ترتیب دیا گیا، جس میںملکی عوام بالخصوص اقلیت کو زبردستی یکساں ثقافتی رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس تحریک کا بانی Vinayak Damodal Savarkal تھا جو ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک کا ایک اہم کردار تھا، اس کا ماننا تھا کہ آزادی کی تحریک اور زیادہ موثر ہو گی اگر ہم ہندو ازم کو قوم پرستی کے طور پر استعمال کریں۔ Savarkal نے اس موضوع پر ایک کتاب 1923ء میں ہندو توا لکھی ، وہ مسلمانوں کی خلاف تحریک سے بہت متاثر تھا جس نے اس کے نظریات کو تقویت بخشی یہ مسلمانوں کے اندر مذہبی قوم پرستی کا جذبہ بھی تھا جس کے اتحاد تلے کھڑے ہو کر ایک ایسے ادارے کو بچانے کیلئے کوشاں تھے جو کہ دنیا کے دوسرے حصے میں موجود تھا ۔ اس کے نزدیک ہندوئوں کے اندر ایسی جامع اور یکجا کرنے والی تحریک موجود نہیں تھی جو ان سب کو متحد کر سکے تا کہ وہ اپنے آپ کو غلامی سے نکال سکیں۔ ہندو توا کے تین بنیادی عناصر کا ہونا ضروری ہے۔(1) ایک ثقافت (سنسکرتی)(2) ایک ذات (جاتی)(3) ایک قوم (راشٹریہ) اور ہندوستان اس نظریئے پرکافی حد تک پورا اترتا تھا۔ اس کے افکار میں جرمن نازی پارٹی کے نعروں کا بہت اثر دکھائی دیتا ہے ۔ مسلمان اور عیسائی ایک جاتی کے نہیں مانے جاتے کیونکہ ان کے عقائد ہندو تہذیب سے مختلف ہیں۔ 1920میں جب ان نظریات نے فروغ پانا شروع کیا تو ان کو محض چند ریاستوں تک ہی پذیرائی حاصل ہو سکی کیونکہ کانگریس متوسط اور اپر کلاس دونوں طبقوں میں مقبولیت رکھتی تھی اور جب پاکستان بنا تو RSS کی یہ دیرینہ خواہش پوری ہو گئی کہ آخر کار ان کی جان ان مسلمانوں سے چھوٹ گئی ہے جو اپنے آپ کو ہندو تہذیب کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان بن جانے کے بعد RSS کی جنونیت میں کیوں کمی نہیں ہوئی ؟کیوں مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا؟ کیوں وہ 12% مسلمان جو ہندوستان چھوڑ کر نہیں گئے اور بھارت کی سنسکرتی کو اپنایا ،وہ کیوں زیر عتاب آئے ؟اس سوال کو جانچنے اور پرکھنے کیلئے RSS کی حتمی منزل کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے ۔ان تمام سوالات کا مختصر اور جامع جواب RSS کے نزدیک آزادی کی اہمیت سے زیادہ طاقت اہم تھی جس کے حصول کیلئے وہ سرگرداں تھے ۔ یورپ میں فاشزم کو دیکھتے ہوئے انہیں بھی ہندو قومیت کو یکجا کرنے کیلئے ایک مقابل دشمن کی ضرورت تھی۔ اس کیلئے مسلمان اور ان کا فاتحانہ تاریخی ورثہ سب سے زیادہ موزوں تھا۔ ویسے ہی جیسے ہٹلر نے اپنی قوم کے اندر یہودیوں کے خلاف نفرت اور خوف کے فروغ کے ذریعے یکجہتی حاصل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا۔
مہاتما گاندھی کا قتل بھی دراصل RSS نے اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے کیا چونکہ وہ مہاتما گاندھی کو مسلمانوں اور ہندوئوں کے مابین مشترکہ اتحاد اور بین المذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی وجہ سمجھتے تھے جو کہ ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھی۔ RSS کی سیاسی تنظیم BJP کا جنم اس دن دوبارہ ہوا جب کانگریس نے 1985ء میں بابری مسجد کے دروازے ہندوئوں کیلئے کھولے ،BJPکے دوبارہ انتخاب اور اقتدار میں آنے کو ہم ہٹلر کی 1933 میں دوبارہ اقتدار میں آمد کے ساتھ تشبیہ دے سکتے ہیں جب ہٹلر نے Systamatically طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہودیوں اور دوسری اقلیتوں کے علاوہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانا بنایا ، مشترکہ دشمن کی سرکوبی کیلئے Concentrated campsکا قیام عمل میں لایا گیا۔
آج تاریخ اس سیاہ ترین دور کو پھر دہرا رہی ہے BJP نے اقتدار سنبھالتے ہی متعدد غیر جمہوری اور غیرآئینی اقدامات کیے، جموں کشمیر کی جداگانہ اور غیر معمولی حیثیت کو ختم کر کے ریاست کی وحدت کو تقسیم کیا گیا۔ 60 لاکھ کی آبادی کو بندوق کی نوک پر اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط کیا گیا 13سے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر پابند سلاسل کیا گیا، ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد کو بطور حربہ استعمال کیا جا رہا ہے ، پوری ریاست اس وقت ایک جیل کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔حامی اور مخالفین سبھی کو قیدوبند میں رکھ کر ہر قسم کے آئینی اور سیاسی حق سے محروم کر دیا گیا ہے ۔
دوسرا اقدام اعلیٰ عدلیہ کو یرغمال بنا کر سیکولر آئین کو پس پشت ڈال کر مذہبی مسئلے کو سیاسی رنگ دے کر اور پھر عدالتی سند جاری کروا کر دیگر عقائد کیلئے ایک پیغام جاری کیا گیا کہ حتمی اور اعلیٰ عقیدہ صرف ہندو توا ہی ہے۔
باوجود اس کے کہ سپریم کورٹ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد کے تالے توڑنا ، بت نصب کرنا اور مسجد کو انہدام کرنا مجرمانہ اقدامات ہیں، عدالت عالیہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ مندر کو توڑ کر مسجد کی تعمیر کی گئی، البتہ جس زمین پر مسجد بنائی گئی وہ ہندوئوں ، بدھوئوں اور جین مت کے ماننے والوں کیلئے یکساں مقدس جگہ ہے۔
آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا (ASI)کی جس رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا وہ ایک متنازعہ رپورٹ ہے۔ ASI نے 1985 ء میں ایودھیا پر جو اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کی اس میں عدالت عالیہ میں موجودہ پیش کردہ رپورٹ اور شواہد کا قطعاً ذکر نہیں تھا ۔جن پلرزکو آج بطور شہادت پیش کیا گیا ASI کی interim رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ ان ریفرنسز کا ذکر پہلی دفعہ RSS کی شائع کردہ رپورٹ میں حوالہ ملتا ہے جو اصل سروے رپورٹ کے پندرہ سال بعد جاری کی گئی، حالانکہ مایہ ناز تاریخ دان اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ایودھیا پر کی گئی تحقیق سائنسی خطوط پر استوار نہیں تھی ۔ اس میں پہلے سے احذ شدہ مفروضات کا ملبہ ہے جبکہ بہت سے ٹھوس شواہد کو نظرانداز کیا گیا ہے جس طرح بڑی تعداد میں جانوروں کی ہڈیوں کا ملنا برتن اور ٹائلز کا برآمد ہونا جیسے شواہد کو رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا چونکہ یہ شواہد مندر کی موجودگی کے بیانیے کے خلاف جاتے تھے۔
BJP کے حالیہ اقدامات سے یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے ہندو توا نظریے کے فروغ اور اس پر عمل درآمد کیلئے کسی بھی آئینی ، سائنسی ثقافتی یا تاریخی مصلحت کو بروئے کار نہیں لائے گی جس کی ایک اور مثال آسام کے اندر Detention camps کا قیام عمل میں لانا ہے۔ ایک حکم نامے کے ذریعے 724 اضلاع میں مجسٹریٹس کو ایسے ہی کیمپ کھولنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جو بظاہر تو ان لوگوں کیلئے ہے جن کو بھارت سرکار غیرقانونی شہری گردانتی ہے، لیکن اس کا استعمال تمام مخالفین کیلئے انتقامی کارروائی کے طور پر ہو رہا ہے۔ ملک میں آئے دن لوگوں کوگائے کا گوشت کھانے اور جے سری رام کا نعرہ نہ لگانے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
مودی سرکار کا ایک متوقع پلان انڈین سٹیزن شپ لا میں ترمیم کرنا بھی ہے ۔ اس کی جگہ آل انڈین نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کو متعارف کروانا ہے جس سے مسلمانوں کی شہریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے اور جاری کرنے کی مہم کا آغاز بھی ہو چکا ہے جس میںتاریخ کی کتابوں سے مسلم حکمرانوں کے باب کو ختم کرنا اور سرکاری طور پر مسلم ناموں سے مشہور جگہوں کے نام کو ہندو ناموں سے تبدیل کرنا شامل ہے ۔
BJP کے ایسے تمام اقدامات ہندو توا کر نظریئے کے فروغ کیلئے سازگار تو ہو سکتے ہیں مگر ہندوستان کے بطور متحدہ ریاست کے قائم رہنے کی قطعی ضمانت نہیں ہیں۔چونکہ ہندوستان محض ہندومت ہی کے ماننے والوں کا دیش نہیں ہے ، یہ مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے ایک Diversed تہذیب ہے۔ اگر آج تاریخ کے تناظر میں ہی غلط فیصلوں کو صحیح کرنے کا عمل جائز ہے تو آریائی لوگ جن کا مذہب ہندو ازم تھا ،خود برصغیر میں دراوڑوں کی تہذیب کو کچلنے کا باعث بنے ہیں۔ بطور فاتح ان کی آمد نے برصغیر کے پرانے باشندوں کی طرز معاشرت کو نیست و نابود کیا ،ان کی عبادت گاہوں کو تباہ کیا ،حتیٰ کہ طاقت کے بل بوتے پر اپنے عقائد کو مسط کیا ۔ ایک دفعہ تاریخ کو مذہبی تناظر میں درست کرنے کا عمل شروع ہو گیا تو پھر ایک بابری مسجد نہیں بلکہ ہزاروں عبادت گاہوں کا تاریخی احیاء شروع ہو جائے گا جس کا انجام نفرت اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیکولرازم اور پلورل ازم ہی ایک ایسا عقیدہ ہے جس نے ہزاروں سالہ تہذیب کو پروان چڑھایا جس میں ہر طرح کے رنگ و نسل کے انسانوں، اس کے کلچر کو دوام بخشا۔ ہندوستان کبھی بھی ہندو راشٹریہ نہیں تھی بلکہ ہزاروں سالوں سے پوری دنیا کے مذاہب اور نسل کے لوگوں کی پسندیدہ منزل رہی ہے ، جس کے رنگ ترنگ میں کئی تہذیبوں نے ایک نئی جہت پیدا کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں