چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی

چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً 3000 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوچکی ہےحکام کی جانب سے چینی نئے سال کی قومی تعطیلات میں تین روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے جبکہ چین میں بہت سے شہروں میں سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔حکام کے مطابق کورونا وائرس اپنی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اپنی افزائش کے دوران پھیل رہا ہے اور اس وجہ سے اسے روکنا مشکل ہو رہا ہے
کورونا وائرس: پاکستانی اور انڈین طلبا مشکلات کا شکار
کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
وزیر صحت ما زیاؤئی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وائرس کے پھیلاؤ کی صلاحیت بظاہر طاقتور ہے۔
وزیر صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ بہت اہم مرحلہ ہے۔حکام نے اعلان کیا کہ اتوار سے ملک میں جنگلی جانوروں کی فروخت بند ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلا ہے تاہم ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق انسانوں میں افزائش کا دورانیہ ایک سے 14 دنوں کے درمیان ہے جس میں کسی شخص کو علامات ظاہر ہوئے بغیر بھی بیماری ہوسکتی ہے۔
علامات کے بغیر کسی متاثرہ شخص کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کوئی مرض لاحق ہے لیکن وہ اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔چین میں کُل تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 2744 ہے جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق 300 سے زائد افراد تشویشناک حد تک بیمار ہیں۔دیگر ممالک میں 41 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں تھائی لینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا شامل ہیں لیکن اب تک چین سے باہر کوئی اموات نہیں ہوئی ہیں۔کورونا وائرس سے سانس کا شدید انفیکشن ہوجاتا ہے اور اس کے لیے کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔زیادہ تر اموات ان عمر رسیدہ افراد کی ہوئی ہیں جنھیں پہلے سے سانس کے امراض لاحق تھے
یہ اس وائرس کے بارے میں ہماری سمجھ میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چین کو اسے روکنے کے لیے کس حد تک جانا ہوگا۔
اس سے قبل چین میں وائرس کی وبا مثلا ایبولا اور سارس تبھی متعدی امراض بنے جب ان کی علامات ظاہر ہوئیں۔
اس قسم کی وباؤں کو پھر کنٹرول کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
اس میں لوگوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور انھیں دیگر افراد سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ اور جو بھی ان سے رابطہ کرتا ہے پھر اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔
فلو وائرس کی وہ قسم ہے جس میں آپ کو یہ پتہ چلنے سے بھی پہلے یہ پھیل جاتا ہے کہ آپ خود بھی بیمار ہیں۔
نامہ نگار کہتے ہیں کہ ابھی ہم اس مرحلے میں نہیں ہیں کہ ہم کہیں کہ یہ وبا سوائن فلو کی طرح پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے۔لیکن علامات کے بغیر پھیلنے والے اس وائرس کو روکنا چینی حکام کے لیے ایک مزید مشکل کام ہو رہا ہے۔
اب بھی بہت اہم سوالات موجود ہیں۔
لوگوں میں اس وائرس کے نمو پانے کے دوران متاثرین کس حد تک اس کا پھیلاؤ کر سکتے ہیں۔ اور کیا چین سے باہر موجود کوئی بھی شخص جس میں خود ابھی اس مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں دوسرے ملکوں میں پھیلا سکتا ہے۔
اور یہ بھی کہ چین کے قومی ہیلتھ کمیشن نے کیوں کہا ہے کہ اس وائرس کی منتقلی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔چین میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر
ادھر برطانیہ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ چین اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول نہیں کر سکے گا۔
چین میں وائرس سے متاثرہ بہت سے شہروں میں سفری پابندیاں عائد ہیں جبکہ اتوار سے نجی گاڑیوں کو بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبائی کے مرکزی اضلاع میں نقل و حرکت نہیں کرنے دی جائے گی کیونکہ یہی علاقہ اس وائرس کا مرکز ہے۔
چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اور ہسپتال صرف سات دن کی قلیل مدت میں تعمیر کیا جائے گا تاکہ وائرس سے متاثرہ 1300 نئے افراد کا وہاں علاج کیا جا سکے۔ وبا کے ختم ہونے کے بعد اس ہسپتال کو بند کر دیا جائے گا۔

کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے نمٹنے کے لیے تعمیر کیا جانے یہ دوسرا ہسپتال ہو گا۔ اس سے پہلے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بنایا جا چکا ہے۔

فوج کی خصوصی طبی ٹیمیں صوبے ہوبائی میں پہنچ گئی ہیں۔ ووہان ہوبائی کا دارالحکومت ہے۔

فوج کی خصوصی طبی ٹیمیں صوبے ہوبائی میں پہنچ گئی ہیں
یہ وائرس گذشتہ برس دسمبر میں نمودار ہوا تھا اور اس کے باعث چین میں نئے سال کی آمد کے موقع پر ہونے والی بہت سی تقاریب اور عوامی اجتماعات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے بہت سے شہروں میں ٹرین سروس معطل ہے اور چین کے دوسرے صوبوں میں سفر کرنے والے افراد کے جسموں کے درجہ حرارت کو باقاعدگی سے چیک کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی شخص میں وائرس کی موجودگی کا بروقت پتا لگایا جا سکے۔

ہانگ کانگ میں بھی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا ہے اور سکولوں کی تعطیلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

بہت سے دیگر ممالک میں بھی کورونا وائرس کے چند کیسز سامنے آئے ہیں اور متاثرہ مریضوں کو علیحدہ وارڈز میں عام مریضوں سے الگ رکھا گیا ہے۔

ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر ووہان کے رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہر سے نہ نکلیں۔ اسی دوران مقامی افراد کی جانب سے غذائی قلت کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

کورونا وائرس کیا ہے؟
کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔
نئے وائرس کا مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام ہو سکتا ہے۔
سنہ 2003 میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا سے نظام تنفس شدید متاثر ہوا۔

یہ نیا وائرس بھی سانس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔

اس وائرس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر ایک ہفتے کے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونا پڑتا ہے۔

اس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے۔

ابتدائی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین میں سے صرف ایک چوتھائی ایسے تھے جو شدید متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں خصوصی طور پر تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسے تھے جو بوڑھے مریض تھے جو پہلے سے کسی دوسری بیماری کا شکار تھے۔

چینی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس مچھلی منڈی میں ہونی والی سمندری جانداروں کی غیرقانونی خرید و فروخت کے دوران انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔

احتیاطی تدابیر
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ پبلک ہیلتھ کے صدر گیبرئیل لیونگ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔

اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں اور اپنے ناک یا چہرے کو مت رگڑیں
احتیاط کریں اور باہر جاتے ہوئے ماسک پہن کر رکھیں
پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں
اگر آپ نے چین کے شہر ووہان کا سفر کیا ہے تو اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں
اپنے ڈاکٹر سے ہرگز یہ بات مت چھپائیں کہ آپ نے ووہان کا سفر کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں