آہ۔۔۔۔۔والدماجدصوفی محمدمسکین صاحب مرحوم (حیات و خدمات)

آہ۔۔۔۔۔والدماجدصوفی محمدمسکین صاحب مرحوم
تحریر: مولاناعبدالشکورنقشبندی
عام فہم زبان،درازقد،مضبوط جسم،کشادہ پیشانی،سفیدرنگت،خوب صورت نقش ونگار،سُرمیلی آنکھیں،نرم وملائم ہاتھ،ہمیشہ ہنستامسکراتاچہرہ ان تمام صفات کواگرمجسم شکل دی جائے تو”والدماجدصوفی محمدمسکین صاحب مرحوم“کاوجودتیارہوتاہے۔
آپ چک سواری میرپورآزادکشمیرکے علاقے موہری پنیام میں حاجی فتح محمدکے گھرمیں پیداہوئے۔دیہاتی ماحول میں پرورش پائی۔ابتدائی تعلیم وتربیت والدہ ماجدہ کے زیراثرہوئی۔قریبی مسجدمیں قرآن مجیداوربنیادی دینی تعلیم مولوی میاں محمدتاج آف سماہنی اورمولوی میاں محمداخون انصاری موہری پنیام والوں سے حاصل کی اورآپ ہی نے والدماجدمرحوم کواپناقائم مقام بناکرمصلے امامت حوالے کیا۔
مڈل سکول لدڑسے سکول کی تعلیم کاآغازکیااورآٹھ سال تک مختلف اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعدجماعت نہم،دہم کاامتحان گورنمنٹ کرن سنگھ کالج میرپورسے پاس کیا۔
جاتلاں کے مقامی سکول سے تدریس کاآغازکیا۔دس ماہ تک یہاں ملازمت کرنے کے بعدکچھ عرصے تک پلاک سکول میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔آپ فرمایاکرتے تھے کہ میاں محمدسلطان عالم دُلڑوالوں کاداخلہ میرے ذریعے ہواتھا۔
1947ء میں قیام پاکستان کے موقع پرجب کشمیرکی آزادی کامرحلہ آیاتوآپ نے ڈاکٹرعبدالخالق بھٹی مرحوم کے ہمراہ ڈسپنسرکورس کیااورکچھ عرصہ کے بعداس کام کوچھوڑدیا۔اس کے بعدآپ نے ملتان کے علاقے مظفرآبادمیں کپڑے بُننے کے کارخانے میں نوکری اختیارکرلی اوریہاں آپ نے اپنے خاندان کے بہت سارے افرادکوہمراہ لے جاکرنوکری دلوائی اوریہاں فیکٹری کی مسجدمیں بلامعاوضہ امامت فرمایاکرتے تھے۔فیکٹری کی نوکری کے عرصہ کے دوران آپ بیمارہوگئے اورآپ پرجذب کی کیفیت غالب آگئی اوراکثرآپ خاموش رہتے۔اسی دوران آپ کاپیرطریقت رہبرشریعت شیخ التفسیرحضرت مولاناعبداللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلق قائم ہواجوبیعت پرمنتج ہوا۔
انہی ایام میں پہلی زوجہ محترمہ وفات پاگئی اورآپ واپس اپنے آبائی علاقے موہری پنیام تشریف لے آئے اوراکثراوقات خاموش رہتے۔گھریلوکام کاج کے علاوہ کھیتی باڑی کاکام کرتے۔اسی دوران آپ کی چچازادبہن سے آپ کارشتہ ازدواج قائم ہوا۔پھرحضرت بہلوی کے مشورے سے02فروری1957ء کوصوفی محمدمسکین جنرل سٹورکے نام سے چک سواری بازارمیں تجارت کاآغازکیا۔ابتداء میں سامان میرپورسے لیتے،بعدازاں لاہورسے سامان لاناشروع کیا۔اللہ تعالیٰ نے تجارت میں اتنی برکت عطافرمائی کہ آپ نے داداجان حاجی فتح محمدکودوحج اوردادی صاحبہ کوایک حج کروایا۔نئے مکان کی تعمیر،گھریلواخراجات،تمام اولادکوتعلیم دلوانے سمیت ان کی شادیوں کے انتظامات کیے۔
ملک اوربیرونِ ملک سے کثیرتعدادمیں ڈاک آپ کی معرفت سے آپ کی دوکان پرآتی۔آپ تمام ڈاک،منی آرڈرکی رقوم متعلقہ افرادتک پہنچاتے اورجوافرادخودخط نہیں پڑھ سکتے تھے اُن کوخط پڑھ کرسناتے،خطوط کاجواب لکھ کرحوالہ ڈاک کرتے،اسی دوران بیمارافرادکوٹیکے لگانے سمیت مختلف امراض کی ادویات بھی بازارسے لاکردیتے۔
موہری پنیام کی مسجدمیں کئی سالوں تک بلامعاوضہ امامت اورقرآن مجیدکی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔1967ء میں منگلاڈیم کی تعمیرکے موقع پرموہری پنیام کاعلاقہ زیرآب آنے کے بعدنئی آبادی کلیال میں آکرپختہ مکان تعمیرکروایااورنئی آبادی کلیال کی مسجدکی تعمیرسے قبل گھرمیں نمازوں کی امامت کاسلسلہ شروع فرمایا۔بعدازاں مسجدسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی تعمیرکے لیے گاؤں کے دیگرافرادسے مل کرکوششیں کیں۔مسجدکی تعمیرکے بعدسے لے کر1990ء تک کئی سالوں تک بلامعاوضہ امامت اورقرآن مجیدکی تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔
اپنے پیرومرشدحضرت بہلوی کی تلقین کے مطابق آپ روزانہ پونے دولاکھ نفی اثبات(کلمہ شریف) کاذکراوربارہ ہزارمرتبہ درودشریف کاوردفرماتے اورسالکین کے ہمراہ ہفتہ وارمحفل ذکرومراقبہ کامسجدودوکان میں اہتمام فرماتے۔حضرت بہلوی کی صحبت کایہ فیضان تھاکہ آپ کشف کی نعمت سے مالامال تھے اورحضرت سے آپ کاوالہانہ محبانہ تعلق تھا۔مرشدبہلوی فرمایاکرتے تھے:”محمدمسکین!کمال یہ نہیں کہ مریدشیخ پرعاشق ہوجائے،کمال یہ ہے کہ شیخ مریدپرعاشق ہوجائے اورجب چاہوبلاجھجھک بلاتکلف میرے پاس آجایاکرو۔“حضرت بہلوی کے بے شمارخطوط آپ کے نام آئے جن میں تصوف کے حوالہ سے قیمتی ہدایات ہوتیں۔
حضرت بہلوی نے آپ کومخلوق خداکی نفع رسانی کے لیے دم وتعویذات کی اجازت مرحمت فرمائی۔آپ نے اپنے شیخ کے حکم پرعوام علاقہ کاتادم آخریں بے لوث روحانی علاج فرماتے رہے اوراس معاملے میں آپ بلالالچ وطمع ہروقت عوام علاقہ کی خدمت کے لیے دستیاب رہتے۔ملک اوربیرون ممالک کے لاکھوں لوگ اس حوالے سے آپ سے فیض یاب ہوئے۔
حضرت بہلوی کی وفات کے بعدان کے صاحبزادے پیرطریقت حضرت مولاناعبدالحیی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کاتعلق قائم فرمایاجوکئی بارآپ کی دعوت پرچک سواری تشریف لائے۔ان کی وفات کے بعدحضرت پیرفضل الرحمن نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے اورسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے مطابق سلوک کی منازل طے کیں اور05-05-1991کوحضرت نے آپ کوخلافت عطافرمائی۔
ان شخصیات کے علاوہ علاقہ چک سواری وگردونواح کے تمام اولیائے کرام سے آپ کامحبت کاتعلق تھااوران کے ہاں آمدورفت رہتی اوران کی صحبت سے مستفیدہوتے۔اس کے علاوہ دوکان کاسامان لانے کے لیے جب بھی آپ کالاہورجاناہوتاتوہمیشہ حضرت امام الاولیاء علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں حاضرہوکرایصال ثواب فرمایاکرتے تھے۔
آپ کے پورے دن کی ترتیب یوں ہواکرتی تھی:نمازِ تہجد،امامت نمازِ فجر،بچوں کوقرآن پڑھانا،نوافل اشراق،ناشتہ،ایک گھنٹہ آرام،دوکان،امامت نمازِ ظہر،کھانا،کبھی کبھارآرام،دوکان،امامت نمازِ عصر،دوکان،امامت نمازِ مغرب،نوافل اوابین،ذکرومراقبہ،کھانا،امامت نمازِ عشاء،ذکرودرودشریف،آرام۔1992ء کومولاناعبدالغفورنقشبندی کی برطانیہ آمدکے بعدسے دوکان مکمل طورپران کے حوالے کردی۔اس کے بعدگاہے بگاہے دوکان پرتشریف لے جایاکرتے تھے۔1992ء ہی کوآپ نے والدہ ماجدہ کے ہمراہ فریضہ حج ادافرمایااور1998ء کوعمرہ کی سعادت حاصل کی جب کہ2017ء کودوبارہ برادرکبیرکے ہمراہ فریضہ حج ادافرمایا۔دوکان داری ترک کرنے کے بعدآپ زیادہ تروقت طب وحکمت کی کتب کامطالعہ فرمایاکرتے تھے۔کچھ ہی عرصے بعدآپ نے موذی امراض کے علاج کے لیے دیسی ادویات بنانے کاسلسلہ شروع فرمایا اوراللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ کے ہاتھ کی بنی ہوئی ادویات سے اکثرمریض شفایاب ہوجاتے۔آپ انتہائی کم قیمت پرادویات فروخت کرتے اورغرباء ومستحقین سے وہ بھی نہ لیتے اورہمیشہ ہرسوروپے پردس روپے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیاکرتے تھے۔
2001ء کوآپ نے اپنی آبائی زمین پراپنی گرہ سے اورچندقریبی دوست واحباب کے تعاون سے جامعہ محمدیہ اسلامیہ کی تعمیرکاآغازفرمایا۔2002ء میں تعلیمی سلسلہ کاآغازہوا۔اب آپ مستقل طورپراس ادارے میں رہائش پذیرہوگئے۔مدرسہ کی مکمل نگرانی،اہتمام وانتظام کاخیال رکھتے۔اس ادارے سے بے شماربچوں اوربچیوں نے حفظ،ناظرہ قرآن مجید،بنیادی دینی تعلیم سمیت مڈل اورمیٹرک تک سکول کی تعلیم کے زیورسے آراستہ ہوئے۔آپ طلبہ کونمازفجراورنمازظہرکے لیے خودبیدارفرماتے۔طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت کامعاملہ فرماتے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کوخودپنسل تراش کرکے دیتے۔ان کادل بہلانے کے لیے روزانہ حال احوال پوچھتے،حوصلہ دیتے،ٹافیاں اوردیگرکھانے کی چیزیں دیتے،چھوٹے بچوں کوگھرسے ملنے والی رقم کامکمل ریکارڈاپنے پاس رکھتے اورنمازعصرکے بعددس یابیس روپے دیتے،رجسٹرکے اندراُن کااندراج کرتے،فلاں بچے کی اتنی رقم اداہوگئی ہے اتنی بقایاہے۔ادارہ کے نقشہ سے لے کرتعمیرکے مکمل ہونے تک تمام کام اپنی نگرانی میں کروایا۔اس دوران آپ مخلوق خداکاروحانی وجسمانی علاج بھی فرماتے رہے۔
2003ء میں آپ نے مولاناعبدالغفورنقشبندی،مولانااحمدعلی،حاجی محمدامین اوردیگراحباب سے مل کرالنورویلفیئرٹرسٹ کے زیرانتظام حضرت امی عائشہؓ ہسپتال اورجامعہ تعلیم الاسلام کے لیے زمین خریدی اور2004ء میں آپ نے خوداس کاسنگِ بنیادرکھا۔مذکورہ ہسپتال اوردینی ادارے کے مختلف شعبہ جات سے ہزاروں لوگ مستفیدہوئے۔
2012ء میں آپ کودماغی فالج ہوااورسرکے کامیاب آپریشن کے بعدمستقل طورپرصحت یاب ہوگئے۔اس کے بعدآپ مستقل طورپرگھرمیں رہائش پذیرہوگئے۔گاہے بگاہے دوکان اورمدرسہ میں تشریف لایاکرتے جب کہ حکمت کومکمل طورپرخودترک فرماکر مولاناعبدالغفورنقشبندی کواس کی اجازت مرحمت فرمائی اورخودصرف دم وتعویذات کے ساتھ مخلوق خداکی خدمت فرماتے رہے۔
پانچ جنوری بروزاتوارتک آپ مکمل طورپرصحت یاب تھے۔اس دن بھی تین گھنٹے دوکان پرتشریف فرمارہے۔پانچ جنوری کی رات کوطبیعت خراب ہوئی۔چھ جنوری کی رات کوبے نظیربھٹوٹیچنگ ہسپتال میرپورمیں داخل ہوئے۔چودہ جنوری تک یہاں زیرعلاج رہے۔پندرہ جنوری صبح آٹھ بج کرتیس منٹ پرتیرانوے سال کی کامیاب،بھرپوراورمتحرک زندگی گزارنے کے بعدداعی اجل کولبیک کہا۔پندرہ جنوری کوبوائزڈگری کالج چک سواری میں نمازِ جنازہ کے اجتماع سے پیرطریقت حاجی محمدبوستان قادری دامت برکاتہم نے فکرآخرت پرخطاب فرمایا اورمولاناعبدالغفورنقشبندی نے والدماجدکے حالاتِ زندگی پرمختصرگفتگوفرمائی جوذیل کی سطورمیں شامل کی جارہی ہے:
حضرات محترم!میرے والدماجدنے ہمارے درمیان ایک طویل وقت گزارا۔میرے والدکی زندگی مختلف عنوانات سے معنون تھی۔آپ نے2فروری1957ء کودوکانداری شروع کی اوردوکانداری میں آپ کے بڑے عجیب اصول تھے۔جب دوکان میرے سپردکی تودوتین باتیں مجھے ارشادفرمائیں۔فرمایا:بیٹاچالیس سال میں میں نے ایک نام کمایاہے اس نام کوضائع نہ کرنا۔دوسری بات یہ فرمائی بیٹامیں کبھی تجھ سے یہ نہیں پوچھوں گا کتنے پیسے کمائے اورساری زندگی مجھ سے ایک روپیہ نہیں لیا۔فرمایاصرف دوروٹیوں کی ضرورت ہے اللہ دے گا۔بازارمیں کسی کااُدھارچھوڑکرنہیں آنامیں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے آکرکہے کہ آپ کے بیٹے نے میرے دوہزارروپے دینے ہیں۔کبھی یہ نہیں پوچھا کہ پیسے ہیں یانہیں اورمیں جب بھی لاہورگیاتودوکانداروں نے کہامال لے جاؤپیسے جب ہوں دے دینا۔پیسے جب جمع ہوجاتے میں دے آتا۔میں جب بھی اپنے ساتھ چک سواری کے دوکاندارساتھیوں کولے کرلاہورجاتا،ہمارے دوکاندارانہیں بھی کھاناکھلاتے۔ساتھی مجھ سے پوچھتے ہم ان کے گاہک نہیں ہمیں یہ کیوں کھاناکھلاتے ہیں۔میں ان کوکہتا یہ میرے والدکاکمال ہے۔
میرے والدکی زندگی کاایک پہلویہ تھاکہ آپ مخلوق خداکی خدمت کرتے تھے۔اکثرہم تنگ ہوجاتے۔رات دوبجے کوئی آدمی آگیادم کرانے والاتوآپ نے کبھی بھی اپنے ماتھے پربل نہیں لایا،اٹھے اورجاکردم کردیا۔یہ نہیں کہایاررات کے دوبجے کوئی ٹائم ہے کیوں آتے ہواس وقت بلکہ ہمیں کہتے بیٹاکوئی مجبورہوکرکسی کے درپہ آتاہے،ویسے کوئی نہیں آتا۔مخلوق خداکی خدمت کرو۔
آپ نے بے شماربچوں کوفی سبیل اللہ قرآن مجیدپڑھایا اورمسجدکی امامت کی۔کبھی مجھے کہتے بیٹامیں آپ کے لیے کچھ نہیں بناسکااگرمیں بناتاتواتنالوگوں کامال میرے پاس آتاتھاڈاک خانہ اوربینک کے ذریعے سے جوامانتیں میرے پاس آتیں میں بہت کچھ بناسکتاتھالیکن میں نے اس کوجائزنہیں سمجھا اس لیے میں نے یہ کام نہیں کیا اورامانت امانت والوں تک پہنچائی۔اتناعرصہ گزرجانے کے بعدبھی کبھی ڈاک خانہ کی غلط منی آرڈرتقسیم ہونے کی شکایت نہیں آئی۔ہرآدمی کواس کامنی آرڈرگھرمیں جاکردیا۔
کسی زمانے میں یہاں ڈاکٹربھی زیادہ نہیں تھے۔آپ نے ڈسپنسرکاکورس کیاہواتھا توگھرگھرجاکرٹیکے لگاتے۔جوآدمی گھرپرآجاتااس کوبھی ٹیکے لگاتے۔جب کوئی معاوضہ دیتاتواُسی کے پیسوں سے کوئی چیزخریدکراس کے حوالے کردیتے یہ تمہاری ضرورت ہے لے لو۔عجیب ان کی زندگی تھی ان کوقرآن مجیدپڑھنے کابڑاشوق تھا۔آپ ان کے قرآن کودیکھیں توقرآن کے اوراق اُلٹ اُلٹ کروہ جگہیں کالی ہوگئی ہیں۔کہنے لگے حافظ قرآن کے والدکوتاج پہنایاجائے گامیرابیٹاحافظ کوئی نہیں۔بڑھاپے کی عمرمیں اللہ سے دُعامانگنی شروع کی اوراللہ نے ہم سے چھوٹابھائی(راقم الحروف)بارہ سال بعددیااورآپ نے اس کوحافظ بنایا،عالم بنایا اورکہااللہ کے دین کی خدمت کرو۔آج اُن کی خواہش کے مطابق وہی آپ کونمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔“
چاربج کرتیس منٹ پرراقم الحروف نے نمازِ جنازہ کی امامت کی سعادت حاصل کی۔والد ماجدکی وفات کی خبرسے چک سواری اورملحقہ علاقوں کاہرفردمغموم اورہرآنکھ اشک بارتھی۔والد صاحب مرحوم نے زندگی بھرعوام کوجوبے پناہ محبت،شفقت اورپیاردیاجنازہ میں شریک عوام کاجم غفیراس کاواضح ثبوت تھا۔شام ڈھلتے ہی سورج اپنی کرنیں سمیٹ کرغروب ہورہاتھا اورہم اپنے بوجھل قدموں اورمغموم دل کے ساتھ حلم وحیاء،شرافت وامانت کے اس سورج کولحدکے حوالے کررہے تھے۔
اُن تمام احباب کاتہہ دل سے شکریہ جنہوں نے صبروتسلی اورتعزیت کے کلمات سے نوازا اوروالدماجدکے لیے قرآن مجید،ذکرواذکار،نوافل اورطواف بیت اللہ کرکے ایصالِ ثواب کیا۔اللہ تعالیٰ تمام کوجزائے خیرعطافرمائے۔قارئین سے گزارش ہے کہ اگرکسی کے پاس والدصاحب مرحوم کے حالاتِ زندگی کے حوالے سے کوئی بات،نصیحت اورواقعہ موجودہوتوبراہ کرم درج ذیل نمبروں 03343109525، 03465395919پررابطہ اورصوفی محمدمسکین جنرل سٹورڈاک خانہ چک سواری تحصیل وضلع میرپورآزادکشمیرپرروانہ فرماکرشکریہ کاموقع عنایت فرمائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں