آزادکشمیرزچگی کے دوران ہونے والی اموات میں سرفہرست

مظفرآباد( نیل فیری نیوز)آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے وزیر بہبود آبادی ، ٹیوٹا ، انفارمیشن ٹیکنالوجی،آزاد جموں و کشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریینگ اتھارٹی ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نیکہا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے نوجوان نسل کو ہنر مند بنا کر اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے نوجوان نسل کو ہنر مند بنا کر ان کو ذاتی کاروبار کرنے کے لیے قرضہ جات بھی دیں گے جس سے آزاد خطہ میں بے روز گاری کے خاتمہ میں مدد ملے گی خواتین کو خود انصاری کی طرف لے کر جا رہے ہیںٹکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں کو جدید تقاضوں سے اہم آہنگ کر رہے تا کہ خواتین زیادہ سے زیادہ اس تعلیم کے حصول کے لیے راغب ہوں اور ان میں اس کی اہمیت اور افادیت اجاگر ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ نیل فیری کے چیف ایگزیکٹیو نعیم حیات خان ، چیف ایڈیٹر نثار احمد کیا نی اور کشمیر جرنلسٹس فورم کے سیکرٹری اطلاعات محمد اقبال اعوان سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا ۔ ڈاکٹرمصطفی بشیرعباسی نے کہاکہ خواتین کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے بھرپور محنت کرنا ہو گی حکومت آزاد کشمیر خواتین کے لیے معاشی بہتری کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے بہترین ماحول مہیا کر رہی ہے خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں موجودہ دور میں ٹیکنکل تعلیم ہی روزگار کا واحد موقع پیدا کرتی ہے انہوں نے کہا کہ علاقائی و ملکی معاشی ترقی میں خواتین کا کر دار اہم ہے جب تک کسی معاشرے کی خواتین تعلیم یافتہ ہنر مند نہ ہونگی اس وقت تک معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا جن قوموں نے ترقی کی منازل طے کی ہیں ان کی ترقی میں خواتین کا بھی کردار رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر اپنے خطہ کو ترقی کی راہ پر گازن کر سکتے ہیں ٹیوٹا کو مستحکم بنا رہے ہیں ٹیوٹا خواتین کو آگے لانے میں کام کر رہا ہے معاشرے کی ترقی خواتین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ دفاترکے جملہ مسائل ترجیحی بنیادوںپرحل کئے جائیںگے اورسٹاف کی کمی کوبھی پوراکیاجائے گا گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ سنٹروںسے فارغ التحصیل طالبات کوترجیح بنیادوںپرروزگارکی فراہمی کویقینی بنایاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ٹریننگ سنٹرمیںطالبات کوبہترین سکلزفراہم کی جائیں گی تاکہ اندرون آزادکشمیرروزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹرمیںاوربیرون ملک ہماری خواتین اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پرروزی روٹی کماسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جو مسائل درپیش ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا بے ہنگم پھیلا ئوہے۔ انہوں نے کہا کہ آباد ی پر کنٹرول ہماری قومی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک خاندان چھوٹا نہ ہو۔ وزیر بہبود آبادی نے کہا کہ جب تک آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا ملک میں ترقی و خوشحالی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے بچپن کی شادیاں روکنا وقت کا تقاضہ بھی ہے اور ضرورت بھی۔ وزیربہبود آبادی نے کہا کہ اگر آبادی پر کنٹرول نہ ہوا تو اگلے 30سال میں پاکستان کی آبادی دوگنی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں اور آبادی زیادہ۔ ہم سب کو اس مسئلہ پر سوچنے کی ضرورت ہے ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نے آبادی میں متوازن اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی آبادی میں متوازن اضافہ کریں کیونکہ آبادی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ملک کو معاشی ترقی کے فوائدسے محروم کردے گا، انہوں نے کہا کہ آزادکشمیرزچگی کے دوران ہونے والی اموات میںسرفہرست ہے ۔ ہزاروں خواتین نہ چاہتے ہوئے بھی حمل کے مراحل سے گزرتی ہیں۔ آبادی کا بڑھنا سماجی مسئلہ ہی نہیں معیشت کا بھی مسئلہ ہے۔ ایک ہی وقت میں حکومت لوگوں کی فلاح کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کی آباد ی میں 6گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح دیگر ہمسایہ ملکوں سے زیاد ہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان اداروں کی بحالی پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں اور انکی قیادت میں اداروں میں اصلاحاتی عمل بھی جاری ہے۔ آبادی اور صحت کے شعبوں میں بہتری ترجیح ہے۔ انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔،گزشتہ 30سال میں آبادی میں 2گنا سے زائد اضافہ ہواہے۔ باقی دنیا میں آبادی 60سال میں دوگنا ہوتی ہے۔ بڑھتی آبادی ایک قومی مسئلہ اور قابل تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے ریاست بھر میں ہر سطح پر بھی اقدامات کر رہے ہیں،حکومت بنیادی سطح پر سہولتوں کی فراہمی کیلئے کام کر رہی ہے،آبادی میں اضافے کی وجہ سے صحت و تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ انہوںنے کہاکہ بہت ضروری ہے کہ ہم سب ملکر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں خواتین میں بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اس سے معاشی مشکلات بھی زیادہ ہو تی ہیں۔ ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نے کہا کہ دنیا میں معیشت بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جو اپنی معیشت کو تعلیم کی بنیاد پر استوار کر رہی ہیں۔ بدلتی ہوئی اِس دنیا میں ہر فرد کے لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی میدان میں کام کی خصوصی مہارت حاصل کرے۔خصوصی مہارت کے حامل افراد ہی اب اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں گے۔و وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم دینے والے ادارے ہی کسی فرد کو خصوصی تعلیم مہیا کرسکتے ہیں اور انہیں معاشرے کا کارآمد اور خودمختار فرد بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کا مطلب کسی فرد یا افراد کو کسی خاص کام میں تعلیم کے ذریعے ماہر بناناہے ۔ یہ مہارت زیادہ ترتجارت، کاریگری،تکنیک کار، ماہرِفنیات، انجنیئرنگ،فنِ حساب /اکاوئنٹنگ،نرسنگ،طب، فنِ تعمیر اور قانون میں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1950 میں 80فیصد نوکریاں غیر ہنرمند افراد کے پاس تھیں جبکہ آج کل 85فیصد نوکریاں ہنرمند لوگوں کے پاس ہیں۔اس بہت بڑی تبدیلی کی وجہ سے آج وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور گلوبلائزیشن کا دور ہے اور اس دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں تاکہ ہم دنیا میں کم قیمت کے ساتھ ساتھ معیار ی اشیا کو بھی پوری دنیا میں متعارف کرواسکیں۔مقابلے کے اس دور میں کم قیمت ، اعلی معیار،نئی اشیا کو متعارف کروانے ، معیاری خدمات دینے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ بیسویں صدی تک پیشہ ورانہ تعلیم بہت ہی محدود سمجھی جا تی تھی اور زیادہ تر آٹو موبائل ، ویلڈر اور الیکٹریشن کی تعلیم کو ہی پیشہ ورانہ تعلیم سمجھا جاتا تھامگر ایکسویں صدی کے شروع سے ہی دنیا میں ٹیکنالوجی میں جدت نے نئے شعبوں کو جنم دیاہے جس سے صنعت میں ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔اسی لئے حکومتوں اور غیر سرکاری لوگوں نے ادارے بنانے شروع کئے ہیں ۔زیادہ تر ادارے عوامی فنڈ اور غیر سرکاری اداروں نے بنائے اور اپرنٹس شپ کے زریعے لوگوں کو ہنر مند بنانے کا آغاز کیاگیا۔آج وکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم ایک بہت ہی تبدیل شدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔یہ تعلیم ہمیں پرچون(ریٹیل)،سیاحت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاسمیٹک، روایتی دستکاری اور گھریلو صنعتکاری غرض کہ ہر شعبہ زندگی میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے پسند کا جو بھی ہنر حاصل کرنا چاھتے ہیں وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اِس میں کسی بھی قسم کی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے لوگوں کو ہنرمند بنائیں اور ہمارے لوگ بجائے نوکریوں کو تلاش کرنے کے اپنا کام کرنے کو ترجیح دیں اِس طرح ہم اپنے ملک میں سمال انڈسٹری یا کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دے سکیں گے۔ہم لوگوں کوہنرمند بنا کر ایگریکلچر اور مائنگ جیسے شعبوں میں روزگار مہیا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیںخوشی کی بات ہے کہ آزادکشمیر حکومت نے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے معاشرے کے غریب طبقہ سے بچوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دے کر ان کے لئے نوکریوں کا بھی اہتمام کیا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط سماجی اور اقتصادی معاشرہ قائم کریں تو ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہو گا۔۔ ووکیشنل ایجوکیشن /پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی صورت میں آپ کا وقت، پیسہ اور طاقت بچا سکتی ہے۔۔ پیشہ ورانہ تعلیم کا حامل شخص اپنا کام کر سکتا ہے یا پھر جز وقتی نوکری بھی کر سکتا ہے۔۔ پیشہ ورانہ تعلیم کسی بھی شخص کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہوتی ہے اور۔ پیشہ ورانہ تعلیم میں انسان سیکھنے اور کمانے کا عمل ہمہ وقت جاری رکھ سکتا ہے۔ وزیر حکومت نے کہا لیپہ کرناہ کے مسائل میرے اپنے مسائل ہیں جن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہے ہیں لیپہ کرناہ کو باقی تمام یونین کونسلز سے زیادہ فنڈز دیے ہیں ہمارے کام زمین پر موجود ہیں_ پی ایم سی آی ڈی پی,اے ڈی پی, ایس ڈی پی ,کے تمام منصوبہ جات پہلی بار زمین پر لگے ہیں اس کے علاوہ ریسکیو1122 کو لیپہ میں مکمل فعال کیا ہے اور صحت کی سہولت کے لیے چار FAP بھی دیں ہیں.لیپہ کی جملہ روڈز کو پختہ کر رہے ہیں گرلز ڈگری کالج لیپہ کے لیے بچیوں کی لیے وین گرلز ڈگری کالج لیپہ کے لیے بنکر کی تعمیر اور گرلز ڈگری کالج اور بوائز ڈگری کالج کے لیے پی سی سی روڈ بھی مکمل کی سیلاب متاثرین نوکوٹ کے لیے امدادی چیک اور نالہ صفائی بھی مکمل ہو چکی ہے لنک روڈز پر پی سی سی بھی کروا رہے ہیں ریشیاں تا لیپہ سڑک پختگی پر کام 2021 تک مکمل ہو گا اس سال شدید برف باری میں لیپہ روڈ ماضی کی طرح بند نہیں ہوئی برف باری میں بھی 2 مشینیں کام کر رہی ہے جتنا کام ہمارے دور میں ہوا ماضی کی حکومتوں نے 60 سال میں نہیں کیا مزید بھی کروائیں گے پرائمری سکولوں کے کچھ شلٹر مکمل ہو چکے ہیں مزید 10سکولوں کے شلٹرز کی منظوری ہو چکی ہے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے حوالے سے وزیر حکومت نے کہا کہ اس پر ورک کر رہے ہیں انشااللہ جلد اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے اسکے علاوہ لیپہ میں کمپیوٹر لینڈ ریکارڈ سب ڈویژن برقیات پر بھی ورک جاری ہے سپورٹس سٹیڈیم اور ریشیاں تا موجی روڈ کا کام جاری ہے جلد مکمل کریں گے اطمینان رکھیں لیپہ کی عوام کو کبھی مایوس نہیں کروں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں