5فروری کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں،اس دن کوسازش اورمنصوبہ بندی کے تحت مناناشروع کیاگیا،ٹھیکیدارندیم حسین

چک سواری(اپنے نمائندے سے) معروف سیاسی وسماجی راہ نماٹھیکیدارندیم حسین نے کہاہے کہ 5فروری یوم یکجہتی کشمیرپاکستانی اورکشمیری عوام کوبے وقوف بنانے کاایک بہانہ ہے۔اس دن کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں بلکہ پاکستانی حکمرانوں نے مسئلہ کشمیرکے حوالہ سے اپنی معذرت خواہانہ پالیسی کوچھپانے کے لیے 1990ء میں اس دن کوسرکاری سطح پرمناناشروع کیا۔اگرپاکستانی حکمران اورعوام کشمیریوں سے مخلص ہیں تو13اگست یا11فروری کوکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کریں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے آزادپریس کلب چک سواری کے صحافیوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ٹھیکیدارندیم حسین نے کہاکہ 1973ء میں بھارتی مقبوضہ کشمیریوں کاایک وفدوزیراعظم پاکستان (وقت) ذوالفقارعلی بھٹوسے ملااورمسئلہ کشمیرکے حوالہ سے ٹھوس اقدامات کامطالبہ کیاجس کے جواب میں ذوالفقارعلی بھٹونے کہاکہ شملہ معاہدہ کے بعدہم کشمیریوں کی کوئی مددنہیں کرسکتے،آپ کوبھارت سے جوملتا ہے لے لیں۔وفدنے واپس جاکربھارتی وزیراعظم (وقت) اندراگاندھی سے معاہدہ کیاجس کے بعدپاکستانی حکمرانوں نے عوامی غیض وغضب اورکشمیریوں کے ردعمل سے بچنے کے لیے5فروری کوکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کاڈھونگ رچایا۔بعدازاں کشمیریوں کی آزادی کی مسلح جدوجہد اور شہیدکشمیرمحمدمقبول بٹ شہیدکی شہادت کے بعدتحریک میں شدت آنے سے 11فروری کی افادیت کوکم کرنے کے لیے پاکستانی حکمرانوں نے1990ء میں اس دن کومناناشروع کیاجس کی کوئی تاریخی حیثیت اورپس منظرنہیں۔ٹھیکیدارندیم حسین نے پاکستانی اورکشمیری عوام کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ اگروہ مظلوم ومجبورکشمیریوں سے مخلص ہیں تو13اگست یا11فروری کویکجہتی کی تقاریب منعقدکریں اوریکجہتی کااظہارکریں جنہیں کشمیری تاریخ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں