ارشاد محمود ، الطاف وانی کی جانب سے سلطان سکندرکے اعزاز میں تقریب

اسلام آباد( رپورٹ: نثار کیانی) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما برزگ سیاستدان سابق سنیٹرسید ظفر علی شاہ نے کہا ہے کہ کشمیر یوں کے جدوجہد کے سامنے بھارت کو جھکنا پڑے گا۔کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور بہت جلد آزادی کی صبح طلوع ہوگی، مسئلہ کشمیر قومی پالیسی کا حصہ ہے ۔ تحریک آزادی کشمیر کیلئے قوم کوذاتی و سیاسی مفادات کے بجائے قومی جذبہ سے متحدہونا ہو گا۔کشمیر کے بارے میں 11 قراردادیں ہیں جبکہ بارہویں قرارداد سلطان سکندر ہیں ۔ ایک صحافی کے لئے یہ بات باعث اعزاز ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے اپنے شعبہ کے لوگ تقاریب کا انعقاد کر کے اسے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ۔کسی صحافی کیلئے اس سے بڑھ کرکوئی اور کامیابی نہیں ہو سکتی جبکہ سیاست اور وکالت کے شعبوں میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی ،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں نوائے وقت کے سابق سینئر سٹاف رپورٹر اور ممتاز صحافی سلطان سکندرکے اعزاز میں پی ٹی آئی آزادکشمیر کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ممتاز کالم نویس ارشاد محمود ، اور حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے سنیئر رہنما الطاف حسین وانی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔ نظامت کے فرائض ارشاد محمود نے انجام دئیے ،

جبکہ تقریب سے وزیر حکومت آزادکشمیر احمد رضا قادری ، ممبر قانون ساز اسمبلی مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما سردار صغیر چغتائی ،کشمیر کونسل ای یو کے چیئر مین علی رضا سید ،سردار صدیق ،،حریت رہنمائوں سید یوسف نسیم ، عبدالحمید لون ،پرویز ایڈووکیٹ ،پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما قائد صحافت افضل بٹ، پی ایف یوجے ( دستور ) کے مرکزی صدر حاجی نواز رضا، اینکر پرسن ،سیدمحمود گردیزی ، سنیئر صحافی محسن رضا ،پی ٹی وی کے صفدر گردیزی ، مرتضی درانی ، سنیئر صحافی ارشد عزیز ،روزنامہ نیل فیری کے چیف ایڈیٹرنعیم حیات ، ایڈیٹرنثار کیانی ، چیف ایڈیٹر کونٹری نیوزسردار حمید خان ،روزنامہ پارلیمنٹ ٹائمز کے چیف ایڈیٹر جاوید چوہدری ، ایڈیٹر روزنامہ کشمیر ٹائمز عابد عباسی ،مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما راجہ لطیف حسرت،جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار احمد یاد ،پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما راجہ منصور، فواد اسلم ،. عنبرین ترک ،سردار مرتضی علی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

تقریب کے میزبان ممتاز کالم نویس ارشاد محمود نے ممتاز صحافی سلطان سکند ر کی اعلی صحافت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سلطان سکندر نے اپنے پورے کیریئر کے دوران دیانتداری اور جرات کے ساتھ شفاف صحافت کے ذریعے قلم کا جہاد کیا بلکہ اپنے قلم کے ذریعے نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کا علم بھی بلند رکھا ان کی صحافتی خدمات آنے والے صحافیوں کے مشعل راہ ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز صحافی سلطان سکندر نے کہا کہ میں آزادکشمیر کے سنیئر سیاستدان سردار خالد ابراہیم خان کی فوتگی کے روز ریٹائرڈ ہوا ،اس کے بعد کشمیر ی صحافیوں کے نمائندہ فورم کشمیر جرنلسٹس فورم نے میرے اعزاز میں پہلی تقریب کا انعقاد کیا پھر حکومت آزادکشمیر نے کشمیر ہائوس میں میری اعزاز میں تقریب رکھی جس کے بعد یہ سلسلہ مظفرآباد سے لیکر میرپور تک چل پڑا ۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر ممتاز کالم نویس ارشاد محمود کا شکریہ ادا کیا اور کہا زندگی موت کی امانت ہے ۔ ارشاد محمود ایک معاملا فہم شخصیت ہیں ان کے درست مشوروں پر عمل کرکے میں کئی حادثات سے بچا ،انہوں نے کہا کہ چرار شریف میں ہم ارشاد محمودکے درست مشورے کی بدولت بال بال بچے ۔سلطان سکندر نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم صحافت کے میدان میں اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور امانت کے جذبہ سے ادا کریں اور اپنے تعمیری رول کو ہرگز فراموش نہ کریں۔ اانہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور آزادکشمیر کی قیادت کے کردار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہائوں کو چھو رہے ہیں ہونا تو یہ چاہیے دونوں قیادتیں ایل او سی کی طرف مارچ کریں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہیں بلکہ اس جانب مارچ کرنے والوں کو بھی روک رہی ہیں ۔

وزیر حکومت آزادکشمیر احمد رضا قادری نے کہا کہ سلطان سکندر وہ خوش نصیب ہیں جنہیں اپنی زندگی میں پذیرائی ملی ۔ علامہ اقبال کا اپنی زندگی میں یوم اقبال بنا تھا ،۔ سلطان سکندر صحافت کے اقبال ہیں جنہیں اپنی زندگی میں اتنی پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کہ کہ سلطان سکندر اپنے دور کی فیس بک ( سوشل میڈیا ) تھے جو اپنے قریبی احباب کو خوشی ،غمی کی اطلاع دیا کرتے تھے ،انہوں نے مزید کہا کہ سلطان سکندر آزادکشمیر کے تمام سیاستدانوں کو بخوبی جانتے ہیں اور پھر ان سے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میرا سلطان سکندر کے ساتھ دیرینہ رشتہ ہے میرے والد محترم مرحوم کے دوست ہونے کی وجہ سے وہ میرے لیے برزگ کی حیثیت رکھتے ہیں ہم نے ایک ساتھ لمبے لمبے سفر کیے بلکہ مجھے اعزاز ہے کہ ہم نے حج کا فریضہ بھی ایک ساتھ ادا کیا ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ پاک ان کا اقبال مزید بلند کرے ۔ ممبر قانو ن ساز اسمبلی آزادکشمیر سردار صغیر چغتائی نے کہا کہ سلطان سکندر نے اپنے قلم کے ذریعے نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کا علم بھی بلند رکھاوہ مجید نظامی کے اصل پیرو کار ہیں جنہوں نے نظریہ پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میری سلطان سکندر سے پہلی ملاقات 90 میں صدر روالپنڈی میں ہوئی میدان سیاست میں ہم ان کی ڈائری سے رہنمائی حاصل کرتے تھے ۔ آزادکشمیر کی بڑی لیڈر شب سے ان کے گہرے مراسم تھے ۔ وہ قلم کے مجاہد ہیں شاندار صحافت پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں

۔پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما قائد صحافت افضل بٹ نے کہا کہ سلطان سکندر نئے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔انہوں نے زندگی میں فقیرانہ طرز انداز اپنایا جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے دلوں میں بستے ہیںیہی وجہ ہے کہ وہ جہاں جہاں جاتے ہیں لوگ ان کی عزت افزائی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سلطان سکندر کو پڑھا اور قریب سے دیکھا ہے میں نے جو محسوس کیا ہے کہ وہ یہ ہے کہ انہوں نے صرف کشمیر کے ساتھ دوستی کی ہے

۔پی ایف یوجے ( دستور ) کے مرکزی صدر حاجی نواز رضا نے کہا کہ سلطان سکندر اور میں زمانہ طالب علمی کے دوست ہیں ۔ ایوب آمریت کے خلاف انہوں نے ینگ سٹوڈنٹس فرنٹ کا قیام رکھا تھا جبکہ بعدا زاں وہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہو ئے ۔ انہوں نے سلطان سکندر کو کشمیر پر ایک اتھارٹی قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کی ریٹارمنٹ کا خلا پورا نہیں ہو سکتا ،۔ انہیں ریٹارمنٹ پر جو پذیرائی ملی ہے شاید ہی کشمیر صحافی کے نصیب میں ہو ۔انہوں نے نظریہ پاکستان پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا

۔حریت رہنما سید یوسف نسیم نے کہا کہ سلطان سکندر پاکستان کے وہ صحافی ہیں جہنوں نے پاکستان کے لئے کشمیر کی اہمیت کو سمجھا ۔کاش یہ اہمیت پاکستان کے سیاستدان بھی سمجھتے ، انہوں نے کہا کہ سلطان سکندر اور ارشاد محمود کو غازی کشمیر کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ دونو ں شخصیت کشمیر کی غازی ہیں دونوں احباب عبدالغنی لون مرحوم کی دعوت پر مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے تھے اور وہ سانحہ چرار شریف کے موقع پر وہ دونوں وہاں موجود تھے ۔اورغازی بن کر واپس آئے ۔ انہوں نے کہا کہ سلطان سکندر نے زندگی میں دولت نہیں نام کمایا ہے شاندار صحافتی خدمات پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں

۔حریت رہنما الطاف حسین وانی نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں نوائے وقت کی پالیسی واضح ہے ۔ کشمیر کے بارے میں اس موقر اخبار نے جو کوریج کی وہ اس کا اپنا کمال ہے ۔انہوں نے کہا کہ سلطان سکندر کشمیر کی سیاست کا جیتا انسائیکوپیڈیا ہیں انہیں اس پر مزید لکھنا چاہیے تاکہ نوجوان اس سے رہنما ئی حاصل کر سکیں ۔

کشمیر کونسل ای یو نے رہنما علی رضاسید نے کہا کہ سلطان سکندر حقائق اور سچ بیان کرنے کی وجہ سے صحافت کے بلند درجے پر ہیں ۔جدوجہد آزادی کشمیر کے بارے میں جس طرح انہوں نے کردار ادا کیا وہ قابل تقلید ہے

۔اینکر پرسن سید محمود گردیزی نے کہا کہ وہ سلطان سکندر کو 1990 سے جانتے ہیں وہ ایک سفید پوش صحافی لیکن بڑے انسان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سلطان سکندر وہ شخصیت ہیں جو کشمیر کے پہاڑوں سے محبت رکھتے ہیں اس محبت کی وجہ سے وہ قریہ قریہ گئے ، انہوں نے کہا کہ صحافی وہ شاہین ہوتا ہے جو انسانیت کے ساتھ ظلم کے خلاف برسرپیکار ہو تا ہے ۔سلطان سکندر کشمیر یوں کے شاہین اورہیرو ہیں انہوں نے اس امید کا اظہار کہا کہ سلطان سکندر اپنے کردار میں تسلسل برقرار رکھیں گے ۔حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا کہ سلطان سکندر کو کشمیر کاز کیلئے خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مرتضی درانی نے کہا کہ سلطان سکندر کی شخصیت اپنی ذات میں ایک سمندر ہے ،۔

راجہ منصور نے کہا کہ نوجوان صحافیوں کو ان کے تجربات سے ضرور سیکھینا چاہیے ۔ سنیئر صحافی محسن رضا نے اکہ کہ سلطان سکندر میرے استاد ہیں ، انہوں نے کشمیر پر ہمیشہ میرٹ کے مطابق لکھا ۔ ریٹایرمنٹ پر انہیں سرکاری ملازمت کی بھی آفر ہوئیں لیکن میں نے انہیں مشور ہ دیا کہ آپ کا مقام سرکاری عہدوں سے بلند ہے ۔
مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما راجہ لطیف حسرت نیا کہ کہا مجاہد اول نے اپنی زندگی میں سلطان سکندر کو سلطان صحافت کا خطاب دیا تھا
۔پر ویز ایڈووکیٹ، ابرار احمد یاد نے کہا کہ سلطان سکندر ایک وضع دار شخصیت کے مالک ہیں جن کی تحریروں میں بے باکی ملتی ہے ۔
نعیم حیات،نثار کیانی ، سردار حمید، جاوید چوہدری عابد عباسی نے سلطان سکندر کوصحافت بالخصوص کشمیر بیٹ میں ایک انجمن کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے تجربات سے ضرور سیکھیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں