کشمیری عوام کی آواز کو دبانا اتنا آسان کیوں ہے؟ زائرہ وسیم

سرینگر(کے ایم ایس)مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی بالی وڈ کی سابق اداکارہ زائرہ وسیم نے مقبوضہ علاقے میں مسلسل انٹرنیٹ کی معطلی اور دیگر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انسٹا گرام پر ایک پوسٹ میں کہاہے کہ ہمیں ایسی دنیا میں رہنے کی کیا ضرورت ہے، جہاں ہماری زندگیوں اور خواہشوں پر قبضہ کیا جاتا ہے اور حکمران اپنی مرضی سے ہم پر حکومت کر تے ہیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق زائرہ نے انسٹا گرام پر کشمیری عوام کی حالت زار اور ان کے اظہار رائے پر عائد پابندیوں پر تشویش ظاہر کی
۔زائرہ نے کشمیر کی زمینی صورتحال کے بارے میں کئی سوال اٹھائے اور ان کا جواب طلب کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں ایسی دنیا میں رہنے کی کیا ضرورت ہے، جہاں ہماری زندگیوں اور خواہشوں پر قبضہ کیا جاتا ہے اور حکمران اپنی مرضی سے ہم پر حکومت کر تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری آواز کو خاموش کرنا اور اظہار رائے کو کم کرنا اتنا آسان کیوں ہے؟انہوںنے کہاکہ کشمیریوںکو اظہار رائے کی آزادی کی اجازت کیوں نہیں ہے، اختلاف رائے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کشمیریوںکئے خیالات کی ہر وقت مذمت کی جاتی ہے۔کیا اتنی شدت سے ہماری آواز کو روکنا آسان ہو گیا ہے؟انہوں نے کہا کہ کشمکش اور دنیا کو اپنے وجود کی یاد دلائے بغیر وہ سادہ زندگی کیوں نہیں گزار سکتے؟کشمیری اداکارہ نے کہا کہ آخر کیوں کشمیری عوام کی زندگیوں پر بحران، پابندیوں اور پریشانی کا سخت تجربہ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے دل و دماغ سے معمول اور ہم آہنگی کی شناخت ختم ہو رہی ہے؟ گزشتہ سال5 اگست کوجموں و کشمیر کے خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیر میں انٹرنیٹ مسلسل معطل ہے ۔ گذشتہ برس جون میں زائرہ نے فلم انڈسٹری چھوڑنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے سب کو چونکا دیا تھا کیونکہ وہ بالی وڈ میں کام سے خوش نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے مذہب سے دور ہوتی جاری ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں