ماں کامقام …… ثناء آغاخان

ماں کاکوئی متبادل نہیں ،جس کسی نے ماں کامقام سمجھ لیا اورانتھک خدمت سے ماں کوراضی کرلیا اس نے جنت اپنے نام کرلی ۔دنیا کی ہرماں اپنے بچوں کیلئے ایک شجرسایہ دار کی مانند ہوتی ہے۔ماں کی آغوش بچوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے ،ماں کی محبت سودوزیاں سے بے نیاز ہے،زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ماں کاروپ دیکھ کریوںلگتا ہے جس طرح کسی مسافر کو اچانک تپتے صحرا میں چھائوں میسر آجائے ۔یہ ایک افسانوی بات نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے کہ ماں کا دل ا پنے بچوں کیلئے اتنا نرم ہوتا ہے کہ اگر کوئی لمحہ ایسا آئے جس میں ان کی ذات حائل ہو رہی ہو تو وہ اپنی ذات تک کو ا پنے بچوں پر وار دیتی ہے۔انسان عمر میں جتنا بھی بڑاہوجائے وہ اپنی ماں کی نظروں میں کسی معصوم بچے کی مانند رہتا ہے،ما ہے وہ بڑھاپے کی دہلیز پر کیوں نہ پہنچ جا ئے۔ماں کی محبت کی اور اس کی پرورش کی کوئی قیمت نہیں چکاسکتا۔ ماں کے اندر ممتا کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا بچہ نظر سے دور ہوجائے تو ماں تڑپ اٹھتی ہے، ہرماں کی دعائوں اوروفائوں کامحوراس کے بچے ہوتے ہیں ۔ بچوںمیں سے کوئی ایک بھی بھوکا ہوتو ماں بے قرار ہو جاتی ہے۔ اور اگربچے سیراورسیراب ہوجائیں تو ماں کواپنی بھوک پیاس بھول جاتی ہے۔یہ ماں ہی ہے جس کو اپنے بچوں کی پرورش کے دوران بڑے سے بڑادکھ سہناآتا ہے ۔جب دو عورتوں کا ایک بچے پر تنازعہ ہوا وہ دونوں اس کی ماں ہونے کی دعویدار تھیں اور جب سرکاری عدالت اس تنازعہ کا کوئی حل تلاش نہ کرسکی تو ایک بار پھر دروازہ عدل علی علیہ السلام کی طرف رجوع کیاگیا اور انصاف کی ایسی شاندار مثال حاصل کی کہ آج بھی دنیا رشک کرتی ہے۔جب دونوں عورتوں نے ایک بچے کی ماں ہونے کا دعویٰ کیا تو اس بات پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر د یں ایک ایک حصہ دونوں کو دے دیا جائے۔ اس پرحقیقی ماں کی ممتا تڑپ اٹھی اور کہا مجھے نہیں چاہیے یہ پھول دوسری عورت کو دے دیں ،میں اپنے دعویٰ سے دستبردارہوتی ہوں۔ اس پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ بچہ اسی عورت کا ہے جو بچے کے ٹکڑے نہیں چاہتی، یہی اس کی حقیقی ماں ہے۔
ماں کی عفت ،رفعت اور عظمت پر کچھ لکھنا ہرگزآسان نہیں کیونکہ یہ موضوع اپنے اندربہت وسعت رکھتا ہے۔ ماں شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دنیا کا وہ میٹھاجذبہ ہے جس کو محسوس کرنے سے محبت،حفاظت ، تازگی،پاکیزگی ،پیار ، سکون اوراطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ہرماں اپنے بچوں کیلئے تازہ ہواکاجھونکا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرسایہ دار کی طرح سائبان بن کر بچوں کو سکون کا احساس دلاتا ہے۔ اس کی گرم آغوش سردی میں حفاظت کاکام کرتی ہے۔ خود بیشک کانٹوں پر چلتی رہے مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اوردنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اْس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں اورچاہتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت بچوںپر نچھاور کرتی چلی جاتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے۔ ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پْرویا جا سکتا۔خلوص و ایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو ممتاز اور مقدس قرار دیا ہے۔ ماں ایک دْعا اوراس کالمس ایک دوا ہے جو ہر وقت ربّ رحیم کے آگے اپنا دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر اْن کی حفاظت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے بینظیرہونے کی پہچان اس طرح کرائی کہ اس عظیم ہستی کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ اب جس کا جی چاہے اس کی خدمت کرکے وہ جنت کو حاصل کر سکتا ہے۔ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کوئی غرض اورہوس شامل نہیں ہوتی۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جودنیا میں سب سے زیادہ پْر خلوص ہے اْس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اْس کے بچے ہوتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اْس کی دعائیں اوروفائیں کسی سائے کی طرح آپ کے ساتھ ساتھ چلتی اور مختلف بلائوں سے آپ کی حفاظت کرتی ہیں اور اْس کی د عاوں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے ، وہ بے قرار ہوتو عرش تک ہل جاتاہے۔گلاب جیسی خوشبو،چود ہویں کے چاند جیسی چاندنی ، فرشتوں جیسی معصومیت ، سچائی کا پیکر لا زوال ، محبت ، شفقت ، تڑپ ، ایثار و قربانی جب یہ تمام الفاظ یکجا ہو جائیں تو ماں کاتصورابھرتا ہے ،دنیاوی رشتوں میںماں سے زیادہ کوئی مقدم نہیں۔دنیا میں ماں کا کوئی نعم البدل نہیں، ماں وہ ہستی ہے جو ا پنے ہرایک بچے سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتی ہے اور ماں کے بغیر کسی بھی انسان کی زندگی کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے سروں سے ان کی ماؤں کی ممتا کا سایہ اٹھ چکا ہو وہ ساری زندگی اپنی ماں کو یاد کر کے سرد آہیں بھرتے رہتے ہیں ۔ ماں ا پنے بچوںسے اس قدرٹوٹ کرمحبت کرتی ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین اور مقصدحیات اپنے بچوں کی پرورش ،ان کامستقبل روشن کرنے اور انہیں دنیا جہان کی خوشیاں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ماں کے دل سے جو دعا نکلے وہ براہ راست عرش تک رسائی رکھتی ہے اور اس دعا کو اللہ رب العزت بھی رد نہیں کرتا۔
ماں کی گود ایک ایسا ٹھکانہ اورآشیانہ ہے جہاں ہر طرح کی مایوسیوں،محرومیوں اور مصیبتوں کی دوابلکہ شفاء موجود ہے۔ بعض لوگ اپنی اس جنت کو پہچان نہیں پاتے اور سرابوں کے سفر میں نکل پڑتے ہیں۔لیکن ایک دن یقین مانیں، ایک نہ ایک دن ان کو اپنی اس غلطی کا احساس ضرور ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ اس وقت تک چڑیاں کھیت چگ گئیں ہوتی ہیں۔ماں اسلامی معاشرے میں اس ہستی کو کہتے ہیں جس کو سال میں ایک بار نہیں بلکہ پل پل یاداوراس کاخیال رکھا جاتا ہے۔کائنات میں کوئی نہیں جو ماں جیسی محبت کر سکتا ہو۔ ا سلئے تو اللہ رب العزت کائنات کی سب سے عظیم محبت یعنی ماں کی محبت سے اپنی محبت کو منسوب کیا۔ بیشک قادروکارسازاورشفیق ومہربان اللہ تعالیٰ اپنے بند وں کو ستر مائوں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ اللہ کاواسطہ ! اپنی مائوں اورزندگی میںجنت کی چھائوں کی قدر کریں ،ان سے محبت کریں کیونکہ ماں کی پریشانی دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے صفا ومروہ کو حج کااہم رکن بنا دیا تھا۔
لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس اک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی

اپنا تبصرہ بھیجیں